شعیب بھارت نہیں جا رہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فاسٹ بولر شعیب اختر پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ساتھ بھارت کے دورے پر نہیں جا رہے۔ انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو مطلع کر دیا ہے کہ وہ مکمل فٹ نہ ہونے کے سبب ٹیسٹ سیریز کے لئے دستیاب نہیں ہیں۔ شعیب اختر نے یہ فیصلہ بھارتی دورے کے لئے پاکستانی ٹیم کے انتخاب سے ایک روز قبل کیا ہے جبکہ جمعہ کو ان کا فٹنس ٹیسٹ بھی لیا جانا تھا۔ شعیب اختر کا کہنا ہے کہ وہ ادھوری فٹنس کے ساتھ نہیں کھیلنا چاہتے۔ ڈاکٹروں نے انہیں چار سے پانچ ہفتے آرام کا مشورہ دیا ہے اگر ٹیم کو ضرورت ہوئی تو وہ ون ڈے سیریز کھیلیں گے۔ شعیب اختر نے واضح کر دیا کہ ان کے بھارت نہ جانے کے فیصلے کا تعلق ان پر عائد کئے جانے والے جرمانے سے نہیں ہے اور نہ ہی ان کے کسی سے اختلافات ہیں۔ شعیب اختر آسٹریلیا کے دورے میں ہیمسٹرنگ کی تکلیف میں مبتلا ہوگئے تھے اور پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں ون ڈے سیریز کے دوران وطن واپس بلا لیا تھا۔ لیکن وطن واپسی کے بعد سے ہی وہ فٹنس اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے معاملے کے سبب شہ سرخیوں میں تھے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے آسٹریلیا کے دورے میں ان کے مبینہ طور پر نائٹ کلب جانے، وہاں تصاویر بنوانے اور وطن واپسی پر تاخیر سے پی سی بی کے ٹرینر کو رپورٹ کرنے اور بیانات دینے پر تحقیقات شروع کر دی تھیں جو ان پر پانچ سو ڈالر جرمانے پر منتج ہوئیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے شعیب اختر کو ٹرینر کے ساتھ ایکسرسائز کرتے ہوئے ہیمسٹرنگ انجری دور کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن بعد میں انہیں پیٹرنز ٹرافی کا میچ کھیل کر فٹنس ثابت کرنے کی ہدایت کی گئی۔ شعیب اختر نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ وہ اس بات سے بھی خوش نہیں تھے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے ٹرینر کے ساتھ ٹریننگ کرنے کی انہیں ہدایت تو کر دی لیکن ٹرینر گرانٹ کامپٹن چھٹیاں منانے جنوبی افریقہ چلے گئے تھے۔ شعیب اختر کی فٹنس دیکھتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ نے یہ واضح کر دیا تھا کہ مکمل فٹ ہونے کی صورت میں ہی انہیں ٹیم میں شامل کیا جائے گا۔ پاکستانی بولنگ اٹیک اس وقت اہم بولرز کے فٹ نہ ہونے کے سبب کمزور دکھائی دیتا ہے۔ شعیب ا ختر کے علاوہ شبیر احمد اور عمر گل بھی سو فیصد فٹ نہیں ہیں جبکہ محمد سمیع کا کیریئر بھی فٹنس پرابلم کا شکار ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||