BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 February, 2005, 05:31 GMT 10:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ٹیم میں ہیں مگر سزا ملے گی‘

شعیب کے خلاف الزامات کی نوعیت اتنی سنگین نہیں کہ انہیں ٹیم میں شامل نہ کیا جائے
شعیب کے خلاف الزامات کی نوعیت اتنی سنگین نہیں کہ انہیں ٹیم میں شامل نہ کیا جائے
پاکستان کرکٹ بورڈ کی قائم کردہ نظم وضبط کا جائزہ لینے والی کمیٹی جمعرات کو تیز گیند پھیکنے والے پاکستانی بالر شیعب اختر کے خلاف آسٹریلوی دورے کے دوران کی جانے والی ضابطہء اخلاق کی مبینہ خلاف ورزیوں کا جائزہ لےگی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے شیعب کے خلاف الزامات کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بنائی تھی جس نے شیعب اختر کا مؤقف سننے کے بعد اپنی سفارشات ڈسپلنری کمیٹی کو بھجوا دیں ہیں۔

جمعرات کو ہونے والے اپنے اس اجلاس میں ڈسپلنری کمیٹی شیعب اختر کا مؤقف بھی سنے گی اور پھر فیصلہ کرے گی کہ شیعب اختر کو کیا سزا دی جائے۔

لیکن اس سزا کی نوعیت کیا ہوگی کیا اس سزا کا اثر شیعب اختر کی پاک بھارت کرکٹ سیریز کے لیے ٹیم میں انتخاب پر بھی پڑے گا۔

اس ضمن میں تحقیقاتی کمیٹی کے رکن اور پی سی بی کے انتظامی امور کے ڈائریکٹر عباس زیدی کا کہنا ہے کہ شیعب اختر پر الزامات کی نوعیت ایسی نہیں کہ جس کا اثر ان کے ٹیم میں انتخاب کو متاثر کرے۔

عباس زیدی نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں کھیلنے پر پابندی اس صورت میں قائم کی جاتی ہے اگر الزامات بہت شدید نوعیت کے ہوں تاہم شیعب اختر پر الزامات اتنے شدید نہیں کہ ان کو ٹیم میں شامل ہی نہ کیا جائے البتہ کوئی تادیبی کارروائی ضرور ہو گی لیکن اس کا اثر ان کے ٹیم میں انتخاب پر نہیں ہوگا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر کرکٹ آپریشن سلیم الطاف کے بقول بھی شیعب اختر کو جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے اور اس سزا کا ٹیم کے انتخاب سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔

پی سی بی کے ان دونوں اعلی اہلکاروں کی بات سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ڈسپلنری کمیٹی کے جمعرات کو ہونے والے اجلاس سے شیعب کی دورہ بھارت کے لیے ٹیم میں شمولیت کو کوئی خطرہ نہیں۔

ایک اور بات جو شیعب کے ٹیم میں شمولیت کی راہ میں رکاوٹ ہے وہ ہے شیعب کی فزیکل فٹنس۔

شیعب اختر نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی ہدایات کے باوجود پیٹرنز ٹرافی کے میچ میں شرکت اس بناءپر نہیں کی کہ ان کی ہیم سٹرنگ میں ابھی تکلیف ہے ادھر پاکستان کے غیر ملکی فزیو ٹھراپسٹ نے شیعب اختر کو اٹھارہ فروری تک آرام کا مشورہ دیا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے پہلے ٹیم کے اعلان کی تاریخ اٹھارہ فروری دی تھی لیکن پیر چودہ فروری کو پی سی بی نے ٹیم کے اعلان کی تاریخ انیس فروری دے دی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ نے کہا کہ چونکہ غیر ملکی فزیو تھراپسٹ ،ٹرینر اور کوچ اٹھارہ فروری کو لاہور پہنچیں گے اور وہ انیس فروری کو میڈیکل بورڈ کے ساتھ مل کر چار کھلاڑیوں شیعب اختر،محمد سمیع، محمدخلیل اور شبیر احمد کی فٹ نس کاجائزہ لیں گے اور اس فٹنس رپورٹ کے بعد ٹیم کا اعلان کیا جا سکے گا۔

باوثوق ذرا‏ئع کے مطابق سمیع اور خلیل فٹ ہو چکے ہیں اور انہوں نے اپنی فٹنس ظاہر کر دی ہے جبکہ شبیر کی تکلیف ایسی ہے کہ وہ جلد بالنگ کرنے کے لیے فٹ نہیں ہو سکتے لہذا غالب امکان یہ ہے کہ یہ فٹنس ٹیسٹ خاص طور پر شیعب اختر کی فٹنس کو جانچنے کے لیے ہی لیا جا رہا ہے کیونکہ پٹرنز ٹرافی کا میچ کھلنے سے شیعب اختر کے انکار کے بعد ایسا کوئی طریقہ نہیں تھا کہ جس سے اس کی فٹ نس کا جائزہ لیا جا سکے۔

اس ساری صورتحال سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ شیعب کے پاک بھارت سریز کے لیے ٹیم میں انتخاب کے امکانات روشن ہیں بلکہ اس ضمن میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے رویے میں بھی لچک دکھائی دیتی ہے۔

مبصرین کے خیال میں پاک بھارت سیریز دونوں ملکوں کے لیے حساس نوعیت کی حامل ہوتی ہے اور اس سیریز کے لیے شیعب اختر جیسے فاسٹ بالر کے خلاف فیصلہ لینے سے کرکٹ بورڈ بھی کترا رہا ہے ہاں اگر کسی اور ملک کے خلاف سیریز ہوتی تو شاید کرکٹ بورڈ اسے نظم و ضبط کی خلاف ورزی کرنے پر کڑی سزا دیتا اور ٹیم میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کرتا۔

عمران خانتیز کام آئیں گے
عمران خان کہتے ہیں تیز بالر سیریز جتوا سکتے ہیں
چھوٹا نام، بڑا کام
آسٹریلیا میں پاکستان کا سب سے کامیاب بولر
کیا کوئی ہے؟؟
پاکستانی ٹیم کے لیے بولنگ کوچ کی ضرورت
انضمامکرکٹ کا ’یدھ‘
انضمام الحق کرکٹ کے ’میدانِ جنگ‘ میں
شمولیت پھرمشکوک
شعیب اختر کی ڈسپلنری کمیٹی کے سامنے پیشی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد