رانانوید: چھوٹا نام، بڑا کام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی بولنگ اٹیک جو شعیب اختر اور محمد سمیع کے ان فٹ ہوجانے سے بکھرنے کے قریب تھا اسے رانا نویدالحسن نے فیلڈ میں محنت اور خوب سے خوب کارکردگی دکھانے کے عزم سے حریف ٹیم کے لیے ترنوالہ بننے سے بچالیا۔ آسٹریلیا میں کھیلی گئی سہ فریقی ون ڈے سیریز میں ان کی بولنگ کپتان انضمام الحق کے لیے ڈھارس بنی رہی۔ بریٹ لی کی16 وکٹوں کے بعد وہ 14وکٹوں کے ساتھ دوسرے سب سے کامیاب بولر رہے۔ شعیب اختر جیسی مقناطیسی کشش کا حامل نہ ہونے کے باوجود رانا نویدالحسن کا تذکرہ آج کرکٹ کا ہر مبصر کررہا ہے اس کی وجہ گیند کی رفتار نہیں بلکہ وہ ریورس سوئنگ ہے جو مدمقابل بیٹسمینوں کے دفاع کو توڑنے کے لیے مہلک ہتھیار ثابت ہورہی ہے۔ انگلینڈ کے سابق کپتان مائیک ایتھرٹن کا کہنا ہے کہ گیند کو دونوں طرف سوئنگ کرنے کی یہ خصوصیت موجودہ بولرز میں صرف چمندا واس اور رانا نویدالحسن کے پاس ہے۔ رانانویدالحسن کے لیے خوشی کا پہلا لمحہ اسوقت آیا جب دس ستمبر2001 ءکو انہیں نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے سولہ کھلاڑیوں میں شامل کیا گیا لیکن اگلے ہی روز ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے واقعے نے نیوزی لینڈ کی ٹیم کے پاکستان کے دورے کو ختم کردیا اور رانا نویدالحسن کی کرکٹ ایک بار پھر پاکستان کے ڈومیسٹک سیزن تک محدود ہوگئی۔ اگلے سال وہ نیوٹرل گراؤنڈ پر آسٹریلیا سے سیریز کھیلنے والی ٹیم میں شامل تھے لیکن انہیں ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں آنے کا موقع2003ء کے شارجہ کپ میں ملا جہاں وہ سری لنکا اور کینیا کے خلاف دو میچ کھیلے۔ رانا نویدالحسن کے لیے پہلا بڑا امتحان بھارت کے خلاف کراچی میں ہونے والا ون ڈے انٹرنیشنل تھا۔ بھارتی بیٹسمینوں نے ان کے پہلے ہی اوور میں24 رنز بناڈالے تاہم انہوں نے اس اننگز میں تین وکٹیں حاصل کیں لیکن بیٹنگ میں وہ اور معین خان پاکستان کو جیت سے ہم کنار نہ کرسکے۔ رانا نویدالحسن کی پاکستانی ٹیم میں مستقل جگہ اسوقت بنی جب باب وولمر کوچ بنے انہوں نے رانا کو اعتماد دیا یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ہر میچ کے ساتھ ان کی کارکردگی بہترہوتی چلی گئی۔ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں انہوں نے بھارت کے خلاف25 رنز کے عوض4 وکٹوں کی متاثرکن کارکردگی دکھائی لیکن اپنے ہی میدانوں پر سہ فریقی سیریز میں وہ مہنگے رہے۔ گزشتہ سال سری لنکا کے خلاف کراچی میں شعیب اختر اورمحمد سمیع کے ان فٹ ہونے کے بعد رانا نے ایک اور نئے بولر ریاض آفریدی کے ساتھ ٹیسٹ کرکٹ کا آغاز کیا اور دوسری اننگز میں تین وکٹیں حاصل کیں جو دانش کنیریا کی سات وکٹوں کی شاندار پرفارمنس کے بعد دوسری عمدہ کارکردگی تھی۔ اسی طرح آسٹریلیا کے خلاف سڈنی ٹیسٹ میں کنیریا کی زد سے بچنے والی تین وکٹیں رانا کے حصے میں آئیں۔ ون ڈے سیریز میں شعیب اختر اور محمد سمیع کی کمی کو پورا کرتے ہوئے رانا نویدالحسن نے دل وجان سے بولنگ کی جس کا نتیجہ 14 وکٹوں کی عمدہ کارکردگی کی صورت میں سامنے آیا۔ برائن لارا، سروان اور چندرپال ہوں یا پونٹنگ، گلکرسٹ اور کلارک یہ سب رانا کو معمولی بولر سمجھنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ سہ فریقی ون ڈے سیریز کے فائنل سے قبل وہ لمحہ بھی آیا جب رانا کو اپنے والد کے انتقال کی خبر ملی وہ کہتے ہیں” میدان سے خوشی خوشی ہوٹل آیا تو فون پر پیغام تھا کہ فورا گھر بات کروں جہاں یہ افسوسناک خبر میری منتظر تھی اس مرحلے پر کچھ سمجھ میں نہیں آرہاتھا کہ کیا کروں لیکن والدہ نے حوصلہ دیا کہ مجھے ٹیم کے ساتھ ہی رہنا چاہیے کیونکہ اسے میری ضرورت ہے۔ رانا کا کہنا ہے ’میرے والد شیخوپورہ اسپورٹس ٹیچر تھے اور میری کرکٹ میں ان کا بہت اہم کردار رہا صبح سویرے اٹھاکر میدان لے جانا ورزش کرانا اور کرکٹ میں دلچسپی لینا ان کا معمول تھا جو میں کبھی نہیں بھول سکتا‘۔ رانا اس ماہ کی اٹھائیس تاریج کو ستائسویں سالگرہ منائیں گے انہیں اس بات کا کوئی افسوس نہیں کہ ان کی انٹرنیشنل کرکٹ قدرے تاخیر سے شروع ہوئی ہے وہ کہتے ہیں ’خدا جو بھی کرتا ہے اچھا کرتا ہے‘۔ کچھ عرصہ قبل پاکستانی ٹیم میں وسیم اکرم وقار یونس اور عاقب جاوید جیسے بولر تھے لہذا میری جگہ کیسے بنتی۔ میں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلتا رہا اور وکٹیں لیتا رہا اللہ نے محنت کا صلہ دیا۔ بولنگ کو بہتر کرنے کے سلسلے میں رانا کو وسیم اکرم اور وقار یونس کی رہنمائی رہی ہے۔ جبکہ کپتان انضمام الحق نے بھی ہمت بڑھائی ہے۔ رانا اپنی عمدہ کارکردگی کے سلسلے کو بھارت کے دورے میں بھی جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||