شعیب کی ٹیم میں شمولیت مشکوک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فاسٹ بولر شعیب اختر کی بھارت کے دورے کے لئے پاکستانی ٹیم میں شمولیت کا معاملہ پیچیدہ صورت اختیار کرتا جارہا ہے اس کا انحصار ان کی فٹنس کے ساتھ ساتھ ڈسپلنری کمیٹی کے فیصلے پر بھی ہوگا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے شعیب اختر کو ہدایت کی ہے کہ وہ جمعرات کو ڈسپلنری کمیٹی کے سامنے پیش ہوں یہ کمیٹی جسٹس ( ریٹائرڈ) امیرعالم خان ، مقبول الہی ملک اور عبدالسلام خاور پر مشتمل ہے۔ شعیب اختر اس سے قبل اس کمیٹی کے سامنے بھی پیش ہوچکے ہیں جو ان پر سینٹرل کنٹریکٹ کی خلاف ورزی کے الزامات کی تحقیقات کے لئے قائم کی گئی تھی اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ اب ڈسپلنری کمیٹی کو دے دی ہے جو شعیب اختر کا موقف بھی سننا چاہتی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ شعیب اختر پر آسٹریلیا کے دورے میں نائٹ کلب جانے، وہاں تصاویر بنوانے ، آسٹریلیا سے وطن واپسی پر اکیڈمی میں تاخیر سے رپورٹ کرنے اور اخباری بیانات دینے کی تحقیقات مکمل کرچکا ہے۔ شعیب اختر نے ان تمام الزامات سے انکار کیا ہے۔ شعیب اختر کے قریبی حلقے موجودہ صورتحال کو ایک ایسے کھیل کے طور پر دیکھ رہے ہیں جس کا مقصد شعیب اختر کے اعصاب سے کھیلنا اور انہیں سبق سکھانا ہے کیونکہ بقول ان حلقوں کے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ٹرینر اور فزیو یہ کہہ چکے ہیں کہ شعیب اختر کو ہمسٹرنگ انجری کے سبب اٹھارہ فروری تک آرام کی ضرورت ہے تاکہ ان کی تکلیف دور ہوسکے تو پھر پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر کرکٹ آپریشنز سلیم الطاف نے یہ نیا تنازعہ کیوں کھڑا کیا کہ شعیب اختر کو فٹنس ثابت کرنے کے لئے پیٹرنز ٹرافی کا میچ کھیلنا ہوگا۔ بھارت کے دورے کے لئے پاکستانی ٹیم کا انتخاب اب جمعہ کے بجائے ہفتے کو ہوگا کیونکہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے جنوبی افریقی کوچ ٹرینر اور فزیو سب چھٹیاں منانے وطن چلے گئے ہیں ان کے آنے کے بعد ہی وہ تمام کھلاڑیوں کی فٹنس دیکھیں گے اور اس بارے میں سلیکٹرز کو مطلع کرینگے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||