پاک بھارت کرکٹ پر بالی ووڈ کی فلم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالی ووڈ نے پاک بھارت کرکٹ کے موضوع پر ایک فلم بنائی ہے جو جمعہ کو ریلیز کی گئی ہے۔ فلم ’سائیلنس پلیز دی ڈریسنگ روم‘ یا ’برائے مہربانی خاموشی اختیار کریں یہ ڈریسنگ روم ہے، میں دونوں ٹیموں کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی دکھائی گئی ہے۔ فلم کی کہانی سرینگر میں دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلے گئے ایک خیرسگالی میچ کے گرد گھومتی ہے۔ کہانی میں اہم موڑ اس وقت آتا ہے جب ایک عسکریت پسند گروہ سٹیڈیم کو بم سے اڑانے کی دھمکی دیتا ہے۔ یہ کہانی ہے تو غیر حقیقی لیکن یہ موجودہ کرکٹ سیریز شروع ہونے سے قبل پائے جانے والے خوف وخِدشات کی عکاسی کرتی ہے۔ فلم میں میچ جاری رہنے کی صورت میں دو گروہ سٹیڈیم تباہ کرنے کی دھمکی دیتے ہیں پھر ایک ٹی وی رپورٹر اس سازش کا پردہ چاک کرتا ہے اور پولیس کو مطلع کرتا ہے۔ اس کوشش کو ناکام بنادیا جاتا ہے اور میچ بخیریت ختم ہوجاتا ہے۔
فلم ڈائرکٹر سنجے سرنواس کا کہنا ہے کہ یہ فلم کرکٹ کے ذریعے امن کو فروغ دینے کے مقصد سے بتائی گئی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ کھیل ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس سے دونوں ممالک کے تعلقات بہتر بنائے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے ان قیاس آرائیوں کی تردید کی ہے کہ کرکٹ سیریز کے دور میں یہ فلم انہوں نے پیسے کمانے کے لئے بنائی ہے۔ سنجے سرنواس کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس فلم کا سکرپٹ اگست 2003 میں لکھا تھا۔ اس سے قبل گزشتہ برس ورلڈ کپ سے قبل اسی نام کا ایک ڈرامہ ممبئی میں دکھایا گیا تھا۔ فلم میں ڈریسنگ روم کے حالات بھی دکھائے گئے ہیں۔ جہاں جذبات، غیبت، بحث مباحثہ حٰتی کہ جسمانی تشدد بھی ہوتے دکھایا گیا ہے۔ ڈریسنگ روم میں پاکستانی کپتان کو اپنے موبائل فون پر بات کرتے دکھایا گیا ہے جہاں موبائل کا استعمال ممنوع ہے۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ میچ کون جیتتا ہے؟ سنجے سرنواس نے اس کا جواب دینے سی گریز کیا اور کہا „یہ جاننے کے لئے آپ کو فلم دیکھنا ہوگی‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||