BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 January, 2004, 11:23 GMT 16:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارتی فلمی کہانیاں، تجدید کی کوشش

دیوداس کے پوسٹر

بھارتی فلم انڈسٹری کی بیشتر فلمیں ایسی سچی محبت کی داستانوں پر مبنی ہوتی ہیں جو بالآخر مخالف قوتوں پر حاوی آجاتی ہیں اور ہر سال لاکھوں افراد دنیا بھر میں شوق سے یہ فلمیں دیکھتے ہیں۔

تاہم بظاہر ٹھیک ٹھاک نظر آنے والی فلمی صنعت کئی اندرونی مسائل سے دوچار ہے۔ فلمی صنعت کا منافع بہت تیزی سے گررہا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ گرتے ہوئے کاروبار کی بنیادی وجہ وہ فلمی کہانیاں ہیں جن کا انجام ایک سا ہوتا ہے اور فلم دیکھنے والا اس انجام سے واقف ہوتا ہے۔

ایک کے بعد دوسری اور پھر تیسری فلم کی کہانی آج کل ایک سی ہوتی ہے سوائے نئے چہروں اور نئے ناچ گانوں کے۔

اس رجحان کو بدلنے کے لئے بھارتی حکومت کے اشتراک سے ایک تنظیم نے ملک بھر میں فلمی سکرپٹ لکھنے کے ایک مقابلے کا اعلان کیا ہے۔ مقابلے کے بعد پانچ بہترین سکرپٹس کا انتخاب کیا جائے گا۔

نیشنل فلم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن این ایف ڈی سی کا کہنا ہے کہ بہترین سکرپٹ لکھنے والے کو دس ہزار ڈالر کا انعام دیا جائے گا۔ ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سال کے اختتام تک بہترین سکرپٹ کا انتخاب کرلیا جائے گا۔

کچھ سکرپٹس کو فلمیں بنانے کے لئے استعمال کیا جائے گا جبکہ کچھ ان فلمی پروڈیوسرز کو بیچ دئے جائیں گے جو انیں خریدنے میں دلچسپی ظاہر کریں گے۔

ادارے کے سربراہ دیپنکر مکھوپادھے کا کہنا ہے کہ یہ مقابلہ فلمی صنعت کے لئے مزید وسائل اور منافع کا باعث ہوگا۔

ان کا کہنا ہے کہ دوہزار تین میں بالی ووڈ نے دو سو چھیالیس فلمیں ریلیز کیں جن میں سے صرف ایک سپرہٹ ہوئی ہے‘۔

ان کا کہنا ہے زیادہ فلمیں اس لئے فلاپ ہوئی ہیں کیونکہ وہ اچھی فلمیں نہیں تھیں۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ محبت کی گھسی پٹی داستانوں، ماں بیٹے کے جذباتی رشتوں یا جدا ہونے والے بھائیوں کا ذکر چھوڑ کر فلمی کہانیوں کا دائرہ وسیع کیا جائے۔

ایک حالیہ فلم کا اشارہ دیتے ہوئے دیپنکرمکھوپادھے نے کہا ’ایک سپر سٹار کو دل کا مریض دکھایا جاتا ہے اور پھر وہی مریض بھنگڑے کے شوخ میوزک پر ناچ بھی رہا ہے۔ یہ تو بے تکی بات ہوئی‘۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر فلم کی ضرورت ہو تو عملے کو ضرور ملک سے باہر جانا چاہئے لیکن محض ایک گانے کی عکسبندی میں ایک پھولوں کا باغ یا آبشار دکھانے کے لئے ملک سے باہر جانا عقلمندی نہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد