بالی وڈ کو برطانیہ کی ترغیب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی حکومت کی مدد سے بھارتی فلمی صنعتکاروں کو لیسٹرمیں فلم سازی کرنے کی ترغیب دینے کے لیے تین کروڑ تیس لاکھ پاونڈ کی ایک سکیم کا اجرا کیا جا رہا ہے۔ اس نئی سکیم کے تحت بھارت فلمی صنعت بالی وڈ کے ہدایت کاروں اور فلم سازوں کو انگلینڈ میں فلمیں بنانے پر ٹیکس میں چھوٹ بھی دی جائے گی۔ لیسٹر میں فلم سازی کے لیے سب سے بڑی کشش وہاں رہنے والی بھارت نژاد لوگوں کی آبادی ہے جو کہ شہر کی کل آبادی کا پچس فیصد ہے۔
اس سکیم کا افتتاح برطانوی صنعت اور تجارت کی وزیر پٹریشیا ہیوٹ کریں گی اور اس کو لیسٹر کی سٹی کونسل کا تعاون بھی حاصل ہے۔ اس سکیم کے تحت سرمایہ لگانے والوں کو خصوصی ٹیکس مراعات بھی دی جائیں گی اور اس سے برطانیہ میں فلم سازی کی صنعت کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
ایک بھارتی فلم ساز نے کہا کہ بلاشبہ انھیں ایک ایسی جگہ چاہیے تھی جہاں ہندی بولنے والے رہتے ہوں اور وہ فلموں میں ایکسٹرا کے طور پر کام کر سکیں۔ برطانیہ میں اس سے پہلے بھی ہندی فلمیں بنتی رہی ہیں جن میں ’کبھی خوشی کبھی غم ‘ جیسی مشہور فلم بھی شامل تھی لیکن بڑے پیمانے پر ہندی فلمیں بنانے کا یہ پہلا منصوبہ ہے۔ بھارتی فلم کے ایک اداکار دیپک مجیٹھیا نے بی بی سی کو بتایا کہ بالی وڈ کے ہدایت کار انگلینڈ میں خوبصورت مقامات کی وجہ سے یہاں فلمیں بنانے میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انگلینڈ میں لوگ بالی وڈ کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ دنیا بھر میں فلمیں بنانے کی سب سے بڑی صنعت ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||