BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 10 February, 2004, 17:13 GMT 22:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بالی وڈ کو برطانیہ کی ترغیب
اشوریا
برطانوی حکومت کی مدد سے بھارتی فلمی صنعتکاروں کو لیسٹرمیں فلم سازی کرنے کی ترغیب دینے کے لیے تین کروڑ تیس لاکھ پاونڈ کی ایک سکیم کا اجرا کیا جا رہا ہے۔

اس نئی سکیم کے تحت بھارت فلمی صنعت بالی وڈ کے ہدایت کاروں اور فلم سازوں کو انگلینڈ میں فلمیں بنانے پر ٹیکس میں چھوٹ بھی دی جائے گی۔

لیسٹر میں فلم سازی کے لیے سب سے بڑی کشش وہاں رہنے والی بھارت نژاد لوگوں کی آبادی ہے جو کہ شہر کی کل آبادی کا پچس فیصد ہے۔

News image
انگلینڈ میں ہندی فلموں کی ایک بڑی مارکیٹ ہے

اس سکیم کا افتتاح برطانوی صنعت اور تجارت کی وزیر پٹریشیا ہیوٹ کریں گی اور اس کو لیسٹر کی سٹی کونسل کا تعاون بھی حاصل ہے۔

اس سکیم کے تحت سرمایہ لگانے والوں کو خصوصی ٹیکس مراعات بھی دی جائیں گی اور اس سے برطانیہ میں فلم سازی کی صنعت کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

News image
بھارتی فلم ساز بھی انگلیڈ میں فلم سازی کرنا چاہتے

ایک بھارتی فلم ساز نے کہا کہ بلاشبہ انھیں ایک ایسی جگہ چاہیے تھی جہاں ہندی بولنے والے رہتے ہوں اور وہ فلموں میں ایکسٹرا کے طور پر کام کر سکیں۔

برطانیہ میں اس سے پہلے بھی ہندی فلمیں بنتی رہی ہیں جن میں ’کبھی خوشی کبھی غم ‘ جیسی مشہور فلم بھی شامل تھی لیکن بڑے پیمانے پر ہندی فلمیں بنانے کا یہ پہلا منصوبہ ہے۔

بھارتی فلم کے ایک اداکار دیپک مجیٹھیا نے بی بی سی کو بتایا کہ بالی وڈ کے ہدایت کار انگلینڈ میں خوبصورت مقامات کی وجہ سے یہاں فلمیں بنانے میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انگلینڈ میں لوگ بالی وڈ کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ دنیا بھر میں فلمیں بنانے کی سب سے بڑی صنعت ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد