BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Monday, 30 May, 2005, 10:54 GMT 15:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایل کے اڈوانی کا دورۂ پاکستان
لعل کرشن اڈوانی اور جنرل مشرف نئی دہلی میں ایک ملاقات کے دوران
اڈوانی اور مشرف نئی دہلی میں ایک ملاقات کے دوران
بھارت میں حزب اختلاف کے رہنما اور بھارتیہ جنتا پارٹی کےصدر ایل کے اڈوانی تیس مئی سے پاکستان کا دورہ کررہے ہیں۔ وہ صدر پرویز مشرف، وزیراعظم شوکت عزیز اور حزبِ اختلاف کے مختلف رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔ لعل کرشن اڈوانی پاکستانی حکومت کی دعوت پر ایک ہفتے کا دورہ کریں گے۔ ان کے ایک بیان کے مطابق ان کے اس دورے سے دونوں ملکوں کےدر میان جاری عوامی رابطے کی مہم کو مزید فروغ ملےگا۔

اڈوانی کے مطابق یہ دورہ سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کی پائیدار امن کی کوششوں کا ہی ایک حصہ ہے جس کی شروعات انہوں نے جنوری 2004 میں کی تھی۔ انہوں نے ذاتی طور پر اپنے دورۂ پاکستان کو بڑی اہمیت کا حامل بتایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ وہ کراچی میں پیدا ہوئے تھے اس لئے وہاں اتنے برسوں بعد جانا بالکل ایسا ہی جیسے اپنی اصل کی طرف واپس ہوناہو۔ اڈوانی اسلام آباد کے علاوہ لاہور، کراچی اور اپنے آبائی شہر حیدرآباد سندھ کا دورہ کریں گے۔ اس سے قبل انہوں نے 1979 میں اطلاعات و نشریات کے وزیر کی حیثیت سے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ لعل کرشن اڈوانی کا شمار بی جے پی کے سخت گیر ہندو رہنماؤں میں ہوتا ہے۔

لعل کرشن اڈوانی کا یہ دورہ ایک ایسے وقت ہورہا ہے جب حریت کانفرنس کے رہنما بھی پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کا دورہ کرنے والے ہیں، لیکن حریت کے سخت گیر رہنما سید علی شاہ گیلانی نے پاکستان جانے کی دعوت مسترد کردی ہے۔ سید علی شاہ گیلانی کے دھڑے کے مطابق وہ اس بات پر ناراض ہیں کہ پاکستان نے کشمیر کے منقسم خطہ کے بارے میں اپنے موقف میں نرمی پیدا کر دی ہے۔

لعل کرشن اڈوانی کے پاکستان دورے سے آپ کی کیا توقعات ہیں؟ حریت رہنماؤں کا کشمیر دورہ اور سید علی شاہ گیلانی کا پاکستان نہ جانے کا فیصلہ آپ کی نظر میں کیا اہمیت رکھتے ہیں؟

آپ کی رائے

اب یہ فورم بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔


فیصل چانڈیو، حیدرآباد:
یہ وہی اڈوانی ہیں جو کچھ ٹائم پہلے تک ہمارے ملک کو دھمکیاں دیتے تھے اور یہ کوشش ہوتی تھی کہ پاکستان کو دنیا سے الگ کیا جائے۔ اب وہ کس آشیرواد سے ادھر آرہے ہیں؟ پاکستان نے تو اپنی ہر چال بدلی ہے، اب ان کی چالیں دیکھیں۔

عمران، امریکہ:
آج اڈوانی آرہا ہے، کل ایریئل شیرون آئے گا۔ لوگوں نے میرے صحن میں راستہ بنالیا۔۔۔۔

فاتح عزیز:
میری رائے میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان رابطوں کی اس نئی لہر سے دونوں ملکوں کے عوام کا ہی فائدہ ہے۔ کیوں کہ اس خطے میں جب تک امن نہیں ہوگا، یہاں کے عوام کے حالات اس وقت تک درست نہیں ہوسکتے۔

منصور احمد بلوچ، تربت:
ہم بہت خوش ہیں،ہم امن چاہتے ہیں، جنگ نہیں۔ ہم انڈین رہنماؤں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

سلیم نواز خان، لاہور:
اس میں کوئی سرپرائز نہیں ایک اور ’موسٹ وانٹیڈ‘ ہمارا اسٹیٹ گیسٹ ہوگا۔ ایک اور موسٹ وانٹیڈ ایک صوبے کا گورنر ہے۔۔۔۔

فاروق منہاس، چکوال:
میرے خیال میں ایل کے اڈوانی صاحب کا دورۂ پاکستان کسی بھی اہمیت کا حامل نہیں ہوگا کیوں کہ ان کے دورے کا مقصد ہمیشہ وقت گزارنا ہوتا ہے۔ اگر جنرل مشرف سے ان کا کوئی معاہدہ بھی ہو جائے لیکن جب تک پاکستان عوام اور کشمیری نہیں چاہیں گے اس وقت تک ان کا دورہ مزاق تصور ہوگا۔ پاکستان اور کشمیری ان کے دورے کو بلامقصد اور محض سیر و تفریح گردانتے ہیں۔

احمد محمد خان، کینیڈا:
کبھی تو اڈوانی پاکستان کی پولیس کی نظر میں ملزم ہوتے ہیں تو کبھی پاکستان کی حکومت ان کو وِزٹ کی دعوت دیتی ہے۔ یہ ہمارا دہرا رویہ کیوں ہے؟

محمد اکمل، دوبئی:
میرے خیال سے ایسے کڑے وقت میں ایسے انتہا پسند آدمی کو پاکستان کا دورہ کرنا اچھا اور صحیح سمت جانے کا اشارہ ہے کیوں کہ یہ وہ آدمی ہے جس نے اور جس کی پارٹی نے آج تک پاکستان کو تسلیم نہیں کیا۔ لیکن اب اس کا پاکستان کا دورہ کرنا پاکستان کو تسلیم کرنا ہے اور ہمیں اپنی مہمان نوازی سے اس کو بتانا چاہئے کہ مسلم کبھی کسی کا برا نہیں سوچا کرتے۔۔۔۔

اشرف اقبال، انگلینڈ:
عمر تو ساری کٹی عشق بتاں میں مومن، آخری وقت میں کیا خاک مسلمان ہوں گے۔۔۔۔

جلال الدین خوش وقت، سعودی عرب:
میرے خیال میں مسٹر ایل کے اڈوانی کا دورہ ایک گولڈن چانس ہے دونوں ممالک کے لئے، دونوں ممالک کے درمیان امن قائم کرنے کے لئے۔

جاوید، جاپان:
محترم یہ سب سیاست ہے جس میں سب جائز ہے۔ جہاں تک اڈوانی جی کا تعلق ہے وہ کیا تھے اور کیا کیا مسلمانوں کے ساتھ، کیا نہیں کیا پاکستان کو دنیا میں بدنام کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی، تو وہ ان کا فرض تھا کیوں کہ وہ بھارتی ہیں اور ان کا فرض تھا۔ ویسے پاکستانی بھی کچھ کم نہیں ہیں، مثالیں ہیں کہ اب دونوں طرف والوں کو کچھ عقل آئے تو ٹھیک ہے نا، ہم تو صرف امن کی دعا کرتے ہیں۔۔۔۔

فرحان خان، حیدرآباد دکن:
اس ذلیل شخص کو بلاکر پاکستان بہت بڑی غلطی کررہا ہے۔۔۔۔۔

ریبیکا عالم، سویڈن:
انڈیا اور پاکستان کو ایک دوسرے کے قریب آنا چاہئے تاکہ بیسٹ مستقبل اور بزنس کے بہتر مواقع دونوں ملکوں کے لوگوں کو مہیا ہوسکیں جو برسوں سے مشکلات کا شکار ہیں۔ پاکستان کو بہتر پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے، ورنہ چین اور انڈیا کے درمیان تعاون سے پاکستان کے بزنس کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

شاہزیب خان، ایتھنز:
بڑی دیر لگا دی مہرباں آتے آتے۔۔۔

علی عمران شاہین، لاہور:
بےشمار بھارتی مسلمانوں اور بابری مسجد کی شہادت میں پوری طرح شرکت اور سرپرستی کرنے والا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سرکاری دورہ کرے گا یہ تو ہم کبھی تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ اب اڈوانی کو مسلمان کو کہیں یا اس کو دعوت دینے والوں کو ہندو یہ بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔۔۔۔۔

فیصل انعام، دوبئی:
اڈوانی پاکستان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ حریت کانفرنس کو ناکام کرنے آرہا ہے۔ اڈوانی امریکہ کو نظر نہیں آتا کہ جس تنظیم کی وہ رہنمائی کرتا ہے وہ کتنی بڑی دہشت گرد تنظیم ہے۔

کاشف شیروانی، ماڈل ٹاؤن:
پاکستان اور انڈیا کے تعلقات کے حوالے سے یہ دورہ اہم ہے۔ اڈوانی کا ماضی انڈیا کے مسلمانوں کے لئے کوئی بہت خوشگوار تو نہیں ہے لیکن جب دو قوموں کے تعلقات خراب ہوں تو پھر انتہا پسندی ہی جنم لیتی ہے۔ اور یہ انتہا پسندی تو مسلمانوں میں بھی ہے تو اڈوانی کی انتہا پسندی کا اتنا گِلہ کیوں ہے؟ ویسے بھی میں سمجھتا ہوں کہ اگر انڈیا کے انتہا پسند آپ کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں تو ہم مسلمان کیوں پیچھے ہٹیں؟ ہم مسلمانوں کو تو اس معاملے میں کھلے دل کا ہونا چاہئے۔ میری رائے میں اڈوانی صاحب کا یہ دورہ اس خطے میں ہندو مسلم تعلقات کے حوالے سے بہت اہم ہوگا اور پاکستان کو امن کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہئے۔

اعجاز احمد:
مجھے تو یہ یاد آرہا کہ ’بغل میں چھڑی منہ میں رام رام۔ یہ نو سو چوہے کھاکر بلی چلی حج کو۔۔۔۔‘

عبدالحلیم صابر سلیمانی، مانسہرہ:
ایل کے اڈوانی مسلمانوں کے کٹر دشمن ہیں۔ اس کی اس طرح پزیرائی سے کشمیری مسلمانوں کی دل آزاری ہوگی۔ پاکستان میں اس کے خلاف ایف آئی آر بطور مجرم درج ہے، اس کو گرفتار کیا جائے۔

سیدحیدر رضا رضوی، کینیڈا:
لیڈر ہمیشہ لیڈر ہی ہوتا ہے۔ کسی کو نہ نہیں معلوم کب بدل جائے گا۔ لیکن لیڈر کو سمجھنا چاہئے کہ اس کے اقدام سے کتنے لوگ مارے گئے۔ اڈوانی ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف رہے اور انڈیا میں مسلمانوں کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔

فاروق لدھیانوی، پاکستان:
یہ سب کٹھ پتلیاں ہیں جن کو امریکن دور سے نچا رہے ہیں۔ غریب پاکستانیوں کے ٹیکس کی رقم ان دشمنان اسلام کے پروٹوکول میں خرچ ہورہی ہے۔۔۔گ

عمران خان سیال، کراچی:
مجھے حیرت ہوئی کیوں کہ جس آدمی نے پاکستان کو پوری دنیا میں سب سے زیادہ بدنام کیا آج وہ ہماری گورنمنٹ اسی کی مہمان نوازی کررہی ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ یہ گورنمنٹ بھی وہی ہے جس نے پہلے اڈوانی کو پاکستان کا دورہ کرنے پر ان کے خلاف حیدرآباد سندھ میں کیس پھر سے چلانے کی دھمکی دی تھی۔

علی حیدری، ٹورانٹو:
اڈوانی جی کو چاہئے کہ مشرف صاحب کو اپنے ساتھ ہندوستان ہی لے جائیں تاکہ پاکستان کچھ ترقی کرسکے۔

میران ایکیری، دوبئی:
شاید پرویز مشرف اس غلط فہمی میں ہیں کہ اڈوانی انڈیا کے وزیراعظم بنیں گے۔ اسی لئے ان کے وزیراعظم بننے سے پہلے ان کے ساتھ معاملات پر بات کرنا چاہتے ہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ پاکستان اسلام پر بنا ہے یا اسلام کو نقصان پہنچانے کے لئے۔ اڈوانی تو نمبر ایک اسلام دشمن ہیں۔ مشرف صاحب یہ جو سب کررہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ وہ اڈوانی سے بھی بڑے اسلام دشمن ہیں۔۔۔۔

ظہیر لشاری، لاہور:
میرے خیال میں امن قائم کرنے کے لئے یہ ایک اچھی کوشش ثابت ہوسکتی ہے کیوں کہ اڈوانی صاحب اپوزیشن کے لیڈر ہیں اور انڈین گورنمنٹ کی پالیسیوں پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ مجھے بہت امید ہے کہ اڈوانی صاحب کو ٹوور کامیاب رہے گا۔

سنتوش کمار، حیدرآباد سندھ:
جس طرح پاکستا میں الطاف حسین لوگوں کو ڈرا دھمکا کر ووٹ لیتے ہیں اسی طرح انڈیا میں اڈوانی مذہب کے نام پر لوگوں سے ووٹ لیتے ہیں۔ اصل میں اگر ہم اڈوانی کو انڈیا کے ’’الطاف حسین‘‘ کہیں تو غلط نہ ہوگا۔ لیکن غلطی ہمارے ہی حکمرانوں کی ہے کیوں کہ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ سب عوام کے نمائندہ نہیں ہیں اور ہمارے حکمران ہیں ان کو ایسے دوروں کی دعوتیں دیکر ان کو سر پر چڑھاتے ہیں۔

جہانگیر احمد، دوبئی:
میرے خیال میں اڈوانی صاحب کا جانا ایسا ہے جیسے ’صبح کا بھولا ہوا شام کو واپس آجائے‘۔

شاہدہ اکرم، ابوظہبی:
اڈوانی صاحب کا دورہ اور اس کی نوعیت خواہ کچھ بھی رہی ہو، مجھے ذاتی طور پر اس بات کی خوشی ہے کہ امن و سلامتی کی جو ہوا آج کل چلی ہے اس کے اثرات نہ صرف نمایاں ہوئے ہیں بلکہ واضح طور پر بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ بےشک اس کے پیچھے بھی دونوں حکومتوں کو کسی کی دھونس یا دھمکی ہی کیوں نہ رہی ہو، عام عوام کو اس طرح کے دوطرفہ تبادلوں سے فائدہ ہونا یقینی بات ہے، اور یقینی بات یہ بھی ہے کہ اچھی امید رکھنی ہی چاہئے کہ ہمارے جیسے عام عوام کی تو پوری زندگی ہی ان امیدوں کے سہارے گزرتی ہے۔

اشفاق خان، جرمنی:
پاکستان اور انڈیا پرانے جھگڑوں سے کچھ حاصل نہیں ہوا ہے۔ انہیں مصالحت کرنی چاہئے۔ انہیں تمام معاملات پر بات چیت کرنی چاہئے۔ دونوں حکومتوں کی مرکزی خواہش یہ ہونی چاہئے کہ ان کے عوام کا بھلا ہو۔

اسد علی، رحیم یار خان:
یہ وہ انسان ہے جس کا بابری مسجد گرانے میں سب سے بڑا ہاتھ تھا۔ ہم اب ایسے ہوگئے ہیں کہ اپنے اور اسلام دشمنوں کو بلاتے پھر رہے ہیں۔ کیا یہ لوگ امن لائیں گے کیا؟

اعظم شہاب، ممبئی:
لعل کرشن اڈوانی ہند و پاک کے درمیان تعلقات کی استواری کے ضمن میں یہ وہ اہم نام ہے جس کی وجہ سے ہند و پاک کے رہنما کئی بار مذاکرات کی میز سے اٹھ چکے ہیں۔ اٹل بہاری واجپئی اور پرویز مشرف کی جب آگرہ میں ملاقات ہوئی تھی تو یہی وہ شخص تھا جس کی وجہ سے یہ ملاقات بےنتیجہ رہی اور مشرف صاحب راتوں رات پاکستان واپس چلے گئے۔۔۔۔

66آپ کی رائے
بھارت۔چین تعلقات کا علاقے پر کیا اثر ہوگا؟
66آپ کی رائے
مشرق وسطیٰ: غیرملکی ملازمین کی حالت
66آپ کی رائے
پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش ہونی چاہیے؟
66اڈوانی کا دورۂ پاکستان
ایل کے اڈوانی بھی امن کوششوں میں شامل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد