BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Monday, 11 April, 2005, 10:33 GMT 15:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارت۔چین تعلقات کاجنوبی ایشیا پراثر
ہندوستان میں تبت کے پناہ گزیں چین کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے
ہندوستان میں تبت کے پناہ گزیں چین کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے
چین کے وزیراعظم وین جیاباؤ ہندوستان کے چار روزہ دورے پر ہیں۔ انہوں نے اپنا دورہ بنگلور سے شروع کیا۔ جہاں چین ہندوستان کے ساتھ تجارت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات فروغ دینے کو ترجیح دے رہا ہے، وہیں ہندوستان کی حکومت ملک کے شمال مشرق میں چین کے ساتھ سرحدی تنازعات کے حل پر توجہ دے رہی ہے۔ دونوں ممالک نے باہمی تعلقات کو فروغ دینے کے لئے بارہ معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

حال ہی میں چین نے پاکستان کے ساتھ بھی کئی معاہدے کیے ہیں اور تعلقات کو مضبوط کرنے پر زور دیا ہے۔ کشمیر کے بعض علاقے چین کے کنٹرول میں ہیں۔ چین کے ساتھ تعلقات پر زور دینے کے ساتھ ساتھ ہندوستان اور پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات حالیہ برسوں میں مضبوط ہوئے ہیں۔

آپ کے خیال میں جنوبی ایشیا میں کس طرح کی تبدیلیاں آرہی ہیں؟ امریکہ اور چین کے ساتھ ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات کی نوعیت کیا ہے؟ تبت کے لوگوں کا کیا ہوگا جو لاکھوں کی تعداد میں ہندوستان میں پناہ گزیں ہیں؟

آپ کی رائے

اب یہ فورم بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی رائے سے ایک انتخاب نیچے درج ہے

عارف ماھی، پاکستان:
انڈیا نے پہلے سرحدی جگھڑے کا تصفیہ کیا اور پھر چین جیسی عالمی طاقت کے ساتھ پر اعتماد تعلقات شروع کیے ہیں لیکن میرا خیال ہے تبت پر جگھڑا مکمل ختم نہیں ہوا۔

فضل بابا، ملتان، پاکستان:
مذہبی فرق کو مٹا کر تمام ہمسائیوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہونا چاہئیں۔

خان گل خان جدون، سعودی عرب:
یہ بات امریکہ کے لیے زبردست دھچکہ ہو گی کیونکہ اس اتحاد سے امریکہ کمزور ہو جائے گا۔

جاوید جمال الدین، ممبئی:
چین نے حال میں تیزی سے ترقی کی ہے اور ایشیا ہی نہیں بلکہ یورپ اور امریکہ کے بازاروں میں اپنا ایک الگ مقام بنالیا ہے۔ حال میں انٹرنیشنل وزیٹر کے طور پر میں نے امریکہ کا دورہ کیا ہے اور مختلف شہروں کی وزٹ کے دوران میں نے پایا کہ ہر بازار میں چین کی اشیاء بھری ہوئی ہیں۔ کیوں کہ انڈیا ایک ارب آبادی والا ملک ہے اور ایک بڑی مارکیٹ ہے جہاں چین سے اب پھل تک آرہے ہیں اور ابھی کافی گنجائش باقی ہے۔ اس لئے چین کے لئے انڈیا سے دوستی کرنا نہایت ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین نے ریاست سکم کے معاملے میں نرم رخ اختیار کرلیا ہے۔

علی عمران شاہین، لاہور:
مجھے تو یہ سب ڈبل گیم لگتی ہے۔ چین ایک طرف پاکستان کے ساتھ دوستی کا دعویٰ کر رہا ہے تو دوسری طرف پاکستان کے سب سے بڑے دشمن سے پیار کی پینگیں بڑھا رہا ہے۔ کہیں پاکستان سینگ لگوانے کے چکر میں کان ہی نہ کٹوا بیٹھے۔

اختر نواز، لاہور:
یہ اصل میں پاکستان کا امتحان ہے۔ چین پاکستان کا دوست ہے۔ بھارت اب چین کی نسبت سے ندیمِ دوست ہے۔ کٹھن بات یہ ہے کہ پاکستان کو ندیمِ دوست سے بوئے دوست آتی ہے یا ماضی کے تلخ جہنم کی گرم ہوا۔

میر جان ماڑی، بلوچستان:
بڑے ممالک کی یہ ایک عجیب بات ہے، ملکوں کو بگاڑنا اور سنوارنا ان کی عادت ہوتی ہے۔ چین پاکستان کا قریبی دوست ہونے کے باوجود بھی انڈیا کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

نئی جنگ۔۔۔
 چین اور بھارت کے درمیان سرحد پر جنگ نہیں بلکہ اقتصادی میدان میں ہو گی۔
فراز قریشی، کراچی

فراز قریشی، کراچی:
انڈیا اور چین جس طرح سے اپنا سرحدی معاملہ نمٹا رہے ہیں، پاکستان کو اس سے سبق سیکھنا چاہیے۔ جہاں تک چین اور بھارت کا معاملہ ہے تو یہ یاد رکھیں کہ انڈیا سے بڑا سوداگر کوئی نہیں۔۔۔ اب دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر جنگ نہیں بلکہ اقتصادی میدان میں ہو گی۔

ثناء خان، کراچی:
بہت اچھی بات ہے، شروعات چھوٹی بات سے ہو رہی ہے، بڑے بڑے مسئلے بھی حل ہو ہی جائیں گے۔

میاں بلال، پاکستان:
چین یہ سب ٹھیک نہیں کر رہا ہے۔

امین اللہ شاہ، میانوالی:
میری رائے سب سے زیادہ حقیقت پسندانہ تھی لیکن پھر بھی آپ نے لِفٹ نہیں کرائی۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ صرف وہی آراء شائع کرتے ہیں جو آپ کے ذہن کی ترجمانی کرتی ہیں۔

نامعلوم:
امریکہ اپنا رسوخ کھو بیٹھے گا اور ایران علاقائی اشتراک میں شامل ہو جائے گا۔

بشیر چوہدری، بیلجیئم:
چین کی سمجھ میں یہ بات آ گئی ہے کہ اگر اس نے انڈیا سے سمجھوتہ نہ کیا تو امریکہ اسے بھارت کے خلاف استعمال کرے گا۔ اس لیے چین نے خود کو امریکہ کے چنگل سے بچانے کی کوشش کی ہے۔

عافر جبار قریشی، پاکستان:
اب سب یہ بات سمجھ گئے ہیں کہ کامیابی ترقیِ امن میں ہے، جنگ میں نہیں۔ پوری دنیا میں تبدیلی کی لہر چل پڑی ہے اور کل کے دشمن آج دوست بن گئے ہیں۔

شہاب عالم سوری، کویت:
یہ دو ہم پلہ قوتوں کے مفاد کی بحالی میں ایک مثبت قدم ہے لیکن ایک خدشہ پاکستان کو لاحق ہوگا کہ حکومتِ ہند پاکستان سے بھی اس اقتصادی دوڑ میں شامل ہونے کا مطالبہ کرے گی اور کشمیر جیسے مسئلے کو اس ریل گاڑی کا سب سے آخری ڈبہ بنادیں۔ پاکستان ان دونوں کے مقابلے میں اقتصادی دوڑ میں ابھی صرف کچھوے کی رفتار سے چل رہا ہے اور اصول یہ ہے کہ بڑی قوتیں چھوٹوں کو باآسانی ہضم کر جاتی ہیں۔ اہلِ خرد کو اس ورتِ حال میں دانش مندی سے چلنا چاہیے لیکن موجودہ سیٹ اپ سے اس طرح کی توقع خال ہی دکھائی دیتی ہے۔ فوجی حکومت احلِ خرد کا نعم البدل ہر گز نہیں ہوسکتی جب کہ ہندوستان کے پاس ایسے کئی دانش کدے موجود ہیں۔ بلاشبہ چین اور ہندوستان کے نقطہِ نظر سے یہ بہت مثبت قدم ہے۔

ندیم ضیا، اوہائیو:
اللہ کرے کہ پاکستان، چین اور انڈیا ایک ہوجائیں تاکہ یورپ اور امریکہ کا جادو ٹوٹے اور ان کی اجارہ داری ختم ہو۔

اگر۔۔۔۔
 اگر یہ دونوں ممالک اس لیے قریب آرہے ہیں تاکہ خطے میں غربت، دہشت گردی اور لوگوں کے مسائل کا خاتمہ کیا جاسکے اور اگر یہ قدم لوگوں کی بہتری اور امن کے لیے اٹھایا جا رہا ہے تو ہر عقلمند آدمی کو اس کی حمایت کرنی چاہیے۔
سید مشرف، ویہاڑی

سید مشرف، ویہاڑی:
چین اور انڈیا دونوں جنوبی ایشیا کے بڑے ممالک ہیں۔ نو گیارہ کے بعد دنیا بالکل بدل کر رہ گئی ہے۔ اگر یہ دونوں ممالک اس لیے قریب آرہے ہیں تاکہ خطے میں غربت، دہشت گردی اور لوگوں کے مسائل کا خاتمہ کیا جاسکے اور اگر یہ قدم لوگوں کی بہتری اور امن کے لیے اٹھایا جا رہا ہے تو ہر عقلمند آدمی کو اس کی حمایت کرنی چاہیے۔

ڈاکٹر نعیم احمد، امریکہ:
اگلے پچاس برس انڈیا اور چین کے ہیں۔ انہیں محتاط رہنا ہوگا کیونکہ کئی ایسی طاقتیں ہیں جو ان کی طوستی اور طاقتور بننے کے خلاف ہیں۔

عامر گل، جہانیاں:
یہ موجودہ پاکستانی حکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ چین جیسا دوست بھی ہمیں چھوڑ کر انڈیا کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھا رہا ہے۔ واہ مشرف صاحب واہ۔

عبدالغفور، ٹورنٹو:
دیکھا جائے تو آج کل کے علمی حالات میں، جہاں اب زیادہ تر جنگیں اقتصادی ہتھیاروں سے لڑی جارہی ہیں، اپنے داخلی اور سرحدی معاملات کو سلجھانا ہر ملک کے لیے ضروری ہوگیا ہے۔ جب سے چین ڈبلیو ٹی او کا رکن بنا ہے اور اس پر عالمی تجارتی منڈیوں کے دروازے کھلے ہیں، امریکہ چاہتے ہوئے بھی اس کی تیز رفتار ترقی نہیں روک سکا۔ دوسری طرف سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد سے انڈیا کی خواہش تھی کہ کسی طرح دنیا کی واحد سپر پاور کا قرب حاصل ہوجائے۔ ۔ امریکہ کی انڈیا پر نظرِ کرم اس وجہ سے ہے کہ خطے میں اس وقت وہ واحد ایسا ملک ہے کہ خطے میں وہ واحد ایسا ملک ہے جسے چین کی ابھرتی ہوئی طاقت کے سامنے کھڑا کیا جاسکتا ہے۔ انڈیا کو اب امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات کا خواب سچ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ امریکہ کو تو جہاں اپنا مفاد نظر آئے گا وہیں توجہ دے گا۔ پہلے اس کے پاس خطے میں ایک مہرہ تھا اب دو ہیں، کسی کا بھی انتحاب کر سکتا ہے۔ دیکھیے کہ کس وقت کون سا مہرہ چلتا ہے۔

محمد ارسلان، کینیڈا:
میرا خیال ہے کہ جناب منصور حسین صاحب کافی کنفیوژڈ ہیں۔

عرفان خواجہ، لاہور:
پاکستان اور انڈیا کو یاد رکھنا چاہیے کہ امریکہ خطے میں چین کے خلاف ایک طاقت چاہتا ہے۔ ان دونوں کو کبھی بھی امریکہ کا ساتھ نہیں دینا چاہیے کیونکہ چین کے ساتھ مضبوط تعلقات سے ہی اس خطے میں استحکام اور امن قائم ہوسکتا ہے۔

حبیب بلوچ، لاہور:
چین اور انڈیا کے درمیان اچھے تعلقات سے پاکستان کو فائدہ ہوگا اور اس سے کشمیر کے مسئلے کو پرامن طور پر حل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

ریاض فاروقی، کراچی:
تینوں ممالک کو چاہیے کہ آہستہ آہستہ اپنے سرحدی تنازعات سے نمٹیں اور ایک دوسرے کے ساتھ ثقافتی اور تجارتی تعاون میں زیادہ سے زیادہ کوشش صرف کریں۔ اس سے باقی مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے۔ اگر ہمیں ترقی کرنا ہے تو یہ اس خطے کے لوگوں کے لیے بہت ضروری ہے۔

خالد عباسی، کراچی:
چین نے صبر کی پالیسی کے ذریعے ہانگ کانگ بھی واپس لیا ہے اور دیگر سیاسی میدانوں میں بھی کامیاب ہوگا۔

حسنات کاظمی، پاکستان:
میرے خیال میں بھارت اور چین کی دوستی سے انہیں تو فائدہ ہوگا لیکن پاکستان کی تمام تر فوجی امداد جاتی رہے گی جو اسے چین سے ملتی تھی۔

شاہدہ اکرام، ابوظہبی:
جو بھی تبدیلیاں نظر آرہی ہیں وہ خوش آئند ہیں جو اس خطے کے لیے امید افزا ہیں۔ امن اور دوسری کے لیے جو بھی کیا جائے کم ہے۔ جنگ جیسی بدصورت چیز کوئی بھی پسند نہیں کرتا۔ ہمیں اچھی امید رکھنی چاہیے۔ اگر کشمیر کا مسئلہ کچھ اچھا رخ لے رہا ہے تو جلد یا بدیر تبت کا مسئلہ بھی حل ہوہی جائے گا کہ دنیاوی موسم کی طرح سیاسی موسم میں بھی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔

شیریں عثمانی، انڈیا:
انڈیا اور چین کی دوستی بہت اچھا قدم ہے جس کے خطے کے دوسرے ممالک پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

اچھی شروعات
 یہ ایک اچھی شروعات ہے کیونکہ اب جنوب ایشیا کے لوگوں کو اپنے اختلافات بھلا کر امن اور بھائی چارے سے رہنا ہوگا تاکہ وہ اپنی آنے والی نسلوں کو ایک روشن مستقبل دے سکیں۔
ہارون رشید، سیالکوٹ

ہارون رشید، سیالکوٹ:
یہ ایک اچھی شروعات ہے کیونکہ اب جنوب ایشیا کے لوگوں کو اپنے اختلافات بھلا کر امن اور بھائی چارے سے رہنا ہوگا تاکہ وہ اپنی آنے والی نسلوں کو ایک روشن مستقبل دے سکیں اور یہ تبھی ممکن ہے اگر ہم ایک دوسرے کے مسائل سمجھیں اور انہیں دل سے حل کرنے کی کوشش کریں۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
چین اور انڈیا کے تعلقات پر پاکستان کو تشویش نہیں ہونی چاہیے۔ چین ہمارا انتہائی قابلِ بھروسہ دوست ہے جس پر ہمیں مکمل اعتماد کرنا چاہیے۔ چین نے ہمیشہ ہماری مدد کی ہے اور ہم کو بھی اپنے دل کھلے رکھنے چاہئیں۔

ظفر اقبال رفیق، کویت:
میرے خیال میں انڈیا اور چین کے تعلقات دونوں ممالک کے لئے نئے دور کی شروعات ہیں۔ مجھے امید ہے کہ اس خطے پر اس کا مثبت اثر پڑے گا۔ اور اس کا اثر امریکہ اور انڈیا کے تعلقات پر نہیں پڑے گا۔ انڈیا اور امریکہ کے تعلقات بہتر ہوں گے۔ سب لوگ یقین کرنے لگیں گے کہ جنگ مسائل کا حل نہیں۔

شعیب، بنوں:
جس طرح پاکستان اور چین کی دوستی ہے، اسی طرح ایشیا میں امن کے لئے اگر پاکستان، چین اور انڈیا میں دوستی ہو تو زبردست۔۔۔۔

نوید نقوی، کراچی:
واقعی اس خطے میں جس طرح کی تبدیلیاں آرہی ہیں وہ واقعی حیران کن ہیں۔ جیسے کشمیر کے معاملے میں انڈیا نے جس طرح اپنے پاسپورٹ کی شرط ہٹالی اس سے یہ صاف ظاہر ہوگیا کہ اس نے کشمیر کو متنازعہ تسلیم کرلیا ہے اور اب امریکہ اور خصوصا چین کے ساتھ اس کے رابطوں سے یہی سوچا جاسکتا ہے کہ اس نے اپنے جنوبی ایشیا کی سوپر پاور بننے کے خواب چھوڑ کر حقیقت کی نظر سے دیکھنا شرو کردیا ہے۔ اور جہاں تک تب کے لاکھوں لوگوں کی بات ہے تو جب مسئلہ کشمیر جیسا بڑا مسئلہ حل ہوگا تو تب جیسا مسئلہ بھی جلد یا بہ دیر حل ہوجائے گا۔

تنویر رزاق، فیصل آباد:
چین کے لوگوں سے میں ملا تھا۔ ان سے پوچھا کہ انڈیا دوست؟ کہتے تھے: نہیں، پاکستان دوست۔

آصف رفیق، لائبیریا:
جنوبی ایشیا ایک علاقہ ہے جو دنیا کی آْبادی کا ایک چوتھائی حصہ ہے۔ چین، پاکستان اور انڈیا اس خطے کے اہم کھلاڑی ہیں۔ ان کی سیاسی اور جغرافیائی اہمیت ہے۔ دہشت گردی مخالف جنگ اور دوسرے بڑے بین الاقوامی ایشوز اس خطے سے منسلک ہیں۔ چین وقت کا اقتصادی اور ملٹری پاور ہے اور انڈیا بھی اس کی اہلیت رکھتا ہے۔ پاکستان ایٹمی طاقت ہونے کے ناطے اور جغرافیائی طور پر اہم ہے بین الاقوامی برادری کے لئے۔ ان ممالک کے درمیان تعلقات بہتر ہونے کا مطلب امن ہے۔

ندیم رانا، بارسلونا:
جنوبی ایشیا میں امن کے قیام کے لئے ایک یونین کی ضرورت ہے، تاکہ شک و شبہات کو دور کیا جاسکے۔ پڑوسیوں کے لئے عزت ہونے سے ہی جنوبی ایشیا میں امن قائم ہوسکےگا۔

حسین منصور، حیدرآْباد سندھ:
پاکستان اور چائنا کے تعلقات کو دیکھا جائے تو یہ عالمی سیاست کا ایک بڑا پرابلم ہے۔ ایسا ہی ایک بار کولڈ وار کےدوران میں بھی ہوا تھا۔ اب جب امریکہ اور چین میں کولڈ وار چل رہی ہے اورپاکستان چین کو چھوڑ کر امریکہ کا اتحادی بن گیا ہے تو انڈیا جو پہلے کولڈ وار کے دوران میں روس کا اتحادی بنا تھا اور اب جب کہ پوری دنیا ڈبلیو ٹی او کے لاگو کردہ قوانین پر عمل کررہی ہے تب انڈیا جو کہ یورپی انویسٹروں کے لئے ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے، چین کے مارکیٹ کو اپنی اشیاء کے لئے مخصوص کرے گا۔۔۔۔۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد