’ کمپیوٹر کے شعبے میں تعاون کریں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین کے وزیر اعظم وین جیا باؤ نے کہا ہے کہ اگر چین اور بھارت ’ کمپیوٹر سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر‘ میں تعاون کریں تو وہ انفامیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں پوری دنیا کی رہنمائی کرسکتے ہیں۔ بھارت کے دورے کے دوران چینی وزیر اعظم نے اتوار کو بھارت کےانفارمیش ٹیکنالوجی کے مرکز بنگلور کا دورہ کیا اور بھارت اور چین کے درمیان انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ وین جیا باؤ پیر کو بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ اس ملاقات میں دوطرفہ امور پر بات چیت ہو گی جس میں دونوں ملکوں کےدرمیان سرحدی تنازعہ پر بھی بات چیت متوقع ہے۔ انیس سو باسٹھ میں سرحدی تنازعہ پر دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بھی ہو چکی ہے۔ دونوں ملکوں کے حکام کا کہنا ہے کہ اس سرحدی تنازعہ کے ممکنہ حل پر دونوں ملکوں میں حکام کی سطح پر اصولی اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ اس ملاقات میں دونوں رہنما خطے کے دو بڑے ملکوں کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کے مخلتف طریقوں پر بھی غور کریں گے۔ دوطرفہ تعلقات پر بات چیت کے دوران چینی وزیر اعظم تبت کے مسئلہ پر بھی بات کریں گے۔ اس حوالے سے تبت کے روحانی پیشؤا دلائی لاما کے کردار پر بھی بات ہو گئی۔ دلائی لامہ بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||