وین جیاباؤ اسلام آباد کے دورے پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین کے وزیراعظم وین جیاباؤ پاکستان کے تین روزہ سرکاری دورے پر منگل کو اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ وہ اپنے دورے کے دوران صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز سے ملاقات کریں گے جس میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ دفاعی اور تجارتی تعلقات بڑھانے سمیت کئی امور پر بات چیت ہوگی اور معاہدوں پر دستخط کئے جائیں گے۔ وہ اسلام آباد میں منعقد کیے جانے والے چوتھے ایشین کوآپریشن ڈائیلاگ کے اجلاس کے کلیدی مقرار ہوں گے۔ اس دورے کے دوران انیس تجارتی معاہدوں پر دستخط ہوں گے جن میں چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ فیز ٹو، لاواری ٹنل، گوادر سی پورٹ کی گہرائی بڑھانے اور منگلا ڈیم کی اونچائی بڑھانے سمیت کئی معاہدے اور یادواشتیں شامل ہیں۔ چینی وزیراعظم کے ہمراہ ستر رکنی وفد بھی پاکستان کا دورہ کر رہا ہے جس میں پاکستان کے قدرتی وسائل، ٹیلی کمیونیکیشن، انفارمیشن ٹیکنالوجی، شپنگ، ہاؤسنگ اور ادویات کی صنعت میں چینی تاجروں کی سرمایہ کاری کے بارے میں یاداشتوں پر دستخط کیے جائیں گے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کی نجکاری کے بارے میں بات کرنے کے لیے چائنا موبائل کمپنی نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔ پی ٹی سی ایل کی نجکاری اس سال جون میں متوقع ہے۔ اس سے قبل گزشتہ روز پاکستان اور چین کے دفاعی حکام نے اسلام آباد میں پاکستان نیوی کے لئے چار ایف 22پی فریگیٹس یعنی جنگی کشتیاں تیار کرنے اور ان کی ٹیکنالوجی پاکستان کو منتقل کرنے کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ وزارت دفاع سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ علی محمد جان اورکزئی اور چین کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل لو وشینت نے دونوں جانب سے اس بارے میں مذاکرات کیے۔ دفاعی حکام کے مطابق ان جنگی کشتیوں کی پاکستان نیوی میں شمولیت سے نہ صرف اس کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ پاکستان کی سمندری حفاظت بھی مضبوط ہوگی۔ یہ کشتیاں آرگینک ہیلی کاپٹروں سے لیس ہوں گے جو اینٹی سب میرین جنگوں کے لئے موزوں ترین سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ جہاز زمین سے زمین اور زمین سے فضاء تک مار کرنے والے میزائیلوں سے بھی لیس ہوں گے۔ پاکستانی حکام کے مطابق چین اور پاکستان روایتی حلیف ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اس بات کا مظہر ہیں۔ چینی وزیراعظم اپنے دورے کے دوران لاہور بھی جائیں گے جہاں وہ علامہ اقبال کے مزار پر حاضری دیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||