چین کے دفاعی بجٹ میں اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے دفاعی بجٹ میں بارہ فیصد اضافہ کر رہا ہے۔ اس اضافے کے بعد چین کا دفاعی بجٹ تیس بلین ڈالر کے قریب پہنچ جائے گا۔ یہ اضافہ پارلیمان سے منظوری کے بعد کیا جائے گا جس کا اجلاس ہفتے سے شروع ہو رہا ہے۔ اس اضافے کا اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب کہ چینی پارلیمان علیحدگی پسندی کے خلاف ایک قانون پر بحث کرنے والی ہے۔ اس قانون کا مقصد تائیوان کا جانب سے علیحدگی کے باقاعدہ اعلان کی صورت میں اسے دبانا ہے۔ چین تائیوان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے اور وہ اسے آزادی کے اعلان کی صورت میں طاقت کے استعمال کی دھمکیاں بھی دیتا رہا ہے۔ چین کے دفاعی بجٹ میں اضافہ اس کے فوجی عزائم کے بارے مںی امریکی خدشات کو مزید شہ دے سکتا ہے۔ چینی پارلیمان کے ترجمان زیانگ انزو نے اس اضافے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اس رقم کو جدید ہتھیاروں اور تربیتی پروگراموں بھی پر خرچ کیا جائے گا تاہم اس رقم کا بڑا حصہ فوجیوں کی تنخواہوں میں اضافے پر خرچ کیا جائے گا۔ ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چین کا دفاعی بجٹ دیگر عالمی طاقتوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ اضافہ ’ جنگ کی جانب ایک قدم‘ نہیں ہے لیکن تائیوان کی فوجی مشقیں چین کی ریاستی حاکمیت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔ امریکی انتظامیہ میں بہت سے افراد کا خیال ہے کہ چین اپنے مکمل دفاعی اخراجات ظاہر نہیں کرتا۔ بیجنگ سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکہ کو یورپ کی جانب سے چین کو اسلحے کی فراہمی پر پابندی اٹھانے کی کوششوں پر تشویش ہے اور وہ چینی پارلیمان میں منظوری کے لیے پیش کیے جانے والے علیحدگی پسندی دبانے کے قانون کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||