’دفاع کے لیے ایٹمی ہتھیار بنا لیے ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی کوریا نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اپنے دفاع کے لیے ایٹمی ہتھیار تیار کر لیے ہیں۔ اس اعلان کے ساتھ شمالی کوریا نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اپنےایٹمی منصوبوں پر چھ ملکی مذاکرات سے علحیدگی اختیار کر رہا ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد شمالی کوریا کو ایٹمی پروگرام کو ترک کرنے کے لیے راضی کرنا ہے۔ پیانگ یانگ نے کہا ہے کہ مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ امریکہ شمالی کوریا کو پہلے ہی ’ظلم و جبر کا گڑھ‘ قرار دے چکا ہے۔ ایک سرکاری بیان میں شمالی کوریا نے امریکہ پر اس کی حکومت کا تختہ پلٹنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ صدر بش کی حکومت شمالی کوریا کو ساری دنیا سے الگ تھلگ کرنا چاہتی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایٹمی ہتھیار اپنے دفاع کیلئے دشمن کو دھمکانے کیلئے ہر حال میں رکھے جائیں گے۔ شمالی کوریا نے کہا ہے کہ موجودہ حالات نے ثابت کیا ہے کہ صرف طاقت کے ذریعے ہی سچائی اور انصاف کی حفاظت کی جاسکتی ہے۔ بیان میں امریکی وزیر خارجہ کونڈا لیزا رائس کے اس اعلان پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا ہے جس میں شمالی کوریا کو جبریت کا ایک نشان قرار دیا گیا تھا۔ شمالی کوریا نے یہ بھی کہا ہے کہ اس نے اپنے دفاع کے لیے جوہری ہتھیار تیار کیے ہیں۔ امریکہ نے اکتوبر سن دو ہزار دو میں شمالی کوریا پر یہ الزام لگایا تھا کہ وہ 1994 کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یورینیم کی افزودگی کے ایک پروگرام پر کام کر رہا ہے جس کے بعد صورت حال میں تعطل آ گیا تھا۔ اس کے بعد سے دونوں ممالک میں مذاکرات کے کئی دور ہوئے جن میں چین، جاپان، روس اور جنوبی کوریا نے بھی شرکت کی مگر ان سرگرمیوں کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آ سکے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||