شمالی کوریا باز رہے: جارج بش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے شمالی کوریا سے کہا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کے ارادے سے باز رہے۔ جارج بش نے چلی میں منعقدہ ایشیا پیسیفک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا کے لیے میرے پیغام بہت واضح ہے اور وہ یہ کہ ’ اسے اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو بند کرنا ہو گا‘۔ ایشیا پیسیفک تنظیم کا اجلاس چلی کے دارالحکومت سان تیاگو میں منعقد ہو رہا ہے۔ تجارتی آزادی اور دہشت گردی کے مقابلے جیسے موضوعات اس پہلے سرکاری اجلاس کے ایجنڈے پر ہیں۔ اس اجلاس میں 21 ممالک کے رہنما شریک ہو رہے ہیں جن میں کینیڈا، چین، جاپان، روس اور امریکہ بھی شامل ہیں۔ جمعہ کو سان تیاگو میں ہزاروں افراد نے سرمایہ دارانہ نظام اور عراق جنگ کے خلاف مظاہرہ کیا۔پولیس نے 189 مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔
امریکی حکام کے مطابق صدر بش ایپک اجلاس میں شمالی کوریا کے ساتھ جوہری ہتھیاروں پر بات چیت کے لیے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ صدر بش نے اپیک اجلاس کے آغاز سے قبل چینی، جاپانی، روسی اور جنوبی کوریائی رہنماؤں سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی تھیں۔ صدر بش نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ پانچ ایپک ممالک شمالی کوریا کو اس بات پر راضی کرنے میں مصروف ہیں کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کا ارادہ ترک کر دے اور کم یونگ ال (شمالی کوریائی لیڈر) کے لیے یہ ہمارا واضح پیغام ہے کہ وہ اپنے ایٹمی ہتھیاروں سے چھٹکارا حاصل کر لیں‘۔ شمالی کوریا نے ستمبر میں منعقدہ ان چھ ملکی مذا کرات میں شرکت نہیں کی تھی جو کہ اس مسئلے کے حل کے لیے ہوئے تھے۔ امریکی مصالحت کاروں نےاس بات کی بھی تردید کی ہے کہ کچھ ممالک شمالی کوریا کے لیے جاپان اور جنوبی کوریا کی امداد کے علاوہ مزید رعایتوں کے بھی ایشیا پیسیفک تنظیم کا اجلاس وہ پہلی بین الاقوامی کانفرنس ہے جس میں صدر بش نے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد شرکت کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||