چین، کوریا تشویش کا باعث: جاپان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا میں سکیورٹی کے بدلتے ہوئے حالات کے مدنظر جاپان کی حکومت نے اپنی دفاعی پالیسی میں تبدیلی کی ہے۔ جمعہ کے روز کابینہ کے ایک اجلاس میں نئی پالیسی کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے چین اور شمالی کوریا کو تشویش کا باعث قرار دیا۔ نئی پالیسی کے تحت دفاعی برآمدات پر پابندی اٹھالی گئی ہے اور امریکہ کے ساتھ میزائل ڈیفنس سسٹم کے قیام پر زور دیا گیا ہے۔ دارالحکومت ٹوکیو میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار ہے کہ جاپان نے اپنی فوج کے کردار میں تبدیلیاں کی ہیں۔ جاپانی آئین کے تحت فوجیوں کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ لڑائی میں حصہ لیں۔ جاپانی کابینہ کا یہ فیصلہ حکومت کے اس بیان کے ایک روز بعد آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ عراق میں تعینات جاپانی فوجیوں کی مدت میں ایک سال کا اضافہ کیا جارہا ہے۔ ساڑھے پانچ سو جاپانی فوجی امدادی کارروائیوں کے لیے عراق میں ہیں۔ انیس سو پینتالیس کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب جاپانی فوجیوں کو ایسی جگہ تعینات کیا گیا ہے جہاں لڑائی جاری ہے۔ جاپان کی نئی دفاعی پالیسی اپریل دو ہزار پانچ سے لیکر مارچ دوہزار نو تک عمل میں رہے گی۔ نئی پالیسی کے تحت کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا اور چین پر ’گہری نظر‘ کھی جائے گی۔ گزشتہ مہینے ایک چینی آبدوز جاپان کی سمندری حدود میں داخل ہوگئی جس کے بعد جاپان نے کہا ہے کہ چین نے ’تکنیکی غلطی‘ کے لیے معافی مانگ لی ہے۔ شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ایٹمی ہتھیار اور جاپان تک پہنچنے والے میزائل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||