BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 October, 2004, 03:21 GMT 08:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اغواکاروں کے آگے نہیں جھکیں گے،
جاپانی وزیر اعظم کوزومی
جاپانی باشندے نے وزیر اعظم کوزومی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عراق سے جاپانی فوجی واپس بلا لیں
جاپان کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ وہ اغواکاروں کے دباؤ میں عراق سے جاپانی فوجی واپس نہیں بلایں گے۔

عراق میں سرگرم ایک شدت پسند گروپ نے ایک جاپانی باشندے کو اغوا کر لیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ اگر جاپان نے اڑتالیس گھنٹوں میں عراق سے اپنے فوجی واپس نہ بلائے تو وہ مغوی کو ہلاک کر دیں گے۔

عربی ٹیلی ویژن سٹیشن الجزیرہ نے ایک نئی وڈیو فلم نشر کی ہے جس میں ایک جاپانی باشندے جس کا نام نہیں بتایا گیا کو دیکھایا گیا ہے۔ جاپانی مغوی نے وزیر اعظم کوزومی سے مطالبہ کیا ہے کہ جاپان عراق سے اپنی فوجیں واپس بلا لے ورنہ اس کے اغواکار اس کو ہلاک کر دیں گے۔

جاپانی باشندے کے اغوا کاروں نے کہا ہے کہ اگر ان کے مطالبہ نہ مانا گیا تو جاپانی باشندے کا حشر کینتھ بگلی اور برگ سے مختلف نہیں ہو گا۔

جاپان وزیر اعظم نے ایک کرائسس سنٹر بنایا جو اس اغوا کے بارے میں جاپان حکومت کے ردعمل کے بارے میں غور کرئے گا۔

عراق میں اس سے پہلے بھی دو جاپانی باشندوں کو اغوا کیا گیا تھا لیکن دونوں کو بعد میں رہا کر دیا تھا۔

اغوا کاروں کے مطابق جاپانی مغوی کا تعلق عراق میں جاپانی فوجی دستے سے ہے۔

الجزیرہ ٹی وی پر دکھائی جانے والی وڈیو میں جاپانی باشندے کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے کہ اس کے اغوا کاروں نے اس سے پوچھا ہے کہ جاپان نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عراق میں اپنی فوج کیوں بھیجی ۔

مغوی نے کہا :”وزیر اعظم کوزومی مجھے افسوس کہ میں اپنے سر آپ کے ہاتھ میں رکھ رہا ہوں۔ میں واپس جاپان آنا چاہتا ہوں‘۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد