’اغواکاروں کے آگے نہیں جھکیں گے، | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جاپان کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ وہ اغواکاروں کے دباؤ میں عراق سے جاپانی فوجی واپس نہیں بلایں گے۔ عراق میں سرگرم ایک شدت پسند گروپ نے ایک جاپانی باشندے کو اغوا کر لیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ اگر جاپان نے اڑتالیس گھنٹوں میں عراق سے اپنے فوجی واپس نہ بلائے تو وہ مغوی کو ہلاک کر دیں گے۔ عربی ٹیلی ویژن سٹیشن الجزیرہ نے ایک نئی وڈیو فلم نشر کی ہے جس میں ایک جاپانی باشندے جس کا نام نہیں بتایا گیا کو دیکھایا گیا ہے۔ جاپانی مغوی نے وزیر اعظم کوزومی سے مطالبہ کیا ہے کہ جاپان عراق سے اپنی فوجیں واپس بلا لے ورنہ اس کے اغواکار اس کو ہلاک کر دیں گے۔ جاپانی باشندے کے اغوا کاروں نے کہا ہے کہ اگر ان کے مطالبہ نہ مانا گیا تو جاپانی باشندے کا حشر کینتھ بگلی اور برگ سے مختلف نہیں ہو گا۔ جاپان وزیر اعظم نے ایک کرائسس سنٹر بنایا جو اس اغوا کے بارے میں جاپان حکومت کے ردعمل کے بارے میں غور کرئے گا۔ عراق میں اس سے پہلے بھی دو جاپانی باشندوں کو اغوا کیا گیا تھا لیکن دونوں کو بعد میں رہا کر دیا تھا۔ اغوا کاروں کے مطابق جاپانی مغوی کا تعلق عراق میں جاپانی فوجی دستے سے ہے۔ الجزیرہ ٹی وی پر دکھائی جانے والی وڈیو میں جاپانی باشندے کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے کہ اس کے اغوا کاروں نے اس سے پوچھا ہے کہ جاپان نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عراق میں اپنی فوج کیوں بھیجی ۔ مغوی نے کہا :”وزیر اعظم کوزومی مجھے افسوس کہ میں اپنے سر آپ کے ہاتھ میں رکھ رہا ہوں۔ میں واپس جاپان آنا چاہتا ہوں‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||