عراق میں دو جاپانی صحافی ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں کار پر ہونے والے ایک حملے میں دو جاپانی صحافی ہلاک ہوگئے ہیں۔ دونوں صحافی اپنے دو عراقی معاونین کے ساتھ بغداد کے جنوبی علاقے کی طرف سفر کر رہے تھے کہ ان کی گاڑی پر حملہ ہوا۔ اس حملے سے جاپان کے وزیرِ اعظم کی سیاسی پوزیشن مزید کو مزید دھچکا لگے گا جنہوں نے اپنی فوج عراق بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔ گزشتہ برس بھی جاپان کے دو سفارتکار عراق میں مارے گئے تھے۔ پچھلے ماہ شدت پسندوں نے پانچ جاپانیوں کو یرغمال بنا لیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ جاپان کی فوج عراق سے واپس چلی جائے۔ ٹوکیو میں وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ جس حملے میں جاپانی صحافی ہلاک ہوئے ہیں وہ جمعرات کو محمدیہ کے مقام پر پیش آیا جو بغداد کے جنوب میں بیس میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ جاپانی صحافیوں کی گاڑی کو آگ لگا دی گئی تھی لیکن ڈرائیور بھاگنے میں کامیاب ہوگیا اور بعد میں ایک مقامی ہسپتال میں اسے طبی امداد فراہم کی گئی۔ اسی ہسپتال میں ایک اہلکار نے بتایا کہ وہاں دو لاشیں آئی ہیں جن کے بارے میں زخمی ڈرائیور کا کہنا تھا کہ وہ انہیں جاپانی صحافیوں کی ہیں جن کے ساتھ وہ کام کر رہا تھا۔ ہلاک ہونے صحافیوں میں سے شنسوکے ہشیدا اکسٹھ برس کے تھے اور ان کے بھتیجے کوتارو اوگاوا کی عمر تینتیس برس کی تھی۔ ہشیدا محاذِ جنگ سے رپورٹنگ کرنے کے ماہر تھے۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گاڑی میں جاپانی صحافیوں کے ساتھ سوار چوتھے شخص کا کیا بنا جس کا کام ترجمہ کرنا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||