BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’چین کسی ملک کے لیے خطرہ نہیں‘

وین جیا باؤ اور شوکت عزیز
اسلام آباد میں چینی اور پاکستانی وزراء اعظم کے استقبالیہ بینر اور پوسٹر لگے ہوئے ہیں
چین کے وزیراعظم وین جیا باؤ نے کہا ہے کہ ان کا ملک خطے میں بالادستی قائم کرنے کے عزائم نہیں رکھتا اور نہ ہی وہ ایشیا کے کسی ملک کے لئے خطرہ ثابت ہو گا۔

پاکستان کے تین روزہ دورے پر آئے ہوئے چینی وزیر اعظم نے بدہ کو اسلام آباد میں ایشیائی ممالک کی معاشی ترقی کے لئے منعقد کئے جانے والے چوتھے ایشین کوآپریشن ڈائیلاگ کے کلیدی خطاب میں کہا کہ چین ہمیشہ امن کا حامی رہا ہے اور ایشیا میں بسنے والے تمام لوگوں کا قابل بھروسہ ساتھی رہے گا چاہے بین الاقوامی حالات کتنے ہی کیوں نہ بدل جائیں۔

ساتھ ہی چینی وزیراعظم نے کہا کہ چین اپنی ترقی میں اوروں کے لئے رکاوٹیں نہیں کھڑی کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ چین اپنے خطے کے ممالک کے ساتھ تمام دیرینہ مسائل کا حل برابری، مذاکرات اور باہمی رضامندی سے چاہتا ہے۔

وین جیا باؤ نے کہا کہ چین تمام ترقی پذیر ممالک کے حقوق اور مفادات کا تحفظ کرے گا اور اس کی نظر میں تمام چھوٹے بڑے ممالک برابر ہیں چاہے وہ کتنے ہی امیر یا غریب کیوں نہ ہوں۔

چینی وزیراعظم کے مطابق ایشیا کی ترقی اور خوشحالی کے لئے امن لازمی جزو ہے اور جنگیں اور لڑائیاں ہر ملک کی قومی ترقی کا زیاں ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایشیا کی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں ہیں جب تک اس خطے کے تمام ممالک ترقی نہ کریں۔

پاکستانی وزیر اعظم شوکت عزیز نے اپنے خطاب میں کہا کہ تمام ایشیائی ممالک کو براعظم میں ترقی اور خوشحالی کے لئے مل کر کام کرنا ہو گا۔

پاکستان اور چین نے منگل کو دوستی کے ایک سمجھوتے پر دستخط کئے ہیں جس کے مطابق دونوں ممالک دہشت گردی، انتہا پسندی اور علیحدگی پسند تحریکوں کے خاتمے کے لئے مل کر کام کریں گے اور ایک دوسرے کے سرحدی مفادات اور خودمختاری کی حفاظت کریں گے۔

اس کے ساتھ ہی دونوں ممالک نے بائیس دفاعی،تجارتی،سفارتی اور باہمی معاہدوں پر بھی دستخط کئے ہیں جن میں دونوں ممالک کے درمیان تمام شعبوں میں روابط بڑہانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

ان معاہدوں میں چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے فیز ٹوکا افتتاح ،لاواری ٹنل،گوادر سی پورٹ کی گہرائی بڑھانے اور منگلا ڈیم کی اونچائی بڑھانے سمیت پاکستان کے قدرتی وسائل، ٹیلی کمیونیکیشن، انفارمیشن ٹیکنولوجی، شپنگ، ہاؤسنگ اور ادویات کی صنعت میں چینی تاجرین کی سرمایہ کاری کے بارے میں یادواشتوں پر بھی دستخط کئے گئے۔

ان معاہدوں میں سب سے اہم تجارتی معاہدے کے تحت پاکستان چین کو ٹیکسٹائل مصنوعات، کھیلوں کا سامان، پھل، چاول اور سرجیکل آلات برآمد کرے گا جس پر کوئی محصولات نہیں لگائے جائیں گے۔اس کے بدلے میں پاکستان چین سے مشینری اور خام مال درآمد کرے گا جن پر کوئی محصولات نہیں ہوں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد