BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 March, 2005, 15:02 GMT 20:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اور اب چینی مصنوعات کا سیلاب

News image
چینی مال کی تیزی سے مقبولیت کا سب سے بڑی وجہ اس کی انتہائی حیران کن کم قیمت ہے
پاکستان میں آج کل اگرچہ سیلابوں کا موسم نہیں لیکن ایک ایسا سیلاب کافی طویل عرصے سے تمام ملک کو خاموشی سے متاثر کر رہا ہے اور بظاہر اس کا کوئی برا بھی نہیں منا رہا۔ عوام کو تو سستا سامان ملنے کی وجہ سے خوشی ہے لیکن مقامی صنعتکاروں اور سرکاری حکام بھی اس سے زیادہ پریشان نظر نہیں آ تے۔

یہ سیلاب ہے چینی مصنوعات کا۔ ہمسایہ ملک چین کی تیار کی ہوئی سوئی سے لے کر بڑی بڑی گاڑیاں اور ٹریکٹر تک مقامی مارکیٹ میں غیرمعمولی تیزی سے قبضہ جما رہے ہیں۔

پاکستان کے کسی شہر چلے جائیں ماضی کی باڑہ مارکیٹوں میں چینی مال زیادہ نظر آنے لگا ہے۔ یہاں آپ کو تقریباً ہر چیز میسر ہے۔ لاتعداد قسم کے کھلونے، کپڑا، جوتے، ٹیلفون اور موبائل سیٹ، ٹیلی وژن، ریڈیو، جنریٹرز، بیٹری سیل، سائیکل، موٹر سائیکل، سی این جی سٹیشن، گاڑیاں اور ٹریکٹروں کے علاوہ طبی میدان میں استعمال ہونے والے سامانِ جراحی تک باآسانی دستیاب ہیں۔

چینی مال کی تیزی سے مقبولیت کا سب سے بڑی وجہ اس کی انتہائی حیران کن کم قیمت ہے۔ مثال کے طور پر ایک ریڈیو سیٹ ہی لیں۔ جاپانی اور دیگر کثیرالملکی برانڈ کا ایک اچھا معیاری ریڈیو آپ کو ڈھائی ہزار سے کم میں نہیں ملے گا۔ لیکن چینی ریڈیو کی قیمتیں ایک سو سے لے کر چار سو تک ہیں یعنی چار سے پانچ سو فیصد کا فرق۔

یہ چینی ریڈیو کی قیمت وہ ہے جو دوکاندار طلب کر رہا ہے۔ اس میں بھی بارگین کرنے والے کے لئے کمی کرانے کی گنجائش موجود ہے۔ یہ قیمتیں سن کر انسان حیران سے زیادہ پریشان ہوجاتا ہے۔ وہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اس کم قیمت میں تاجر کتنا کماتا ہے، کتنا اس سامان کو چین سے لانے والے کا حصہ بنتا ہے اور کتنا خود چینی تیار کرنے والے کو ملتا ہے۔

چینی سامان سے لدے ٹرکوں کے ٹرک زمینی راستے یعنی درہِ خنجراب سے روزانہ پاکستان داخل ہوتے ہیں اور پھر ملک کے کونے کونے پہنچائے جاتے ہیں۔ اس روٹ کی وجہ سے فطری سی بات ہے کہ یہ مال شمالی علاقاجات میں ارزاں ترین ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے یہ سامان جنوبی علاقوں کی جانب حرکت کرتے ہیں ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔

اگرچہ چینی سامان اپنی کم قیمت کی وجہ سے مقبول بھی ہیں تو دوسری جانب ان سے منسلک ایک مسئلہ ان کا معیار ہے۔ پاکستان میں دستیاب چینی سامان کے اکثر خریداروں کو میعار کی شکایت رہتی ہے۔

اب ریڈیو کی ہی مثال دوبارہ لے لیں۔ اس کے اکثر خریداروں کو میں نے یہ شکایت کرتے سنا ہے کہ یہ بہت نازک ہیں۔ ایک مرتبہ گرنے یا ٹھوکر لگنے سے وہ ناراض ہو کر کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ پھر اکثر اشیاء کے فاضل پرزوں کی دستیابی اور ان کو سمجھنے والے ماہرین کی بھی کمی ہے۔

چار ہزار روپے تک ملنے والے بجلی کے جنریٹروں کے بارے میں مشہور ہے کہ ایک مرتبہ خراب ہونے سے وہ بےکار ہوجاتے ہیں۔ پیسے والے لوگ چینی مصنوعات اسی خوف کی وجہ سے نہیں خریدتے۔

اس کا جواب ایک تاجر نے یوں دیا کہ پاکستان میں لایا جانے والا اکثر چینی سامان معیاری ہوتا ہی نہیں۔ ’لوگ یہاں قیمتی لیکن معیاری اشیاء خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ لہذا ہم کیوں ایسا سامان لائیں جو پھر فروخت کرنا مشکل ہو۔‘

چینی مصنوعات کی یلغار کے بارے میں سرکاری سطح پر قابل اعتبار اعداوشمار دستیاب نہیں۔ اس کی وجہ چین سے سمگلنگ ہے۔ سب مال سرکاری محصولات کے بغیر بلکہ دیگر طریقوں اور راستوں سے بھی آ رہا ہے۔

لیکن سٹیٹ بنک آف پاکستان کے مطابق چین سے درآمدات گزشتہ پانچ برسوں میں دو گنی ہوچکی ہیں اور اس میں مزید اضافہ بھی تیزی سے جاری ہے۔

کئی پاکستانی تاجر ابھی سے چینی برآمدات کی مقدار پر پابندی کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ لیکن سٹیٹ بنک اس اعتراض کو فی الحال یہ کہہ کر رد کر رہا ہے کہ اس سے عام آدمی کو فائدہ ہو رہا ہے۔

چینقابلِ رشک چین
معاشی ترقی کی شاہراہ پر چین کاتیز تر سفر
تقریباتبندر کا سال
چین اور ایشیائی ممالک میں قمری سال کا آغاز۔
چین2004: چین کا سال
چین نے تجزیہ نگاروں کو درست ثابت کر دیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد