BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 January, 2005, 19:44 GMT 00:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چین کی قابلِ رشک معاشی ترقی

چینی کرنسی
سستا ین بھی سالانہ آمدنی میں خاطر خواہ اضافے میں معاون ثابت ہوا ہے
کیا چین کا عفریت امریکہ اور باقی دنیا پر چھا جائے گا؟ چند برس پیشتر یہ محض قیاس آرائی تھی لیکن اگر 2004 کی طرح اس کی سالانہ آمدنی 9.5 فیصد سالانہ کی رفتار سے بڑھتی رہی تو پندرہ سے بیس سالوں میں چین دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہو گا۔

چین کی ترقی بے مثال اس لئے بھی ہوگی کہ اس کی آبادی صرف
آدھا فیصد ( 57ء) بڑھ رہی ہے یعنی کہ اس کی نقد یا نیٹ ترقی 9 فیصد ہے۔ چین کی قومی پیداوار1978 سے لیکر اب تک چار گنا ہو چکی ہے۔

اس وقت بھی چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے۔ امریکہ کی سالانہ قومی آمدنی گیارہ کھرب ڈالر ( 10.99) ہے جبکہ چین کی آمدنی ساڑھے چھ کھرب ڈالر ہے۔ جاپان کی قومی پیداوار چین سے تقریبا آدھی (3.58 ) ہے اور وہ تیسرے نمبر پر بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ اگر چین، امریکہ اور جاپان اپنی موجودہ رفتار سے ترقی کرتے رہے تو پندرہ سال میں چین کی معشیت امریکہ کے برابر ہو گی اور جااپان سے تین چار گنا بڑی ہو گی۔

باوجود اس کے کہ چین میں غربت کی دہلیز سے نیچے رہنے والے صرف دس فیصد ہیں جبکہ امریکہ میں ان کی تعداد بارہ فیصد ہے پھر بھی چین کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اس کی فی کس آمدنی صرف 5000 ڈالر ہے جبکہ امریکہ میں فی کس آمدنی 37800 ڈالر ہے اور جاپان میں28200 ڈالر ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ چین کی آبادی اب بھی نسبتا غریب ہے جس کی وجہ سے درون ملک قوت خرید کم ہے۔ اگر چینیوں کی اندرونی قوت خرید بھی قومی پیداوار کے تناسب سے بڑھتی رہی تو چین نہ صرف دنیا کا نا قابل مثال معاشی جن ہو گا بلکہ وہ اپنے آپ میں دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ ہوگا۔

چین خاموشی سے معاشی ترقی ہی نہیں کر رہا بلکہ وہ دنیا میں دیرپا نوعیت کے تجارتی اور سٹریٹیجک روابط بھی قائم کر رہا ہے۔ وہ مشرق بعید کے تجارتی گروپ آسیان میں بھی ہندوستان اور جاپان کے ہمراہ شامل ہو کر اسے دنیا کا سب سے بڑا تجارتی بلاک بنا چکا ہے۔ وہ یورپین یونین کے ساتھ مل کر خلائی تحقیق میں بھی سرمایہ کاری کر رہا ہے اور پاکستان میں گوادر بندرگاہ کی تعمیر سے مشرق وسطی سے تیل کی نقل و حمل کو بھی محفوظ کر رہا ہے۔ اپنے پڑوسیوں سے قربت بڑھانے کے لئے وہ ایران و وسط ایشیا کے ملکوں سے تیل اور گیس کی پائپ لائنیں بھی بچھا رہا ہے۔ اب تو اس نے روس کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کر کے دنیا کو اور بھی حیران کر دیا ہے۔

چین کے سماجی اشاریے (تعلیم، صحت اور دوسری سہولتیں) بھی بہت مناسب ہیں ، اس میں سرمایہ کاری بھی دنیا میں سب سے زیادہ ہورہی ہے اور اس کی برآمدات بھے تیزی سے بڑھ رہی ہیں لیکن اس کی ترقی کا یہ سفر سیدھی لکیر پر نہیں ہوگا۔ پچھلے چند مہینوں سی چین میں افراط زر کا لاحق خدشہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے حکومت نے شرح شود میں اضافہ کر دیا ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کاری میں سست رفتاری کا خطرہ ہے۔ یہ سب مشکلات وقتی ہوں گی اور چین تڑے مڑے راستوں پر چلتے ہوئے دنیا کی سپر پاور بننے کے قریب پہنچ چکا ہے۔

ایشوریا رائےواشنگٹن ڈائری
سونامی کے نام پر پی آر، ایشوریا کی مسکراہٹ
واشنگٹنامریکہ کے نئے پردھان
قانون اور سلامتی کے نئے سربراہ کون؟ منظور اعجاز
گولڈن گلوبواشنگٹن ڈائری
لوتھر کنگ، بگلیہارڈیم اور گولڈن گلوب ایوارڈ
جاپانگڑیوں کے دیس میں
’جاپانی ایک دن کے لیے عیسائی ہو جاتے ہیں‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد