قانون اور سلامتی کے نئے پردھان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پچھلے ہفتے نیوزویک نے لکھا تھا کہ صدر بش اور سابقہ صدر کلنٹن کے درمیان کافی گرمجوشی پائی جاتی ہے اور ان کی دوستی گہری ہو گئی ہے۔ ابھی اس کہانی کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی کہ صدر بش نے کلنٹن کے خلاف وائٹ واٹر کیس میں ریپبلکن پارٹی کے وکیل مائیکل چیرتوف کو داخلی سلامتی کا وزیر نامزد کر دیا ہے۔ یہ وہی مائیکل چیرتوف ہیں جنہوں نے 11/9 کے مقدمے میں ملوث ذکریا موسوی کے خلاف بھی سرکار کی جانب سے دلائل دیے تھے۔ اس سے پہلے جناب چیرتوف کو صدر بش نے ہی اپیل کورٹ کا جج مقرر کیا ہوا تھا۔ ان کے مخالفین کا اعتراض ہے کہ وہ جج بننے سے پہلے وزارت انصاف میں بدنام وزیر قانون جان ایش کرافٹ کے نائب تھے اور انہوں نے سول آزادیوں کو ختم کرنے میں مقدور بھر حصہ لیا تھا۔ ان پر یہ بھی اعتراض ہے کہ بش انتظامیہ کی دہشت گردی کے خلاف پالیسی کی انتہا پسندی میں ان کا برابر کا ہاتھ تھا۔ جناب مائیکل چیرتوف کو اس لیے بھی نامزد کیا گیا ہے کہ وہ پہلے تین مرتبہ سینٹ کے سامنے پیش ہو کر مختلف عہدوں پر فائز ہونے کی منظوری لے چکے ہیں۔
جناب مائیکل چیرتوف نے ہارورڈ یونیورسٹی سے لاء کی ڈگری حاصل کی اور سپریم کورٹ کے جسٹس ولیم برینن جونیر کے لاء کلرک بن گئے۔ اس کے بعد وہ نیویارک میں سرکاری وکیل مقرر ہوئے اور نیو جرسی میں یو ایس اٹارنی ہو گئے۔ وہ صدر کلنٹن کا احتساب کرنے والی کمیٹی کے ریپبلکن وکیل تھے۔ شاید انہی خدمات کی بنا پر ان کو پہلے وزارت قانون میں جان ایش کرافٹ کے تحت جرائم کے شعبے کا ڈپٹی بنایا گیا اور بعد میں سپیل کورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔ بظاہر ریپبلکن پارٹی کے ساتھ وفاداری ان کو اس عہدے تک لائی ہے۔ ٭٭٭٭ وزیر اعظم شوکت عزیز اور گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین کی جنرل مشرف کے ساتھ وفاداری کے بارے میں تو کسی کو کوئی شک نہیں ہے لیکن امریکہ کے قدامت پرست تھنک ٹینک ہیریٹیج فاؤنڈیشن نے ان کی آزاد سرمایہ داری کے ساتھ وفاداری کے بارے میں شک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔
فاؤنڈیشن اس سکور کو ماپنے کے لیے تجارتی پالیسی، حکومت کا مالی بوجھ ،معیشت میں حکومتی مداخلت، بیرونی سرمائے کا بہاؤ، مانیٹری پالیسی، بینکنگ، اجرتیں اور اشیاء کی قیمتیں اور مالکانہ حقوق کی حفاظت جیسے عوامل کو بنیاد بناتی ہے۔ انڈکس کے معماروں نے کہا ہے کہ پاکستان میں تجارت اور بینکاری پر بہت پابندیاں ہیں، بیرونی سرمایے کے راستے میں بہت سی رکاوٹیں ہیں اور ہر شعبے میں حکومتی مداخلت ضرورت سے بڑھی ہوئی ہے۔ پاکستان کے سیاسی استحکام کے بارے میں بھی شدید شک و شبہات کا اظہار کیا گیا ہے۔ سب سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ تحقیق کے مطابق بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے زمانے میں معاشی آزادی بہتر حالت میں تھی۔ ٭٭٭٭٭ حیران کن تو امریکہ میں ہسپانوی نژاد آبادی میں اضافہ بھی ہے اور اس کا اثر و رسوخ بھی۔ ریاست ایریزونامیں پیدا ہونے والے بچوں میں سب سے مقبول نام ہوزے تھا جوکہ ہسپانوی نام ہے۔ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اس ریاست میں بیس سالوں میں سفید فام یورپی اقلیت میں ہو جائیں گے اور ہسپانوی اکثریت میں۔ ان کے مخالفین کا اعتراض ہے کہ وہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہیں اور یہ کہ انہوں نے افغانستان سے پکڑے جانے والے جنگی قیدیوں پر تشدد کے لیے قانونی نقاط فراہم کیے لیکن یہ واضح ہے کہ وہ اقلیت کے پہلے نمائندے ہیں جو وزیر قانون بنیں گے۔ اقلیتوں کو آگے بڑھنے کے لیے ہر ملک میں اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے غیر معمولی کام کرنا پڑتے ہیں جو البرٹو گنزالس نے بھی کیے ہوں گے۔ ٭٭٭٭ جیو ٹی وی اور اے آر وائی امریکہ کے ٹی وی ناظرین کو اپنی طرف کھینچنے کے لیے ہر معمولی و غیر معمولی کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ عید فطر سے پہلے اے آر وائی نے چاند رات منانے کا منصوبہ بنا رہی تھی کہ بات باہر نکل گئی اور جیو ٹی وی نے راتوں رات پوری امریکہ میں چاند رات منانے کا اہتمام کر ڈالا۔ جیو نے دوسرے ملکوں میں بھی چاند رات منانے کا بندوبست کیا اور ہر شہر سے براہ راست پروگرام ٹیلی کاسٹ کیا۔ پروگرام کافی حد تک کامیاب ہوا۔ جیو انتظامیہ نے سارا کچھ اتنے سگھڑ پن سے کیا کہ ہینگ لگی نہ پھٹکڑی اور رنگ آیا چوکھا۔انہوں نے امریکہ میں پروگرام کر کے نام پیدا کرنے والوں میں ایک طرح کی مقابلہ بازی کروادی۔ چنانچہ ہر کام کے لیے تین تین ٹیمیں موجود۔ بعض شہروں میں تھوڑا بہت ہلا گلا بھی ہوا لیکن مجموعی طور پر جیو اپنے مقصد میں اتنا کامیاب رہا کہ اب عیدالضحی پر پھر سے چاند رات کا پروگرام بن رہا ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ ہینگ کس کو لگتی ہی اور پھٹکڑی کس کو۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||