منظور اعجاز واشنگٹن، امریکہ |  |
 |  ڈالر یورو کے مقابلے میں جنگ ہارتا دکھائی دے رہا ہے |
جب صدر بش اپنے ٹیکساس رینچ میں بیٹھے چین کی بنسی بجاتے ہوئے یہ سوچ رہے تھے کہ امریکی امراء کو مزید ٹیکس چھوٹ کیسے دی جائے ڈالر ڈبکیاں لیتے لیتے کافی گہرائی تک ڈوب چکا تھا۔ صدر بش شاید اس لئے متفکر نہیں ہیں کہ ان کو کہا گیا ہے کہ حسب سابق، کرے گا داڑھی والا اور پکڑا جائے گا مونچھوں والا۔ یعنی امریکہ کی شاہ خرچیوں کی قیمت چین ، جاپان اور دوسرے ملک چکا ہی دیں گے۔ جب صدر بش امریکیوں کے ٹیکس کم کر رہے تھے یا عراق میں جنگ شروع کر رہے تھے تو چینیوں اور جاپانیوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کہ امریکہ کی مہم جوئی کا خرچ وہ برداشت کریں گے۔ انہوں نے تو امریکہ کو محفوظ ترین قلعہ سمجھ کر اس کے بانڈ خریدے تھے۔ ان کو کیا پتہ تھا کہ بش کی پالیسیاں ڈالر کو لے ڈوبیں گی اور ان کو امریکی بانڈوں پر منافع تو کیا ملنا ہے اصل زر بھی کھوٹا ہو جائے گا۔ ہو یہی کچھ رہا ہے کہ جوں جوں ڈالر گر رہا ہے چین، جاپان، تائیوان، جنوبی کوریا اور امریکہ میں سرمایہ کاری کرنے والے ملکوں کا گھاٹا بڑھ رہا ہے۔ نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق گرتے ہوئے ڈالر کی بدولت امیر ترین ملکوں کے سنٹرل بینکروں کی نیند حرام ہو چکی ہے۔  |  جاپانی اب تک 720 بلین ڈالر کے امریکی بانڈ خرید چکے ہیں | امریکہ اپنی شاہ خرچیوں کو پورا کرنے کے لئے جو قرضہ لیتا ہے وہ اس سال بڑھ کر 620 بلین ڈالر ہو گیا ہے۔ امریکہ یہ قرضہ اپنے خزانے کے بانڈ بیچ کر لیتا ہے جس پر اسے سود ادا کرنا پڑتا ہے۔ ہر ملک اپنے خزانے کے بانڈ بیچ کر خسارہ پوراکرنا چاہتا ہے لیکن بین الاقوامی منڈی میں ان کے بانڈوں کی وہ قدر نہیں ہے جو امریکی بانڈوں کی ہوتی ہے۔ اگر دوسرے ملک بھاری تعداد میں امریکہ کے سرکاری بانڈ نہ خریدیں تو اس کا بجٹ کے خسارے کی وجہ سے شرح سود آسمان کو چھونے لگے گا اور اس کی معیشت ڈوبنے لگے۔بھلا ہو جاپانیوں کا جو اب تک 720 بلین ڈالر کے امریکی خزانے کے بانڈ خرید چکے ہیں یا چینیوں کا جنہیں 600 بلین ڈالر کے زر مبادلہ کے ذخائر کے لئے امریکہ کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ تائیوان 235 اور جنوبی کوریا 193 بلین ڈالر کے وفر سرمایے کے لیے محفوظ سرمایہ کاری کی تلاش میں سرگرداں امریکہ پہنچ جاتے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ امریکی شاپنگ سنٹروں کی گہما گہمی اور صارفین کی اشیاء کی بھوک جاپان، چین جیسے ملکوں کے دم سے ہے جو امریکہ میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔ عام معاشی اصول ہے کہ بجٹ کا خسارہ بڑھنےوالے ملک کا عالمی منڈی میں وقار مشکوک ہوجاتا ہے، شرح سود بڑھ جاتی ہی اور معاشی سرگرمیاں ٹھنڈی پڑھ جاتی ہیں۔ امریکہ کو کچھ فرق تو پڑا ہے لیکن چونکہ اس کی کرنسی دنیا کا مسلمہ سکہ ہے اس لئے وہ اپنا وقار اور خوشحالی کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس کی جاری کردہ بانڈوں کو اب بھی ہاتھوں ہاتھ لیا جا رہا ہے۔  |  چینی 600 بلین ڈالر کے زر مبادلہ کے ذخائر کے لئے امریکہ کا رخ کرتے ہیں | جاپان تو امریکہ کے سرکاری بانڈ خریدتا ہے لیکن چین نے امریکہ کی ریل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری شروع کی ہوئی ہے۔ اس نے اس مارکیٹ میں اتنا پیسہ بہایا ہے کہ شرح سود بہت نیچے ہے اور ریل سٹیٹ مارکیٹ گرما گرم۔ اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ اگر کبھی چین نے اپنا سرمایہ نکالنے کا فیصلہ کر لیا تو امریکہ کو سنجیدہ مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ویسے چین اور جاپان بھی کچھ ایسے بھولے نہیں ہیں کہ وہ صرف امریکہ کی خوشنودی کے لئے اس کی مالیاتی منڈی کی حفاظت کر رہے ہیں۔ جاپان امریکہ کی شرح سود کو اس لئے نیچا رکھتا ہے کہ اس کی کاریں بکتی رہیں۔ چین امریکہ کی ریل اسٹیٹ کو اس لئےگرم رکھے ہوئے ہے کہ اس کی گھریلو صنت کی اشیاء بکتی رہیں۔ کوریا اور تائیوان کا مفاد بھی چین سے ملتا جلتا ہے۔ ڈالر کے ساتھ اگر روپے کی قیمت بھی کم ہوئی تو پاکستانی اہلکار یہی جواز دیں گے کہ ڈالر روپے کو لے ڈوبا۔ ہمارے خیال میں یہ عذرلنگ ہو گا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہر کرنسی ڈالر کے مقابلے میں مہنگی ہو رہی ہے تو روپیہ کیوں نہیں؟ ڈالر گرنے اور امریکہ میں شرح سود بڑھنے سے پاکستان کو نقصان یہ ہوگا کہ اس کی بیرونی قرضے پر قسطیں بڑھ جائیں گی۔ |