BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 December, 2004, 12:30 GMT 17:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جاپان میں جناح، جینا اور پرانی کاریں

پرانی کاریں
ہر سال بڑی تعداد میں ری کنڈیشن گاڑیاں پاکستان درآمد کی جاتی ہیں
جاپان کے سفر میں اپنے ہمراہی خواجہ اشرف کی بے چینی سے اندازہ ہوا کہ امریکی تو امریکی پاکستانی امریکی بھی ہر نئے ملک میں سب سے پہلے میکڈونلڈ کی تلاش کرتے ہیں۔

ٹوکیو کے وسطی علاقے شنجوکو کے مرکز میں میکڈونلڈ میں ناشتہ کا نشہ لے کر خواجہ صاحب نے ایک جناح نامی دیسی ریستوران بھی تلاش کر لیا۔ شام کو جب ہمارے دوست ڈاکٹر ارشد علی اور ڈاکٹر عتیق الرحمن ٹوکیو یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے انچارج جناب اسادا یوٹاکا کے ہمراہ ہمیں جناح ریستوران لے کر پہنچے تو اس کے مالک فیروزپور مشرقی پنجاب کے سردار گردیو سنگھ نے ہماری تصحیح کرتے ہوئے بتایا کہ یہ جناح نہیں جینا (بمعنی زندگی) ہے۔

قطع نظر نام کے سردار گردیو سنگھ کی ٹوکیو میں پکنے والی چنے کی دال میں پنجاب کا چٹخارہ برابر تھا۔ ریستوران میں ہمارے علاوہ سب جاپانی مرچوں والا کھانا کھا کر سو سو کر رہے تھے۔

ایک ہفتے ٹوکیو کے قیام کے دوران موتی اور نٹ راج جیسے اور بہت سے دوسرے دیسی ریستورانوں کا پتہ چلا لیکن ٹوکیو میں پاکستانیوں کی وجہ شہرت یہ نہیں ہے۔ اگر نیویارک اور واشنگٹن میں پاکستانیوں نے ٹیکسی کے کاروبار پر غلبہ حاصل ہے تو ٹوکیو کے پاکستانی پُرانی کاروں کے کاروبار پر چھائے ہوئے ہیں۔

ہندوستانی جوڑا
جاپان میں ایشیائی باشندوں کی اچھی خاصی آبادی ہے
اس طرح کے کاروبار کرنے کے لئے انہیں جاپانی خواتین سے شادیاں کرنا پڑتی ہیں کیونکہ جاپان میں شہریت اختیار کر کے قانونی کاروبار کرنے کے دوسرے مواقع محدود ہیں۔ ٹوکیو کے پرانے باسی ملک حبیب الرحمن اپنی پنجابی نظموں میں مجبوری کی ان شادیوں کا رونا روتے رہتے ہیں۔ ڈاکٹر ارشد نے ہمیں یہ بتا کر چونکا دیا کہ کہ ایک حالیہ سروے کے مطابق جاپانی خواتین سے شادیاں کرنے والے غیر ملکیوں میں پاکستانیوں کو سبقت حاصل ہے۔

ٹوکیو کی ایک کروڑ بیس لاکھ آبادی میں غیر ملکی باشندے بہت زیادہ نہیں ہیں۔ جاپان ریڈیو کی اردو سروس کے سابقہ انچارج جناب ہیروفیمی ساتو کہتے ہیں کہ اب پہلے کی نسبت زیادہ پاکستانی ہندوستانی نظر آنے لگے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق ٹوکیو میں دس ہزار کے قریب پاکستانی آباد ہیں جن میں اعلی تعلیم کے لئے آئے ہوئے طلباء کے علاوہ مزدور اور کاروباری لوگ بھی ہیں۔ ٹوکیو اس قدر گنجان آبادی کا شہر ہے کہ اس میں چند ہزار پاکستانی تو آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہوں گے۔

ویسے تو ٹوکیو کی فلک بوس عمارتوں اور اس کی گلیوں اور بازاروں میں انسانوں کے اژدہام کی مثال دنیا میں نہیں ہے لیکن شنجوکو اور شیبیا کی سڑکوں پر بہنے والا انسانوں کا ریلا اتنا بھرپور ہوتا ہے کہ اس کے سامنے نیویارک اور لندن کی مصروف ترین سڑکوں کی ٹریفک خس و خاشاک کی طرح بہ جائے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس کے باوجودصاف شفاف سڑکوں پر لاکھوں کروڑوں انسان بغیر کسی حادثے کے چلے جا رہے ہیں۔ ہم نے اپنے ایک ہفتے کے قیام میں کسی سڑک پر کوئی حادثہ یا لڑائی مارکٹائی کا سین نہیں دیکھا۔

ٹوکیو
ٹوکیو کی فلک بوس عمارتوں اور اس کی گلیوں اور بازاروں میں انسانوں کے اژدہام کی مثال دنیا میں نہیں ہے
ٹوکیو کی نیریتا ایرپورٹ سے شنجوکو میں ہوٹل تک پہنچانے والے ہمارے دوست وحید سنڈل کا کہنا ہے کہ تھوڑی سی جگہ میں اتنے زیادہ انسانوں کے سمانے سے جاپانی قوم میں ایک منفرد سلیقہ پیدا ہو چکا ہے۔ یہ سلیقہ ان کے رہنے سہنے میں بھی ہے اور ان کی صنعتی مصنوعات میں بھی۔ ہماری ٹور گائیڈ یکی جاپان کی گنجان آبادی کی سنگینی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتی ہے کہ کہ جاپان کی 127 ملین آبادی اس طرح سے رہ رہی ہے کہ امریکہ کی آدھی آبادی کو سکڑ سکڑا کر صرف کیلیفورنیا کی ریاست میں رہنا پڑے۔ لیکن کسی کو بھی اس کثیر آبادی کا مستقبل معلوم نہیں ہے کیونکہ جاپان کی آبادی بڑھنے کی بجائے گھٹ رہی ہے۔ اب جاپان میں بوڑھے اور ادھیڑ عمر زیادہ نظر آتے ہیں اور بچے کم۔

ٹوکیو یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے چیر مین جناب اسادا یوٹاکا کہتے ہیں کہ جاپانی خواتین شادی سے گریزاں ہیں لیکن ان کے خیال میں آبادی کے سلسلے میں جاپان کا حال مغرب کے دوسرے صنعتی ممالک سے مختلف نہیں ہے۔

جاپان صنعتی ترقی میں مغرب کی برابری کرتا ہے لیکن اب بھی اس کے قابل دید مقامات بادشاہوں کے محل اور درگاہیں ہیں۔ شاید جاپان واحد ملک ہے جس میں بادشاہوں کے نام پر درگاہیں ہیں۔ جاپانی عوام کے لئے بادشاہ ہی خدا تھا جس کے نام پر مال اور جان قربان کیا جاتا تھا۔ ویسے کہنے کو تو ہندوستان میں بھی بادشاہ کو ظِل الہی تھا لیکن جاپان میں اسے واقعی خدا مانا جاتا تھا۔

میکڈونلڈ
دیگر ایشیائی ملکوں کی طرح جاپان میں بھی میکڈونلڈ کے برگرز لوگوں کو کافی مرغوب ہیں
ہمارے جاپانی میزبان بتاتے ہیں کہ جنگ عظیم دوم سے پہلے بادشاہ کی ولادت کے دن اس کی تصویر کو ہزاروں پردوں سے نکالا جاتا تھا اور سکول میں طلباء کو اس کا دیدار کروایا جاتا تھا لیکن طلباء یا عام لوگوں میں بادشاہ کی تصویر کو نظر بھر کر دیکھنے کی تاب نہیں ہوتی تھی۔ اب بھی بادشاہ سال میں ایک مرتبہ ہی عوام کو دیدار دینے کے لئے ظاہر ہوتے ہیں۔

آج بھی کروڑوں جاپانی عوام بادشاہوں کی درگاہوں پر منتیں ماننے آتے ہیں۔ ٹوکیو میں شہنشاہ میجی کی مشہور درگاہ پر جوڑے برکت کے لئے شادیاں کر رہے ہیں۔ ایک نوجوان جوڑا اپنے والدین کے ہمراہ اپنے بچے کی پیدائش کی منت پوری کرنے کے لئے پہنچا ہوا ہے۔ نوجوان ماں شہنشاہ میجی کی درگاہ پر حاضری دینے کے لئے روایتی دلہن کا لباس پہنے ہوئے ہے۔ درگاہ پرحاضری دینے والے ہزاروں جاپانی تالی بجا کر منتیں مانگتے ہیں اور درگاہ پر سکے پھینکتے جاتے ہیں۔ اسی طرح آسا کوسا کی مشہور درگاہ کی مقدس آگ سے منتیں ماننے والوں اور قلب کی صفائی کرنے والوں کی تعداد کا شمار مشکل ہے۔ میرے ہمراہی ڈاکٹر خواجہ اشرف کہتے ہیں کہ جاپان توہم پرستی میں پاک و ہند سے کسی بھی طرح پیچھے نہیں ہے۔

ہماری گائیڈ یکی شہنشاہ میجی کی درگاہ کی فضیلت بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ یہ وہ بادشاہ تھا جس نے جاپان کو جدیدیت کے راستے پر گامزن کیا۔اس سے پہلے کئی سو سال تک بادشاہ کو کیوٹو کے دور دراز شہر میں دھکیل کر شوگنوں نے قبضہ کر لیا تھا۔ یہ شوگن فوجی ڈکٹیٹر تھے اور جاپان کو دنیا سے کاٹ کر رکھے ہوئے تھے۔ بیرونی دنیا کے لوگ آبنائے ٹوکیو کے کنارے ایک چھوٹے سے جزیرے تک پہنچ سکتے تھے جس کی یادگار آج بھی موجود ہے۔ یکی بتاتی ہے کہ شہنشاہ میجی نے پر امن انقلاب کے ذریعے ترقی یافتہ ملک بنایا۔ یہ سن کر میرے ہمراہی نے کہا کہ خدا جانے پاکستان شوگنوں سے کب آزاد ہو گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد