جاپان میں جناح، جینا اور پرانی کاریں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جاپان کے سفر میں اپنے ہمراہی خواجہ اشرف کی بے چینی سے اندازہ ہوا کہ امریکی تو امریکی پاکستانی امریکی بھی ہر نئے ملک میں سب سے پہلے میکڈونلڈ کی تلاش کرتے ہیں۔ ٹوکیو کے وسطی علاقے شنجوکو کے مرکز میں میکڈونلڈ میں ناشتہ کا نشہ لے کر خواجہ صاحب نے ایک جناح نامی دیسی ریستوران بھی تلاش کر لیا۔ شام کو جب ہمارے دوست ڈاکٹر ارشد علی اور ڈاکٹر عتیق الرحمن ٹوکیو یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے انچارج جناب اسادا یوٹاکا کے ہمراہ ہمیں جناح ریستوران لے کر پہنچے تو اس کے مالک فیروزپور مشرقی پنجاب کے سردار گردیو سنگھ نے ہماری تصحیح کرتے ہوئے بتایا کہ یہ جناح نہیں جینا (بمعنی زندگی) ہے۔ قطع نظر نام کے سردار گردیو سنگھ کی ٹوکیو میں پکنے والی چنے کی دال میں پنجاب کا چٹخارہ برابر تھا۔ ریستوران میں ہمارے علاوہ سب جاپانی مرچوں والا کھانا کھا کر سو سو کر رہے تھے۔ ایک ہفتے ٹوکیو کے قیام کے دوران موتی اور نٹ راج جیسے اور بہت سے دوسرے دیسی ریستورانوں کا پتہ چلا لیکن ٹوکیو میں پاکستانیوں کی وجہ شہرت یہ نہیں ہے۔ اگر نیویارک اور واشنگٹن میں پاکستانیوں نے ٹیکسی کے کاروبار پر غلبہ حاصل ہے تو ٹوکیو کے پاکستانی پُرانی کاروں کے کاروبار پر چھائے ہوئے ہیں۔
ٹوکیو کی ایک کروڑ بیس لاکھ آبادی میں غیر ملکی باشندے بہت زیادہ نہیں ہیں۔ جاپان ریڈیو کی اردو سروس کے سابقہ انچارج جناب ہیروفیمی ساتو کہتے ہیں کہ اب پہلے کی نسبت زیادہ پاکستانی ہندوستانی نظر آنے لگے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ٹوکیو میں دس ہزار کے قریب پاکستانی آباد ہیں جن میں اعلی تعلیم کے لئے آئے ہوئے طلباء کے علاوہ مزدور اور کاروباری لوگ بھی ہیں۔ ٹوکیو اس قدر گنجان آبادی کا شہر ہے کہ اس میں چند ہزار پاکستانی تو آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہوں گے۔ ویسے تو ٹوکیو کی فلک بوس عمارتوں اور اس کی گلیوں اور بازاروں میں انسانوں کے اژدہام کی مثال دنیا میں نہیں ہے لیکن شنجوکو اور شیبیا کی سڑکوں پر بہنے والا انسانوں کا ریلا اتنا بھرپور ہوتا ہے کہ اس کے سامنے نیویارک اور لندن کی مصروف ترین سڑکوں کی ٹریفک خس و خاشاک کی طرح بہ جائے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس کے باوجودصاف شفاف سڑکوں پر لاکھوں کروڑوں انسان بغیر کسی حادثے کے چلے جا رہے ہیں۔ ہم نے اپنے ایک ہفتے کے قیام میں کسی سڑک پر کوئی حادثہ یا لڑائی مارکٹائی کا سین نہیں دیکھا۔
ٹوکیو یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے چیر مین جناب اسادا یوٹاکا کہتے ہیں کہ جاپانی خواتین شادی سے گریزاں ہیں لیکن ان کے خیال میں آبادی کے سلسلے میں جاپان کا حال مغرب کے دوسرے صنعتی ممالک سے مختلف نہیں ہے۔ جاپان صنعتی ترقی میں مغرب کی برابری کرتا ہے لیکن اب بھی اس کے قابل دید مقامات بادشاہوں کے محل اور درگاہیں ہیں۔ شاید جاپان واحد ملک ہے جس میں بادشاہوں کے نام پر درگاہیں ہیں۔ جاپانی عوام کے لئے بادشاہ ہی خدا تھا جس کے نام پر مال اور جان قربان کیا جاتا تھا۔ ویسے کہنے کو تو ہندوستان میں بھی بادشاہ کو ظِل الہی تھا لیکن جاپان میں اسے واقعی خدا مانا جاتا تھا۔
آج بھی کروڑوں جاپانی عوام بادشاہوں کی درگاہوں پر منتیں ماننے آتے ہیں۔ ٹوکیو میں شہنشاہ میجی کی مشہور درگاہ پر جوڑے برکت کے لئے شادیاں کر رہے ہیں۔ ایک نوجوان جوڑا اپنے والدین کے ہمراہ اپنے بچے کی پیدائش کی منت پوری کرنے کے لئے پہنچا ہوا ہے۔ نوجوان ماں شہنشاہ میجی کی درگاہ پر حاضری دینے کے لئے روایتی دلہن کا لباس پہنے ہوئے ہے۔ درگاہ پرحاضری دینے والے ہزاروں جاپانی تالی بجا کر منتیں مانگتے ہیں اور درگاہ پر سکے پھینکتے جاتے ہیں۔ اسی طرح آسا کوسا کی مشہور درگاہ کی مقدس آگ سے منتیں ماننے والوں اور قلب کی صفائی کرنے والوں کی تعداد کا شمار مشکل ہے۔ میرے ہمراہی ڈاکٹر خواجہ اشرف کہتے ہیں کہ جاپان توہم پرستی میں پاک و ہند سے کسی بھی طرح پیچھے نہیں ہے۔ ہماری گائیڈ یکی شہنشاہ میجی کی درگاہ کی فضیلت بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ یہ وہ بادشاہ تھا جس نے جاپان کو جدیدیت کے راستے پر گامزن کیا۔اس سے پہلے کئی سو سال تک بادشاہ کو کیوٹو کے دور دراز شہر میں دھکیل کر شوگنوں نے قبضہ کر لیا تھا۔ یہ شوگن فوجی ڈکٹیٹر تھے اور جاپان کو دنیا سے کاٹ کر رکھے ہوئے تھے۔ بیرونی دنیا کے لوگ آبنائے ٹوکیو کے کنارے ایک چھوٹے سے جزیرے تک پہنچ سکتے تھے جس کی یادگار آج بھی موجود ہے۔ یکی بتاتی ہے کہ شہنشاہ میجی نے پر امن انقلاب کے ذریعے ترقی یافتہ ملک بنایا۔ یہ سن کر میرے ہمراہی نے کہا کہ خدا جانے پاکستان شوگنوں سے کب آزاد ہو گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||