BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 December, 2004, 12:22 GMT 17:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سائنس کی ضد رجعت پسندی

ڈیموکریٹک پارٹی کے دور میں تعلیمی نصاب پر بھی مذہبی رجعت پسندی غالب آ رہی ہے
ریپبلیکن پارٹی کے دور میں تعلیمی نصاب میں بھی مذہبی رجعت پسندی غالب آ رہی ہے
جب پاکستان نے تعلیمی نصاب میں سائنس اور تاریخ کو مذہبی رنگ دینے میں رہنما حیثیت اختیار کرلی تو بی جے پی کو دوڑ کر آگے بڑھنے کی سوجھی۔

آخر ایسے ہی تو نہیں کہا گیا نہ کہ اگر ’شریک دا منہ لال ہووے تے اپنا چپیڑاں مار کے لال کر لوؤ‘ (اگر رقیب کا منہ سرخ ہو تو اپنا تھپڑ مار کر سرخ کر لو)۔

بھاگم دوڑ بی جے پی نے بھی ہر علم پر ہندوتوا کا رنگ پھیرنا شروع کردیا۔

آخر ’شریکوں کے شریک‘ امریکی پیچھے کیوں رہتے؟ انہوں نے بھی اپنے نصاب کو مقدس رنگ میں رنگنا شروع کر دیا۔ ان کو پاکستان اور ہندوستان میں علموں کو تروڑنا مروڑنا بہت چُبھتا ہے لیکن اپنے ہاں ہونے والی مذہبی تحریک کو ووٹروں کی ترجیحات کا نام دے کر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

ڈیموکریٹک امریکی کانگرس میں ہنری ویکسمین نے چند دن پہلے ایک رپورٹ شائع کی جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کے پیسوں سے پاکبازی کی تعلیم دینے والے پروگراموں میں نوجوان لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے-

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان پروگراموں میں سائنس کی نفی کی جاتی ہے اور ایسی باتوں کا پرچار کیا جاتا ہے جو حقائق کے الٹ ہیں۔مثلاً نوجوانوں کو شادی سے پہلے پاکباز رکھنے کے لیے کہا جاتا ہے کہ اگر انہوں نے جنسِ مخالف کو چھو بھی لیا تو لڑکی حاملہ ہو سکتی ہے یا ان کو ایڈز کی بیماری ہو سکتی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے اس سے بچے گمراہ ہو رہے ہیں۔ ان کو عملی زندگی کے لیے تیارکرنے کی بجائے غلط راستے پر ڈالا جا رہا ہے۔

یہ پروگرام چھوٹی عمر کے لوگوں کو بن بیاہے والدین بننے سے روکنے کے لیے ریگن دور میں تھوڑی سی رقم سے شروع کیا گیا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ نوجوانوں کو روکنے کے لیے سائنسی تعلیم سے روشناس کرنے کی بجائےاخلاقی درس دیا جائے۔

اس زمانے میں اسے خاتون اول نینسی ریگن کا ذہنی خبط سمجھ کر مذاق اڑایا جاتا تھا لیکن بُش تک آتے آتے جب کانگرس اور سینیٹ بھی ڈیموکریٹک ہاتھوں سے نکل کر ریپبلکن پارٹی کے شکنجے میں آچکی تو اس طرح کے پروگرام قدامت پرست حلقوں میں کافی معزز اور مقبول ہو چکے تھے۔

اس طرح کے پروگراموں کو مذہبی نظریے کے تسلط کے لیے استعمال کیا گیا۔
حقیقت تو یہ ہے کہ امریکہ کے قدامت پرستوں کا ایجنڈا ہی یہ ہے کہ اپنے مذہب کو بالا تر رکھنے کے لیے اگر سائنس کی نفی کرنا پڑے تو اس سے دریغ نہ کیا جائے۔

دلچسپ بات تو یہ ہے کہ وہ اس میں کامیاب بھی ہو رہے ہیں۔ آخر میں یہی ثابت ہوتا ہے کہ معیشت ہو یا ثقافت، مذہب ہو یا روایات، آخر میں ہر ادارے کی جہت کا تعین وہی طے کرتا ہے جس کے ہاتھ میں سیاسی طاقت ہوتی ہے۔

ہمارے ایک نیویارکر دوست شفقت خان بہت گہری تشویش میں ہیں کیونکہ ان کے خیال میں امریکہ کے رجعتی حلقے تو ایک طرف، آزاد خیال بھی تاریخ کا پہیہ الٹا گھمانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ رجعت پسند تو ارتقاء کی جگہ تخلیق کا نظریہ سکولوں میں پڑھانا چاہتے ہیں لیکن آزاد خیال حلقے برداشت اور مذہبی مفاہمت کے نام پر عقیدہ پرستوں کو کھلا لائسنس دے رہے ہیں۔

ان کے خیال میں اس سائنسی دور کی ترقی شروع ہی اس وقت ہوئی تھی جب ڈارون اور فرائڈ جیسے عالموں نے مذہبی مفروضات کو چیلنج کرتے ہوئے دنیا کو سائنسی بنیادوں پر بیان کرنا شروع کیا تھا۔

اب مذہب کو چیلنج کرنا تو ایک طرف امریکہ سمیت دنیا کے بہت سے ملکوں میں مذہب کے نام پر ہی سیاست ہورہی ہے۔ سائنس کا انقلابی رنگ ختم ہوتا جا رہا ہے اور عقیدوں پر مبنی نظریے غالب آتے جا رہے ہیں۔

امریکہ کے قدامت پرست کئی دہائیوں سے اس کوشش میں تھے کہ ڈارون کو نصاب سے نکال باہر پھینکا جائے اور مذہبی صحیفوں میں لکھا تخلیق کا نظریہ پڑھایا جائے۔

ریگن کا دور شروع ہونے سے پہلے تو ان کے لیے نصاب کو اس طرح سے بدلنا محض خواب ہی تھا لیکن پھر جوں جوں قدامت پرست امریکی سیاست پر چھاتے گئے سکولوں کے نصاب تبدیل ہونا شروع ہو گئے اور اب جنوب کی کچھ ریاستوں میں ڈارون کے نظریے کے ساتھ پخ لگا دی گئی ہے کہ اسے ڈارون کا خیال خام ہی سمجھا جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ مذہبی تخلیق کا نظریہ پڑھایا جانے لگا ہے۔ امریکہ کی سیاسی قیادت صرف عراق کے بارے میں ہی غلط بیانی سے کام نہیں لیتی وہ اپنے معاشرے میں سائنسی حقائق کے ساتھ بھی وہی سلوک کر رہی ہے۔ آخر سائنس بھی تو سیاسی طاقت سے ہی کنٹرول ہوتی ہی یا سیاسی طاقت بڑھانے کے کام آتی ہے۔

ہمارے مرحوم دوست ڈاکٹر عزیز الحق درست کہتے تھے کہ انسان پرست سائنس ترقی پسند سیاست کے بغیر نا ممکن ہے۔ ضیا ء الحق اور بُش نے تو کم از کم یہی ثابت کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد