BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 25 October, 2004, 07:02 GMT 12:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سونا ترجیحات میں آگے کیوں؟

سٹیٹ بینک آف پاکستان
اس سال بھی حکومت پاکستان کے کئی بڑے معیشت دان ورلڈ بینک کے لئے آئے اور پاکستانی محفلوں میں اپنی فتح کے جھنڈے گاڑتے پھرے۔ ان میں سب سے زیادہ مدلل گفتگو پاکستان سٹیٹ بینک کے گورنر ڈاکٹر عشرت حسین نے کی۔ ہمارے جیسے بہت سے ناقدین شرمساری میں ان کے کام کو سراہ رہے تھے کہ ان کا سامنا ایک ماہر تعلیم مسز خان سے ہو گیا۔ مسز خان نے یہ سوال پوچھ کر موجودہ حکومت کی اخلاقیات کا پردہ چاک کر دیا کہ پاکستان میں سونے کی خریداری پر ٹیکس نہیں ہے جبکہ تعلیمی مواد پر 15 فیصد ٹیکس ہے۔ یہ پہلو علامتی اعتبار سے بہت اہم ہے کہ ہماری حکومت کی نظر میں کیا چیز اہم ہے اور کیا غیر اہم؟

مسز خان ورجینیا میں ایک تعلیمی ادارے کی سربراہ ہیں اور ہرسال پاکستان جا کر ضرورت مند طلباء و طالبات کی مقدور بھر مدد کرتی رہتی ہیں۔ اس لئے ان کو ان معاملات کا ذاتی تجربہ ہے اور شاید اسی لئے ان کو یہ چیز بہت عجیب لگی وگرنہ کونسا پاکستانی امریکن پاکستان جا کر سونے اور تعلیمی مواد کا ٹیکس معلوم کرتا پھرتا ہے۔ سونے کےبارے میں تو شاید کوئی معلوم کر لے تعلیمی امور کی کس کو پڑی ہے۔

نیشنل بینک آف پاکستان
پاکستان میں شادی بیاہ کے لئے تھوڑا بہت سونا تو ہر کوئی خریدتا ہے لیکن اس کے اصل اور بڑے خریدار تو امیر لوگ ہی ہیں۔ اسی لئے سونے پر ٹیکس کی چھوٹ بھی ہے کہ یہ صاحب ثروت لوگوں کا سرمایہ کاری کا ہتھیار ہے۔ اگر یہ عوام کے استعمال کی شے ہوتی تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ اس پر ٹیکس نہ ہوتا۔ کیا عوام کی ضرورت کی کوئی شے پاکستان میں ہے جس پر بلا واسطہ یا بلواسطہ ٹیکس نہ ہو؟ اعداد و شمار تو یہ بتاتے ہیں کہ جتنی کوئی چیز عوام کی ضرورت کی زیادہ ہو اس پر اتنا ہی زیادہ ٹیکس ہوتا ہے۔ یہ ٹیکس باالواسطہ ہوتے ہوئے عوام کو نظر نہیں آتے اور اسی وجہ سے یہ پاکستان جیسی حکومتوں کو پیارے ہوتے ہیں۔

خیر عوام پر کمرتوڑ ٹیکسوں کی بھرمار ایک علیحدہ بحث ہے لیکن زیر بحث موضوع کے لئے اہم سوال یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے میں سونا بہتر سرمایہ کاری ہے یا تعلیم۔ بات اچھا یا برا شہری بنانے یا بہتر انسان بنانے کی نہیں ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا کوئی معاشرہ تعلیمی میدان میں سرمایہ کاری کر کے تیز معاشی ترقی کر سکتا ہے یا سونے پر۔

گزشتہ کئی دہائیوں کی کی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ حکومت کے لیے سب سے اچھی سرمایہ کاری تعلیم ہی ہے کیونکہ اس سے کارکنوں کی وہ کھیپ تیار ہوتی ہے جو صنعتی انقلاب کے لئے ضروری ہوتی ہے۔ یہ تسلیم کہ صرف تعلیمی صلاحتیں ہی صنعتی انقلاب برپا نہیں کر سکتیں۔ اگر ایسا ممکن ہوتا تو بہت سے عرب اور ہسپانوی ممالک صنعتی اعتبار سے ترقی یافتہ ہو چکے ہوتے۔ان میں اکثر ملکوں میں خواندگی کی شرح سو فیصد ہے۔ لیکن یہ ملک پھر بھی پسماندہ ہیں۔ معاشی ترقی کی لئے اس کے علاوہ عمدہ سیاسی اور سماجی نظام چاہیے۔ لیکن اگر عام آبادی تعلیم یافتہ نہ ہو تو کوئی نظام کام نہیں دے سکتا۔ پاکستان تو پہلا قدم اٹھانے کے لئے ہی تیار نہیں ہے۔

منی ایکسچینج
چین، جاپان، کوریا اور مشرقی ایشیا کے جتنے ملکوں نے ترقی کی ہے انہوں نے اپنے ابتدائی سالوں میں زیادہ وسائل تعلیم پر صرف کیے اور شرح خواندگی کو سو فیصد تک بڑھایا۔ اس کی علاوہ ان سب ملکوں میں سخت قسم کی زرعی اصلاحات بھی کی گئیں۔ ہندوستان نے بھی یہ دونوں اقدامات اٹھائے ہیں اور اب وہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ مذکورہ ملکوں کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ ان سب ملکوں میں بنیادی تعلیم مادری زبانوں میں دی گئی۔ پاکستان میں بلند بانگ دعووں کے علاوہ ان میں سے کچھ بھی نہیں کیا جا رہا۔ زرعی اصلاحات کلمہ کفر بن چکی ہیں اور تعلیم حاکموں کی نعرے بازی اور بھاشن کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

اب ماہرین اقتصادیات کی اکثریت ملکوں کی ترقی کی سمت اور رفتار کو ماپنے کے لئے سماجی اشاروں پر مبنی انڈکس استعمال کرتے ہیں۔ یہ انڈکس بتاتا ہے کہ اگر کسی ملک میں تعلیم اور صحت کا نظام بہتر ہو گا تو اس کے ترقی کرنے کے امکانات دوسروں سے بہتر ہیں۔ اس کی آخری مثال چین کی ہے جو باوجود سیاسی مشکلات کے تیزی سے معاشی ترقی کی منزلیں طے کررہا ہے۔ چین کے انقلاب کے پہلے سالوں میں عوام پر زیادتیاں بھی ہوئی ہوں گی لیکن ملک میں تعلیم اور صحت کا نظام قائم کرنے میں کوئی فروگزاشت نہ کی گئی۔ اسی لئے پاکستان سے بعد میں آزادی حاصل کرنے کے باوجود چین معاشی ترقی کی جس منزل پر پہنچ چکا ہے وہ پاکستان کے لئے محض خواب ہے۔

ڈاکٹر عشرت حسین اقتصادیات کے اچھے خاصے ماہر ہیں اور ان سب دلیلوں سے واقف ہیں۔ اس کی باوجود وہ جس ذہنی ماحول میں رہ رہے ہیں اس میں تعلیم سے زیادہ اہم سونا ہے۔ پاکستان کے حکمرانوں کا ذہنی سیاق و سباق نہیں بدلا۔ جنرل مشرف اور ان کے نائبین دن رات فارن ریزرو کا ڈھول پیٹتے نہیں تھکتے جبکہ ان کو پتہ بھی ہے کہ فارن ریزرو اپنی ذات میں کچھ نہیں ہے۔

اب تو سنا ہے کہ ریزرو بھی کم ہونا شروع ہو گئے ہیں کیونکہ لوگ سرمایہ خلیجی ریاستوں میں لے جا رہے ہیں۔ اس لئے یہ بھی ممکن ہے کہ سونا ملا نہ پی! عوام کو تعلیم بھی نہ ملی اور معاشی ترقی بھی نہ ہوئی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد