پاکستان آئین ،اسلام اور قائداعظم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں قائدآعظم، اسلام اور آئین کے ساتھ لوگوں کا سلوک کچھ ایسا ہے جیسے غریب کی جورو کے ساتھ ہوتا ہے، جس نے چاہا، جیسے چاہا، جہاں چاہا مذاق مذاق میں مسل ڈالا۔ قائد آعظم کی دیانتداری ، رواداری اور اصول پرستی کا ہر جگہ چرچا ہے، ان کی ان صفات کے ان کے مخالفین بھی قائل ہیں۔ پاکستان میں بظاہران کے احترام اور عزت و تکریم کا عالم یہ ہے کہ ان کے نام پر اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں کھولی جاتی ہیں ہسپتالوں، عمارتوں اور سڑکوں کے نام رکھے جاتے ہیں،دفاتر میں ان کی تصاویر ہر افسر کے پیچھے لٹکی نظر آتی ہے لیکن ان اداروں یا دفاتر کی کارکردگی ویسی نہیں ہے جس کی قائداعظم توقع کر سکتے تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے ان تمام لوگوں نے اپنے دفاتر میں قائداعظم کی تصویر کے ساتھ ان کی اصول پرستی ، دیانتداری اور رواداری کو بھی لٹکا دیا ہے۔ یہی حال اسلام کا ہے، ہر آدمی اٹھتے بیٹھتے اللہ و اکبر کا نعریٰ مارنے سے نہیں چوکتا، مکانوں پر” ماشااللہ” اور” فضل ربی” جیسے کلمات عام لکھے ہوئے ملیں گے، کوئی بھی سیاسی جلسہ یا سماجی تقریب ہو کلام اللہ کی تلاوت کے بغیر نہیں شروع ہوتی، ہر قرئیے اور ہر شہر میں مسجدوں کی ریل پیل ہے اور لوگ نماز بھی پڑھتے ہیں، مسجد میں کوئی بیہودہ گفتگو نہیں کرتا ، اونچی آواز میں بولنے سے گریز کرتے ہیں دوسرے کے لیے جگہ بھی خالی کرتے ہیں اور صفیں بھی درست کرنے میں ایک دوسرے کی مددکرتے ہیں، لیکن مسجد سے باہر نکلتے ہی وہ ساری حرکتیں شروع کردیتے ہیں جس سے اسلام میں ہی نہیں دنیا کے ہر مذہب میں منع کیا گیا ہے۔ مسجدوں میں صفائی کا بھی یہ عالم ہوتا ہے کہ اگر کسی کو ایک تنکا بھی نظر آجائے تو اٹھا کر باہر پھینک دیتا ہے، لیکن مسجد سے باہر نکلتے ہیں تو کسی نالی یا دیوار کے ساتھ بیٹھ کر اور ایزاربند پیچھے کی طرف کھینچ کر اس طرح فارغ ہوتے ہیں جیسے وہاں اور کوئی موجود ہی نہ ہو۔ بیچ شہر میں مشکل سے کوئی ایسی دیوار نظر آئے گی جسکا نچلا حصہ ان کی کارستانیوں سے بچا ہو۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ جس مذہب میں صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہو اس کو ماننے والے نجی اور سماجی زندگی میں اتنے گندے اور غیر مہذب کیسے ہو سکتے ہیں۔ پھر میں بچپن سے سنتا آرہا ہوں کہ رمضان کا مہینہ قریب آیا اور کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔اس بار بھی یہی کیفیت ہے اخباروں میں خبریں شائع ہورہی ہیں ادارئیے لکھے جارہے ہیں کہ چیزوں کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور عام خیال یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ چونکہ روزے میں طلب بڑھ جاتی ہے اس لیے قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں ۔ اب یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ روزے میں تو کھانے پینے کی چیزوں کی طلب کم ہونی چاہیے یہ بڑھ کیسے جاتی ہے۔ معلوم یہ ہوا کہ وہ جو روزے کا اصل مقصد بتایا گیا تھا کہ روزے سے انسان میں صبر وتحمل اور نظم وضبط پیدا ہوتا ہے وہ سب گاؤ خورد ہوگیا اور اب لوگ روزے رکھتے نہیں بلکہ ایک تہوار کے طور پر مناتے ہیں، جو استطاعت رکھتے ہیں وہ پہلے سے زیادہ کھانے لگتے ہیں جو عام دنوں میں پیٹ بھر کر روٹی کو ترستے ہیں وہ قیمتوں میں اضافے کی بنا پر پہلے سے زیادہ ترسنے لگتے ہیں۔ کچھ یہی حال ملک کے آئین کا ہے۔جب دل چاہا جس کا دل چاہا اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ ڈالا۔ غور فرمائیں، آئین 1973 میں متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا اور اب تک 17ترامیمی بل پیش کیے جاچکے ہیں۔ جن میں غالباً تین منظور نہیں کرائے جاسکے ۔ ان میں دو شریعت کے نفاذ سے متعلق تھے اور ایک اسمبلیوں میں خواتین کی مخصوص نشتوں کی بحالی سے متعلق۔ باقی چودہ میں سے سات تو صرف بھٹو مرحوم کے دور حکومت میں پیش اور منظور کیے گئے اور ان میں سے پہلا بل تو سمجھ میں آتاہے جس کے تحت بنگلہ دیش کو ایک علیحدہ ملک تسلیم کیا گیا تھا باقی کا نہ کوئی جواز تھا نہ ضرورت۔ ضیاءالحق مرحوم کے زمانے میں تین ترمیمی بل پیش کیے گئے۔ان میں سے ایک کے تحت صدر کو اسمبلی توڑنے، شرعی عدالت قائم کرنے اور جداگانہ انتخابات نافذ کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔ میاں نواز شریف کے زمانے میں چار ترمیمی بل پیش کیے گئے ان میں سے 13واں ترمیمی بل بھی شامل ہےجس کے تحت وزیراعظم کے اختیارات جو ضیاءالحق مرحوم نے لے لیے تھے انہیں پھر وزیراعظم کو واپس دیدیا گیا ہے یعنی پہلے کوٹ کو الٹا کرایا گیا اور پھر سیدھا کرادیا گیا اور اس بل کو بھی ایسے ہی آناً فاناً منظور کرایا گیا تھا جیسے اب وردی والے بل کو کرایا گیا ہے اور کمال یہ ہے کہ جن لوگوں نے اسکے حق میں ووٹ ڈالے تھے ان میں سے بیشتر وہی ہیں جنہوں نے سترویں ترمیم اور وردی والے بل کی منظوری دی۔ کبھی کبھی یہ خیال آتا ہے کہ وردی پہننے کی منظوری پارلیمنٹ سے حاصل کرنے کے باوجود پرویز مشرف ممکن ہے وردی حسب وعدہ دسمبر کے اختتام تک اتار پھینکیں لیکن اس پورے عمل میں وہ حکمراں اتحاد سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنماؤں کو ننگا ضرور کردیں گے اور مجھے تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنی وردی سے زیادہ ان رہنماؤں کی قلعی اتارنے میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||