BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 08 October, 2004, 23:08 GMT 04:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاس اینجلس میں بھارت ناٹیم کا مظاہرہ

بھارت ناٹیم
جب نیویارک میں جنرل مشرف اور من موہن سنگھ کشمیر کی سرحدوں کی بات کر رہے تھے تو لاس اینجلس کی حنا زیدی اور ثناء زیدی نصرت فتح علی خان کی قوالی ’شمس الضحیٰ بدر الدجاء‘ اور ’مست قلندر مست مست‘ پر بھارت ناٹیم کلاسیکی رقص کرکے ایک مرتبہ پھر رام اور رحیم کے جھگڑے کو ختم کرنے کی کوشش کر رہیں تھیں۔

دونوں بہنوں کو کئی سالوں کی ریاضت کے بعد بھارت ناٹیم کی بنیادی سند دینے کی لئے ضروری تھا کہ وہ بھارت ناٹیم کی روایتی بندشوں پر رقص کریں۔ روایت کے مطابق رقص کا آغاز ہندو دیوتا گنیش کی تعریف و توصیف سے ہوتا ہے۔

لیکن یونیورسٹی آف ساؤتھ کیلیفورنا کی پروفیسر اور رقص گرو مسز وجی پرکاش نے یہ جانتے ہوئے کہ سند حاصل کرنے والی مسلمان لڑکیاں ہیں روایت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فنا بلند شہری کی نعت سے تقریب کا آغاں کیا۔

کئی دہائیوں کی نفرت اور دوری کی بعد بر صغیر پاک و ہند کے عوام کے ایک حصے میں مذ ہب کی خلیج عبور کرنے کا حوصلہ پیدا ہوا ہے۔ لاس اینجلس میں ہی حنا اور ثناء کے والد اسد زیدی سے اپنے جینیاتی انجنیئرنگ کے پیشے سے کہیں زیادہ وقت ساؤتھ ایشیا نیٹ ورک (سین) پر لگاتے ہیں جس میں جنوبی ایشیا کے مسلمان، ہندو، بدھ، عیسائی اور دوسرے مذہبوں کے کارکن مل کر بھوک، بیماری، گھریلو تشدداور امریکہ میں تارکین وطن پر ہونے والی زیادتیوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

بھارت ناٹیم
ان کی تنظیم کے روح رواں جناب حامد خان بھی دلچسپ کردار ہیں جو یونائیٹڈ پارسل سروس کے لئے جہاز اڑاتے ہیں اور اپنا سارا فارغ وقت سین کے تحت جنوبی ایشیا کے عوام کی بھلائی کے لئے لگاتے ہیں۔

اس تنظیم کے سالانہ ڈنر میں شامل ہونے کا اتفاق ہوا اور یہ دیکھ کر حیرت بھی ہوئی اور مسرت بھی کہ پورے جنوبی ایشیا کے تارکین وطن میں یہ این جی او اپنی نوعیت کا واحد ادارہ ہے جو گھریلو تشدد اور صحت کے مسائل پر لوگوں کی مدد کررہا ہے۔

جنوبی ایشیا میں گھریلو تشدد کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی اور اسی لئے اسے روکنے کی کوئی کوشش بھی نہیں کی جاتی۔ لیکن سین کے کا رکنوں نے ہمیں بتایا کہ تارکین وطن گھرانوں میں گھریلو تشدد کے واقعات کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ لاس اینجلس کے سین نے ایک اچھا ماڈل پیش کیا ہے جس کی ہر جگہ پر نقل کی جانا چاہئے۔

سالانہ ڈنر کے مہمان خصوصی ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کے پرانے ساتھی پادری جیمز لاسن نے جنوبی ایشیا کی نئی کمیونٹی کو امریکہ میں نا انصافی کے خلاف لڑی جانے والی جدو جہد سے آگاہ کرتے ہویے کہا کہ یہ طویل جد جہد کا نتیجہ ہے کہ سب گلیوں اور دروازوں پر یہ تختیاں نہیں ملتیں کہ کالے اور کتوں کا داخلہ منع ہے۔

وہ ایشیائی کمیونٹی کو بتانے کی کوشش کر رہے تھے کہ ان کو جو بھی آزادی نصیب ہے اس کے لئے بہت لمبی جدو جہد کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں ایک مرتبہ پگڑی باندھ کر ہندوستانی کا روپ دھار کر پارٹی میں جانا پڑا تھا کیونکہ وہاں کالوں کا داخلہ منع تھا مگر ہندوستانیوں کو آنے کی اجازت تھی۔

بھارت ناٹیم
امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے عمر رسیدہ پادری نے کہا کہ تسلط جمانا اور بیگار لینا اس کی سرشت بن چکا ہے۔ سب سے پہلے سفید فاموں نے کروڑوں ریڈ انڈینز کو صفحہ ہستی سے مٹا کر ان کی زمین پر قبضہ کر لیا اور پھر اس زمین کو استعمال کرنے کے لئے افریقہ کے آزاد لوگوں کو غلام بنایا۔ اسی لئے آج بھی امریکہ کو نہ تو دوسرے ملکوں پر قبضہ کرنے میں کوئی جھجک ہوتی ہے اور نہ ہی محنت کشوں کی محنت ہڑپ کرنے میں کوئی تامل۔

واشنگٹن سے ڈھائی ہزار میل دور لاس اینجلز آ کر پتہ چلتا ہے کہ امریکہ کے مغربی ساحل مشرقی ساحلوں سے کس قدر مختلف ہیں۔ ویسے تو سارا امریکہ دارالحکومت واشنگٹن المعروف ’بیلٹ‘ کی دنیا سے اتنا ہی مختلف ہے جتنا کہ سارا پاکستان فائلوں کے شہر اسلام آباد سے مختلف ہے۔ لیکن بحر الکاحل کےساحلوں پر آباد امریکہ (کیلے فورنیا وغیرہ) مشرق میں بحر اوقیانوس کے کنارے آباد ریاستوں (نیویارک ، میساچوسٹ وغیرہ) سے کچھ زیادہ ہی مختلف ہیں۔

کیلے فورینا کی سپاٹ زمین اور پھلوں سے لدے پیڑوں کو دیکھ کر پنجاب زیادہ یاد آتا ہے اور مشرقی ساحل کا برف زدہ امریکہ کم۔ ویسے پنجاب اور کیلے فورنیا میں مناسبت بھی ہے کہ دونوں کی نیم صحرائی بنجر زمین کو مصنوعی آباشی کے ذریعے آباد کیا گیا ہے۔ جیسے پنجاب پاکستان کے بہت سے علاقوں کی زرعی اجناس کی ضرورتیں پوری ایسے ہی کیلے فورنیا امریکہ کی۔

دونوں علاقوں کے تارکین وطن یا دیسی بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ پاکستان کے تارکین وطن میں سے مغربی ساحل پر آباد ہونے والوں میں کراچی والوں کی تعداد زیادہ ہے جبکہ مشرقی ساحلوں پر پنجاب سے آئے ہوئے تارکین وطن اکثریت میں ہیں۔ یہ نسلی تفریق ہے یا ثقافتی فرق کہ مغربی ساحل پر جو ثقافتی اتحاد دیکھنے میں آیا اس کا اظہار مشرق میں سیاسی سرگرمیوں میں ہوتا ہے۔

یہ پہلا سال تھا کہ نیویارک میں ہندوستانیوں اور پاکستانیوں نے صدارتی امیدوار جان کیری کے لئے مشترکہ فنڈ ریزر کیا۔ واشنگٹن میں یوم آزادی کے موقع پر دونوں کمیونیٹیوں نے مل کر مظاہرہ کیا۔ یہ حنا زیدی اور ثناء زیدی کی وجی پرکاش کے ساتھ متحد ہونے کا سیاسی اظہار ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد