منظور اعجاز واشنگٹن، امریکہ |  |
 |  ایٹم بم گرائے جانے والی جگہ پر ایک گنبد بنایا گیا ہے جسے ایٹم بم ڈوم کہتے ہیں |
جاپان میں نیا سال اس دھوم دھام سے منایا جاتا ہے کہ بہت سے جاپانی نیم سنجیدگی سے کہتے ہیں کہ سال میں ایک دن جاپان عیسائی ہوجاتا ہے۔ بچے کے پیدا ہونے پر رسومات شنتو مذہب کے مطابق ہوتی ہیں اور مرنے پر بدھ مت کے مطابق۔ ہماری گائیڈ کے بقول جاپانی پیدا شنتو مذہب کے مطابق ہوتے ہیں، مرتے بدھ مت کے مطابق اور سال میں ایک مرتبہ عیسائی ہو جاتے ہیں۔ جاپان پر ہندوستان سے آئے ہوئے بدھ مت کے اثرات سے ہی نہیں بلکہ پوجا پاٹ میں موم بتیوں جیسے لوازمات کی موجودگی سے بھی پتہ چلتا ہے کہ جاپان اور بر صغیر میں کتنا کچھ مشترک ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ باوجود زبان کی دِقت کے ہمیں ٹوکیو سے اوساکا تک سفر کرنے میں کوئی ججھک محسوس نہ ہوئی۔ اوساکا سٹیشن پر اردُو کے محقق ڈاکٹر تبسم کاشمیری ڈبہ نمبر بارہ کے سامنے ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ ڈاکٹر تبسم کاشمیری تئیس سال سے اوساکا یونیورسٹی میں اردو پڑھا رہے ہیں۔ اوساکا یونیورسٹے میں بھی اردو، ہندی اور فارسی کے شعبہ جات ہیں اور طلباءکی معقول تعداد اردو کو اختیاری مضمون کے طور پر پڑھتی ہے۔ وہاں یونیورسٹی میں پنجابی کے ڈگری یافتہ ایک جاپانی عالم موجود ہیں لیکن بوجہ قلت وقت ان سے ملاقات نہ ہو سکی۔  | | جب ڈاکٹر کاشمیری کے ساتھ پروگرام بن رہا تھا تو ان کا زیادہ زور اس بات پر تھا کہ ہم پتہ کر کے بتائیں کہ ہماری سیٹ کس ڈبے میں بک ہوئی ہے۔ مجھے ان کی یہ جستجو عجیب لگی کیونکہ میرے خیال میں یہ کیسے بتایا جا سکتا ہے کہ کونسا ڈبہ کہاں کھڑا ہوتا ہے۔ بہرحال سوچا کہ ڈاکٹر صاحب عمر کے لحاظ سے سٹھیائے ہوئے تو ہیں ہی اس لئے ان کی تسلی کے لئےان کو یہ اطلاع فراہم کردی جائے۔ لیکن جب بلٹ ٹرین یا شنکانسن 300 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار چلتی ہوئی ڈھائی گھنٹے میں اوساکا پہنچی تو کاشمیری صاحب ہمارے ڈبے کے عین سامنے کھڑے تھے۔ ڈبہ نمبر بارہ عین اس جگہ کھڑا ہوا تھا جہاں پلیٹ فارم پر اس کا نمبر لکھا ہوا تھا۔ اس کے بعد اندازہ ہوا کہ کاشمیری صاحب تو سٹھیائے ہوئے نہیں ہیں بلکہ ہم امریکہ میں آدھی زندگی گزارنے کے باوجود یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا شاید وہیں رہ رہی ہے جب ہم اپنے گاؤں سے شہر ساہیوال بذریعہ تانگہ ڈھائی گھنٹے میں 25 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے پہنچتے تھے اور پیشگی یہ نہیں بتایا جا سکتا تھا کہ تانگے والا ہمیں کہاں اتارے یا پھینکے گا۔ اوساکا جاپان کا بغیر گھنٹہ گھر کے فیصل آباد یا لائل پور ہے۔ یہاں بھی باقی جاپان کی طرح فوجی قلعے اور درگاہیں ہیں لیکن شہر کا عام ماحول لائل پور جیسا ہے جہاں انڈسٹری اور دیہاتی کلچر ایک دوسرے کے ساتھ گڈ مڈ ہیں۔ وہاں محلے کے ایک ریستوران میں جانے کا اتفاق ہوا جہاں ہم نے تقریباً بندروں کی طرح اشارہ کرتے ہوئے آرڈر دیا کہ ہمیں وہی نوڈلز کھلا ئے جائیں جو پاس بیٹھا بچہ کھا رہا تھا۔ البتہ دوسری شام ڈاکٹر کاشمیری کے ہاں خالص کشمیری کھانا کھاتے اور گرما گرم اوساقے پیتے ہوئے ہم نے کھوج لگا لیا کہ کشمیری کی بجائے کاشمیری لکھنا امرتسر کے کشمیروں میں عام تھا۔ہیروشما کا طواف کھوج کے لئے نہیں بلکہ تاریخ کے بہت بڑے المیے کی یادگار پر ساٹھ سال کے بعد جاپانی عوام سے تعزیت کے مترادف تھا۔ ایٹم بم گرائے جانے والی جگہ پر ایک گنبد بنایا گیا ہے جسے ایٹم بم ڈوم کہتے ہیں۔ یہ ایک شاندارپرسنی عمارت کا کھنڈر ہے جس پر ڈوم بناتے ہوئے بم کی تباہی کے وقت کے عمارت کے نقشے کو برقرار رکھا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک میوزیم ہے جس میں وہ چھوٹی بڑی چیزیں رکھی گئی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح ایٹم بم نے رواں دواں زندگی کو میلوں تک ملیامیٹ کر دیا۔ ہماری طرح بہت سے دوسرے ملکوں کے لوگ بھی پرسے کے لئے آئے ہوئے تھے۔ کافی جذباتی سین دیکھنے میں آئے لوگ ایک دوسرے سے چھپ چھپ کر سسکیاں لے رہے تھے۔ اور سچ بات تو یہ ہے کہ اس المیے پر جتنا ماتم کیا جائے کم ہے۔ ڈوم دریا کے کنارے پر ہے جس میں ہزاروں لوگوں نے کود کر جانیں دی تھیں۔ ان کا خیال تھا کہ دریا کا پانی ایٹم بم کے عذاب سے بچا لے گالیکن دریا کا پانی پہلے ہی ابل رہا تھا اور انسانی جسم اس میں پگھل کر رہ گئے۔ ڈوم کے گرد چہچہاتے پرندوں اور دریا کنارے سیر کرتے اس علاقے کے باسیوں کو دیکھ کر لگا کہ زندگی کتنی بے پروا ہے کہ اتنے بڑے المیوں کے بعد بھی رواں دواں رہتی ہے۔ جاپان کے ماضی کی زندگی کو دیکھنے کے لئے ہم کیوٹو پہنچ گئے جو پرانے جاپان کا دارالحکومت تھا۔ یہاں کے سب سے بڑے سنہری مندر کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ عمارت کبھی رئیسوں اور امراء کے قبضے میں رہی اور کبھی مذہبی پروہتوں کے۔ بار بار خیال آیا کہ اس دور میں پروہتوں اور روساء کے درمیان ویسا ہی گہرا تعلق ہو گا جیسے یورپ میں بادشاہوں اور پاپائے روم کے درمیان تھا۔ کیوٹو کا عظیم شاہی محل دیکھ کر لگا کہ اس کی اہمیت اور دبدبہ اسی شخص کو متاثر کر سکتا ہے جس کے دل میں ان شہنشاہوں کی عظمت جاگزین ہو وگرنہ مغلیہ فن تعمیر کے مقابلے میں یہ عمارتیں بہت سپاٹ اور سادہ ہیں۔ چیزیں گھوم گھما کر اپنے اصل کی طرف لوٹتی ہیں سو ہم نے بھی ٹوکیو لوٹتے ہی اپنے دیسی یاران وطن سے ملنے ملانے کا سلسلہ شروع کردیا۔ اس دوران ہماری ملاقات ڈاکٹر شن جی تاجیما سے ہوئی جو دیسی تو نہیں ہیں لیکن وہ پاکستان میں تعلیم کے لئے دیسیوں سے بڑھ کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے پاکستان کے غریب علاقے کے سکولوں کے بچوں کو سکھایا ہے کہ اپنی ضرورت کے مطابق کس طرح کاغذ بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے پاکستانی جیلوں میں لائبریریاں قائم کرنے کے پراجیکٹ پر بھی کافی روشنی ڈالی۔ یاران وطن سے ملنے کی مشکل اکیڈمی آف پنجابی ان نارتھ امریکہ (اپنا) کے ممبران ڈاکٹر ارشد علی اور ڈاکٹر عتیق الرحمان نے بلھے شاہ پر ایک بیٹھک کا بندوبست کر کے حل کر دی۔ یہ بیٹھک بدھ مت کے ایک جید عالم ڈاکٹر گوربخش سنگھ کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی جس میں ٹوکیو کے دانشوروں اور پنجابی پیاروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ڈاکٹر صاحب نے بلھے شاہ اور بابا نانک کے مشترکہ تصورات پر بہت کام کی باتیں کیں۔ ملک حبیب الرحمان نے پنجابی شاعری سنائی اور رانا توصیف خان نے فلسفیانہ نکتہ بینی کے جو ہر دکھائے۔ جاپان جانے سے پہلے ہر دوست پوچھتا تھا کہ کہ کیا کسی پنجابی کانفرنس کی لئے جا رہے ہو؟ دوستوں کا حسن زن ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ میں واشنگٹن سے باہر صرف پنجابی محفلوں کے لئے جاتا ہوں۔ لیکن قسمت کی خوبی دیکھئے کہ ٹوکیو میں ہماری آخری شام بلھے شاہ کے نام وقف ہو گئی۔ شاید بلھے شاہ نے دوستوں کا حسن زن قائم رکھنا تھا۔ |