BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 January, 2005, 03:52 GMT 08:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سونامی: ایشوریا کی مسکراہٹ

تین امریکی صدور
بش انتظامیہ نے تعلقاتِ عامہ کی مہم تیز کی ہوئی ہے
بحرِ ہند میں تباہ کاری کے بارے میں ابتدائی خاموشی کے بعد امریکہ کی سرگرمیوں میں کافی تیزی آگئی ہے۔ عراق کی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ امریکی اپنے بارے میں اچھا محسوس کر رہے ہیں۔ان کو دوبارہ سے یقین آنا شروع ہوگیا ہے کہ وہ بھی اچھے اور نیک لوگ ہیں اور ان کی حکومت دنیا میں تعمیری کام بھی کر سکتی ہے۔

امریکیوں کو یہ محسوس کروانے اور دوسری عالمی ضرورتوں کے لیے بش انتظامیہ نے سونامی کی رفتار سے تعلقات عامہ کی مہم چلائی ہوئی ہے۔ میڈیا میں امریکہ کے 350 ملین ڈالر کا شور اور اس کے بحری بیڑے سے اڑتے ہوئے جہاز اور ہیلی کاپٹر اس کے عراق کی جنگ کے منفی امیج کو مٹانے میں کافی مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔

امریکہ کے وزیر خارجہ کولن پاول نے سی این این پر انٹرویو دیتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ بحر ہند میں امریکہ کی امدادی مہم اس کی نیشنل سیکورٹی کی ضرورت بھی ہے۔ امریکہ کو اس سیاست بازی کے لیے الزام نہیں دیا جاسکتا کیونکہ حکومتوں کا کونسا ایسا کام ہے جس کے پیچھے سیاست نہیں ہوتی۔ شاید اسی لیے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صدر بش کے برادر خورد، فلوریڈا کے گورنر، جیب بش نے متاثرہ علاقوں کے دورے میں شمولیت اختیار کر کے امریکہ کے مستقبل کے صدارتی الیکشنوں میں حصہ لینے کا واضح عندیہ دے دیا ہے۔

آچے
آچے میں تباہی کے بعد کا منظر

دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ نے امدادی مہم کے لیے جو اتحاد بنایا ہے اس میں ہندوستان، جاپان، آسٹریلیا اور انڈونیشیا تو شامل ہین لیکن چین اور پاکستان کو اس سے باہر رکھا گیا ہے۔ اس علاقے میں غالبا چین کا بحری بیڑہ سب سے بڑا لیکن شاید مستقبل کی مقابلہ بازی کو سامنے رکھتے ہوئے اسے باہر رکھا گیا ہے۔ اور پاکستان کو شاید اس لئے شامل نہیں کیا گیا کہ وہ چین کا دوست ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ متاثرہ عوام کی مدد بھی کر رہا ہے لیکن وہ چین کے خلاف مستقبل کا اتحاد بھی بنا رہا ہے جس کے لئے موجودہ اپریشن میں بحری مشقیں بھی ہو رہی ہیں۔ جب صحافیوں نے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے اس بارے میں پوچھا تو صرف مسکراہٹ سے اس کا جواب دیا گیا۔
٭٭٭٭

مسکرا تو ہندوستانی امریکی بھی سکتے ہیں کیونکہ ایک نئے سروے کے مطابق وہ امریکہ میں سب سے زیادہ آمدنی والا دوسرا گروپ ہے۔ امریکہ کے سنسز بیورو کے مطابق ہندوستانی امریکیوں کی فی خاندان سالانہ آمدنی70,708 ہے جبکہ امریکیوں کی اپنی سالانہ آمدنی 50,046 ڈالر سالانہ ہے۔ پاکستانی امریکن اوسطا 50,189 ڈالر کما کر امریکیوں سے بہت تھوڑا آگے ہیں۔ سب سے زیادہ آمدنی والا گروپ جاپانی امریکیوں کا ہی جو سالانہ 70,849 ڈالر فی خاندان کماتے ہیں۔

نیویارک
امریکہ میں ہندوستانی سب سے زیادہ آمدنی والے گروہ میں شامل ہیں

تارکین وطن میں ہندوستانی امریکی سب سے زیادہ تعلیم یافتہ ہیں۔ ان میں تقریباً 64 فیصد کالج کے ڈگری یافتہ ہیں جبکہ پاکستانیوں میں ڈگری یافتہ کی تعداد 54 فیصد کے قریب ہے۔ جاپانی امریکیوں کی سالانہ آمدنی اگرچہ ہندوستانیوں سے زیادہ ہے لیکن ان میں صرف 42 فیصد کے پاس کالج کی ڈگری ہے۔

٭٭٭٭

امیر غریب کا بھیت بھاؤ مشہور ٹی وی کمپیر، پینٹر اور مصنف انور مقصود نہیں کرتے جو امیر غریب کو اپنے مزاحیہ پروگراموں میں ایک جیسا ہنساتے رہے ہیں۔ ان کا تازہ پروگرام لوز ٹاک تھا جس کی کئی قسطیں چل چکی ہیں۔ اب انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایک مزاحیہ سٹ کام امریکہ میں رہنے والے پاکستانی ہندوستانیوں کی روز مرہ زندگی کے بارے میں بنائیں گے۔

انور مقصود
انور مقصود کچھ سالوں سے متواتر امریکہ آتے رہے ہیں

وہ دسمبر میں واشنگٹن تشریف لائے تو چٹ منگنی پٹ بیاہ کے مصداق سٹ کام کی دو قسطیں اپنے پروڈیوسروں نور نغمی اور علی شعیب حسن کو لکھ کر دے گئے۔ اس سے پہلے وہ اسی ٹیم کے ساتھ ’مرزا غالب امریکہ میں‘ بھی بنا چکے ہیں۔ وہ سیریل بہت کامیاب نہیں ہوا تھا لیکن یہ کہا جا سکتا ہے کہ تب انور مقصود امریکہ کو بہت کم جانتے تھے۔ پچھلے کچھ سالوں میں وہ اتنا امریکہ آئے ہیں کہ اب پاکستان کو پیکستان کہنے والوں پر مسکراتے بھی نہیں ہیں۔

٭٭٭٭

اگر انور مقصود امریکہ میں سٹ کام بنا رہے ہیں تو بالی وڈ کی ایشوریا رائے ہالی وڈ پر دھاوا بول کر ہندوستانی امریکیوں کی دولت اور شہرت میں مزید اضافہ کرنے جا رہی ہیں۔

ایشوریا رائے
ایشوریہ رائے امریکہ میں

امریکی ٹی وی سی بی ایس کے مقبول پروگرام 60 منٹ میں نئے سال کے پہلے پروگرام میں ناظرین کو بتایا گیا کہ ایشوریا رائے ہندوستان کی امیر ترین خاتون، اور دنیا کی حسین ترین عورت تصور کی جاتی ہیں۔ پروگرام کے مطابق انٹرنیٹ ویب پر 17,000 ہوم پیجز صرف ایشوریا رائے کی تصویروں پر مشتمل ہیں۔انٹرویو کے دوران جب ایشوریا رائے سے پوچھا گیا کہ اگر انہیں ہالی وڈ فلموں میں بوس و کنار کیا تو ان کے ہندوستانی پروانے کیا کہیں گے؟ تو وہ سوال کو گول کر گئیں۔ ’میں کچھ کہہ نہیں سکتی‘ وغیرہ وغیرہ۔

انہوں نے اس سوال کا جواب بھی مسکراہٹ میں ٹال دیا کہ کیا ان کا کوئی کل وقتی بوائے فرینڈ ہے یا نہیں۔ آخر ایشوریا رائے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے کم تھوڑے ہی ہیں۔

سونامی متاثرینمدر نیچر کا ہاتھ
سونامی کے پس منظر میں حسن مجتبیٰ کا کالم
جاپانگڑیوں کے دیس میں
’جاپانی ایک دن کے لیے عیسائی ہو جاتے ہیں‘
پرانی کاریںجاپان میں پاکستانی
جناح، جینااور پرانی کاریں: منظور اعجاز کا کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد