2004: چین کے بڑے ہونے کا سال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سالوں سے تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ ایک دن چین عالمی سطح پر اقتصادی لوہا منوا لے گا اور دنیا کو اس کے سپر پاور بننے کے امکان کو تسلیم کرنا پڑنے گا۔ سن دو ہزار چار میں چین نے ایسا کر لیا۔ پہلی بار دنیا کی توجہ چین کی اقتصادی ترقی پر مرکوز رہی۔ دنیا کی نظریں چین کی نو فیصد سے زیادہ ترقی کی رفتار، تیل کی بڑھتی ہوئی مانگ اور اس کی سستی برآمدات پر جمی رہی۔ چین اب دور افتادہ علاقہ کی بجائے مستقبل کا اہم مقام بن چکا ہے۔ چین میں بنی فِلم ہیرو نے امریکہ میں نمائش کے پہلے مہینے میں باکس آفس پر پچیس ملین پاؤنڈ کا کاروبار کیا۔ شنگھائی میں پہلی بار گران پری(Grand Prix) اقتصادیات کے ماہرین انتہائی تیزی سے چین کے بارے میں تبصرے اور تجزیے شائع کر رہے ہیں۔ ایسے تبصروں کی مانگ غیر معمولی ہے۔ نیو یارک میں ہائی فریکوینسی اکنامکس کے کارل وائنبرگ کا کہنا تھا کہ ’ہم جہاں بھی گئے ہمارے گاہک چین کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں‘۔ ’کچھ نے تو یہ مشورہ بھی دیا کہ ہم اپنی تحقیق میں سے آسٹریلیا کو نکال کر چین کو شامل کر لیں‘۔ اس سب کا نتیجہ یہ ہوا کہ وائنبرگ نے جو پہلے کبھی چین نہیں گئے تھے ایک سال مطالعہ کیا اور سال بھر چین کے بارے میں ہفتہ وار تحقیقی بلیٹن نکالتے رہے۔ امریکہ کے صدر جارج بُش نے اپنی انتخابی مہم کے دوران چین میں فکسڈ ایکسچینج ریٹ پر تنقید کی اور اس کی پالیسیوں کو امریکہ میں پیداواری شعبے میں نوکریوں کے خاتمے کا ذمہ دار قرار دیا۔ چین کے موضوع بحث بننے کی سب سے بڑی وجہ شاید اس کی تیل کی مانگ میں اضافہ تھا۔دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ تیل کی مانگ میں اضافے کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ مثال کے طور پر موزمبیک میں چینی پیدا کرنے والوں کو شکایت ہے کہ سفری اخراجات میں اضافے سے ان کی برآمدات کم ہونےکا خطرہ ہے۔ تیل کے علاوہ سیمنٹ، سٹیل اور دوسری کئی اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔ وائنبرگ نے بتایا کہ سن دو ہزار دو میں امریکہ میں ایک تجارتی کانفرنس میں دو ہزار افراد نے شرکت کی جو چاہتے تھے کہ ان کےشہر کو چین سے کپڑے کی درآمدات کے لیے ’گیٹ وے سٹی‘ قرار دیا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||