تائیوان آزادی: طاقت کااستعمال ممکن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چینی پارلیمنٹ ایک قانون کی منظوری دی تھی جس کے مطابق اگر تائیوان نے آزادی کا باقاعدہ اعلان کیا تو اسے طاقت کے زور پر ایسا کرنے سے روکنا جائز ہو گا۔ چین تائیوان کو اپنا حصہ تسلیم کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اگر مفاہمت کی پُر امن کوششیں ناکام ہو گئیں اور تائیوان نے باقاعدہ آزادی کا اعلان کیا تو وہ اس پر حملہ کر سکتا ہے۔ اس نئے قانون کے تحت ہانگ کانگ کی طرز پر ’ ایک ملک، دو نظام‘ کے تحت تائیوان کو چین میں شامل کیے جانے کی بات کی گئی ہے۔ تائیوان نے کہا کہ اس قانون سے علاقے میں سلامتی کی صورتحال پر برا اثر پڑے گا۔ چین کے وزیر اعظم ون جیابو نے کہا کہ اس قانون کا مقصد تعلقات کو مضبوط کرنا ہے اور یہ جنگ کی منظوری کا بل نہیں ہے۔ چین کی پارلیمنٹ نے دفاعی بجٹ میں بارہ فیصد اضافہ کا اعلان کیا ہے۔امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس نے کہا ہے کہ قانون کی منظوری سے علاقے میں تناؤ کا بحث بنے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||