مداخلت ناقابل برداشت: چین | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین کے وزیر خارجہ لی ژاؤ ژنگ نے کہا ہے کہ جاپان امریکہ اور جاپان کے سکیورٹی الائنس یا دفاعی معاہدے میں تائیوان کی شمولیت برداشت نہیں کرئے گا۔ نیشنل پیپلز کانگرس کے سالانہ اجلاس کے موقع پر اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے لی ژاؤ ژنگ نے کہا کہ ان تینوں ملکوں کے درمیان دفاعی نوعیت کے معاہدے کو چین کی خودمحتاری میں مداخلت تصور کیا جائے گا۔ چین تائیوان کو اپنا حصہ تصور کرتا ہےاور اس کو اپنے ساتھ ملانے کے بارے میں سنجیدہ ہے۔ چین کے وزیر خارجہ نے کہا کہ یورپی یونین کی طرف سے چین کو ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی ختم ہونی چاہیے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ چین کو ہتھیار خریدنے کی ضرورت نہیں۔ لی ژاؤ ژنگ نے کہا کہ یورپی یونین اور چین کے درمیان یہ پابندی تلخی کا باعث ہے لہذا یورپی یونین کو یہ پابندی اٹھالینی چاہیے۔
ژاؤ ژنگ نے کہا کہ امریکہ، جاپان اور تائیوان کے درمیان تعلقات کو دو طرفہ امور تک محدود رہنا چاہیں۔ انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور جاپان کے درمیان دفاعی معاہدے میں تائیوان کی بلواسط یا بلاالواسط شمولیت کو چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین کے عوام اور حکومت اس طرح کے اقدامات کے شدید مخالف ہیں۔ امریکی اور جاپانی حکام نے گزشتہ ماہ تائیوان کے مسئلہ کے پرامن حل کو دونوں ملکوں کی پالیسی میں ایک مشترک نکتہ قرار دیا تھا۔ کانگرس کے سالانہ اجلاس میں تائیوان کی علیحدگی کے بارے میں ایک متنازعہ قانون منظور کیے جانے کی توقع ہے جس کے تحت تائیوان چین سے علیحدگی اختیار نہیں کر سکے گا۔ تائیوان کی سیاسی جماعتوں نے اس قانون کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ اس قانون کو بنیاد بنا کر چین تائیوان پر حملہ کر سکتا ہے۔ تائیوان میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس قانون کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ یورپی یونین نے انیس سو اناسی میں تھنامن سکوائر میں جمع ہونے مظاہرین کے خلاف چینی حکومت کی طرف سے طاقت کے استعمال پر چین کو ہتھیاروں کی فروخت پر پندرہ سال کے لیے پابندی لگا دی تھی۔ یورپی یونین میں شامل زیادہ طرح ملک اس پابندی کو اٹھانے کے حق میں ہیں لیکن امریکہ چاہتا ہے کہ یورپی یونین اس پابندی کو برقرار رکھے۔ امریکہ کو خطرہ ہے کہ چین کو فروخت کیے جانے والے یورپی ہتھیار تائیوان پر حملے اور خطے میں موجود امریکی فوج کے خلاف استعمال ہوسکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||