BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 March, 2004, 21:19 GMT 02:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہلاک شدگان کی مائیں گرفتار
 تیانا مین جمہوریت مظاہرے
چینی حکام نے ابھی تک گرفتاری کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔
چینی سیکیورٹی حکام نے پندرہ سال قبل تیانا مین اسکؤائر میں ہونے والے مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والے تین طلبا کی ماؤں کو گرفتار کر لیا ہے۔

یہ تینوں ’تھینہ من مدر آرگنائزیشن‘ کی سرگرم اور نمایاں رکن ہیں۔

ان تینوں کے بچے پندرہ سال قبل چار جون کو تیانا مین اسکؤائر میں جمہوریت کے لئے ہونے والے مظاہروں کے دوران اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب پولیس نے مظاہرین پر دھاوا بول دیا تھا۔

تینوں مائیں ہلاک ہونے والے بچوں کے لیے انصاف کی طلب گار ہیں۔

چینی حکام نے ابھی تک ان کی گرفتاری کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔

گرفتار شدگان میں نمایاں ستاسٹھ سالہ سابق پروفیسر ڈنگ زیلن ہیں جو ’تھینہ من مدر آرگنائزیشن‘ کی سربراہ ہیں۔ انھوں نے یہ تنظیم اپنے سترہ سالہ بیٹے کی ہلاکت کے بعد قائم کی ۔

ڈنگ کو اتوار کے روز مشرقی چینی شہر ووکسی سے گرفتار کیاگیا ہے۔ جب کہ ان کی دوسری دو ساتھیوں ژانگ زیلنگ اور ہونگ جن پنگ کو بیجنگ سے گرفتار کیا گیا۔

حقوق انسانی کی ایک امریکی تنظیم کا کہنا ہے کہ ان ماؤں نے حالیہ دنوں ایک وڈیو فلم بنائی جسے وہ اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن جنیوا میں پیش کرنا چاہتی تھیں۔

ڈنگ زیلن کے خاوند کا کہنا ہے کہ چینی حکومت کے خیال میں وہ تیانا مین جمہوریت مظاہروں کی پندرھویں سالگرہ منانے کے ضمن میں پروگرام بنا رہی تھیں جو کہ پندرہ اپریل کو ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد