BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 February, 2005, 20:56 GMT 01:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چینی اسلحہ پر بش شیراک اختلافات
News image
چین میں اسلحہ کے انبار نے امریکہ کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے
صدر بش نے چین پر عائد اسلحہ پابندی اٹھانے کے بارے میں یورپی منصوبے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دوسری طرف فرانس کے صدر ژاک شیراک نے چین کو عائد پابندی کو بلاجواز قرار دیا ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ یورپ اور امریکہ کو پابندی اٹھانے سے متعلق شرائط پر اتفاق رائے پیدا کرنا چاہیے۔

صدر بش کے مطابق چین کو اسلحہ کی فروخت سے چین اور تائیوان کے تعلقات عدم توازن کا شکار ہو جائیں گے۔

انہوں نے یہ بات برسلز میں نیٹو کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے بعد کہی۔ اجلاس میں یورپ اور امریکہ کے مابین اتحاد کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

صدر بش نے کہا کہ امریکہ میں اس بات پر سخت تشویش پائی جاتی ہے کہ چین کو اسلحہ کی فروخت اسے ٹیکنالوجی کی منتقلی کے مترادف ہوگا۔

انہوں نے اس بات پر آمادگی کا اظہار کیا کہ اس سلسلے میں تحفظ کی شقوں پر غور ہو سکتا ہے۔

تاہم انہوں نے اس بات کے بھی اشارے دیئے کہ امریکی کانگرس کسی بھی یورپی اقدام کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے۔

یورپی یونین نے سن انیس سو نواسی میں جمہوریت نواز کارکنوں کے خلاف مسلح کارروائی کے بعد چین کو اسلحہ کی فروخت پر پابندی عائد کر دی تھی۔

چین تائیوان کو اپنا ایک ’بچھڑا ہوا‘ صوبہ سمجھتا ہے اور اس کا خیال ہے کہ اسے ساتھ ملانے کے لیے اگر اسے طاقت کا استعمال کرنا پڑا تو ضرور کرے گا۔

بی بی سی بزنس رپورٹر مارک گریگوری کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کو تشویش ہے کہ کہیں کسی مرحلے پر امریکہ کو چینی حملے کے خلاف تائیوان کا دفاع نہ کرنا پڑے۔

چین کا سالانہ دفاعی بجٹ دنیا بھر میں پانچویں نمبر پر ہے۔

اگرچہ چین کو اسلحہ کی فروخت سے متعلق یورپی موقف تو امریکہ کے لیے تشویش کا باعث ہو گا لیکن اس کے لیے یہ بات یقیناً اطمینان کا باعث ہوگی کہ فرانس نے عراقی افواج کی تربیت سے متعلق نیٹو کے منصوبے میں شامل ہونے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے حالانکہ عراق پر امریکی حملے کے مخالفوں میں فرانس پیش پیش رہ چکا ہے۔

فرانسیسی صدر ژاک شیراک نے نیٹو کے سربراہ اجلاس کو بتایا کہ فرانس عراقی افواج کی تربیت سے متعلق نیٹو کے منصوبے میں شامل ہو گا۔

صدر شیراک نے کہا کہ یورپ اور امریکی حقیقی معنوں میں شراکت دار ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد