امریکہ، یورپ میں بڑھتے ہوئے فاصلے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے صدر جارج بش اپنے کیریر کے سب سے اہم سفارتی مشن پر یورپ جا رہے ہیں۔ وہ یورپ کے ساتھ بہتر تعلقات کے لیے یورپی اداروں کا دورہ کرنے والے تاریخ میں پہلے امریکی صدر ہوں گے۔ ’چھ انجان لوگ امریکہ میں کولاراڈو کے تفریحی مقام پر اکھٹے تھے۔ ان میں میں واحد انگریز تھا۔ ایک دوسرے کی خیر و عافیت دریافت کرنے کے بعد میرے امریکی ہم سفروں نے آہستگی سے برطانیہ کے شاہی خاندان کے بارے میں سوالات کیے۔ خوبصورت قدرتی مناظر کے بیچ میں ہم نے شہزادہ چارلس اور کمیلا، بکنگھم پیلس اور وِنڈسر کے قلعے کے بارے میں بات چیت کی۔ میں شرمندگی کے ساتھ اس بات کا ذکر کر رہا ہوں کہ جب میں نے ونڈسر کے قلعے کے بارے میں ایک پرانی کہاوت دہرائی کہ اسے ہیتھرو کے ہوائی اڈے کے بہت قریب بنایا گیا ہے تو انہوں نے سنجیدگی سے سر ہلا کر کہا کہ ہاں یہ ایک غلطی تھی۔ اس کے بعد غیر معمولی طور پر اختلاف رائے بھی سامنے آیا لیکن ایسا میری طرف سے نہیں ہوا۔ ایک مسافر نے ہٹلر کی نازی پارٹی کا نشان لگا کر شہزادے ہنری کے ایک پارٹی میں جانے پر شدید اعتراض کیا۔ باقی لوگوں اس قصے کے بارے میں جانتے تھے اور انہوں نے بھی مایوسی ظاہر کرتے ہوئے اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔ امریکیوں کے لیے شہزادہ ہنری کا نازی پارٹی کا نشان لگانا ایک ناقابل فہم بات تھی۔ ان کے لیے یہ تصور کرنا مشکل تھا کہ یہ بات کسی بھی صورتحال میں قابل معافی ہو سکتی ہے یا اس کو مذاق بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ سنسرشپ اس کے ایک مثال جو حال ہی میں میری نظر سے گزری اور جسے میں شروع میں لطیفہ سمجھا تھا وہ یہ خبر تھی کچھ امریکی ٹیلی ویژن چینلوں نے سٹیفن سپیلبرگ کی فلم ’سیوونگ پرائیویٹ ریان‘ دکھانے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ فلم نہ تو جنسی مناظر پر مبنی ہے اور نہ ہی اس میں شدید تشدد دکھایا گیا ہے۔ یہ جنگ پر بنی ایک فلم ہی جس میں فائرنگ دکھائی گئی اور بعض جگہ نا زیبا الفاظ کا استعمال ہوا ہے۔ یہ فلم یورپ کے کسی بھی سینما میں بغیر سنسرشپ اور تبصرہ کے چل سکتی ہے لیکن امریکیوں کے لیے اس میں دی جانے والے گالیاں ناقابل برداشت ہیں۔ امریکی اس فلم میں ’غلط زبان‘ کے استعمال پر اعتراض کرتے ہیں لیکن میرے خیال میں معاملہ کچھ اور ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ فلم میں کہیں کہیں حقیقت پسندی نظر آتی ہے۔ جنگ کے مناظر میں فوجی ڈرے ہوئے دکھائے گئے ہیں اور ان کی موت ہربار شاہانہ نہیں ہوتی۔ دوسرے الفاظ میں فلم حقیقت کے قریب ہے جو ایسا موضوع ہے جس میں امریکہ اور یورپ کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ امریکہ تیزی سے حقیقت پسندوں کی بجائے ایمان والوں کا ملک بنتا جا رہا ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں انسانی زندگی کے تلخ حقائق کو آرام سے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال ٹیلی ویژن پر سونامی کے بارے میں پروگرام ہیں۔ یورپ میں اس واقعے کو ایک سانحے کے طور پر پیش کیا گیا جبکہ امریکہ میں ایک ٹیلی ویژن چینل نے کہا کہ ’معجزانہ طور پر بچ جانے والوں کی ناقابل یقین کہانیاں‘۔ امریکی معجزوں پر یقین کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا دماغ آسمان پر ہے۔ یورپ میں لوگ حقیقی زندگی کے مسائل جن میں ایڈز، غربت، سماجی انصاف، کے بارے میں پریشان ہیں جبکہ امریکہ میں لوگ خوابوں پر ٹوٹتے ہیں خواہ وہ کتنے ہی غیر حقیقی کیوں نہ ہوں۔ لاکھوں امریکی، ایک تجزیے کے مطابق سترہ فیصد، مانتے ہیں کہ ان کی زندگیوں میں دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا اور وہ بادلوں میں سے گزر کر جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی ایک عرصے سے یورپ والوں کو کمزور ارادوں اور دِل والے، اخلاقی طور پر پست ، ہر وقت شکایت کرنے والے ایسے لوگ سمجھتے ہیں جو فیصلے کی قوت نہیں رکھتے۔ میرا موقف یہ ہے کہ یہ رجحان بڑھا رہا ہے۔ امریکی صدر کے دورے دوران ہم جتنے بھی مصافحے اور گرمجوشی کے اظہار دیکھیں گے وہ بحر اوقیانوس کے دونوں طرف بڑھتے ہوئے فاصلوں کو کم نہیں کر سکتے۔ مشترکہ اقدار کے بارے میں تیز ہوتی ہوئی باتیں صرف باتیں ہیں۔ انسانی اقدار جیسے اہم موضوعات پر دونوں بر اعظموں کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ میں اپنے اہل خانہ کہ ساتھ چھٹی منا کر کرائے کی ایک بڑی سی گاڑی پر واپس جا رہا تھا۔ یہ گاڑی کسی ٹینک کے برابر تھی اور بہت تیل کھاتی تھی۔ ہوائی اڈہ کے راستے پر ایسی درجنوں گاڑیاں نظر آئیں۔ جب یورپ میں کیوٹو معاہدے کی خوشی منائی جا رہی تھی امریکی نے غیر مقبول راستہ چنا ہے اور انہیں اس کا کوئی افسوس نہیں۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||