BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 19 February, 2005, 04:56 GMT 09:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایران پر حملہ خارج ازامکان نہیں‘
بش
ایران کے ساتھ معاملات سفارت کاری کے ذریعے حل ہو جائیں تو اچھا ہے۔ صدر بش
امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ ایران پر حملہ خارج از امکان نہیں ہے لیکن ان کی کوشش ہو گی کہ ایران کے ساتھ معاملات سفارتی ذریعوں سے ہی حل ہو جائیں۔

صدر بش نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام کسی کے حق میں نہیں ہے اور اس کو ایسے ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا امریکہ اور یورپ کے مشترکہ مفادات میں ہے۔

صدر بش نے کہا کہ امریکہ اور یورپ دونوں چاہتے ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنا سکے اور وہ ایران کو ایسے کرنے سے روکنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں بشطریکہ وہ یک زبان ہو کر بات کریں۔

یورپ کے دورے پر روانہ ہونے سے پہلے بیلجیم کے ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر بش نہ کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ امریکہ اور یورپ اپنے اختلافات کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

صدر بش نے کہا کہ امریکہ کو یورپ کے تعاون کی ضرورت ہے کیونکہ امریکہ، بقول ان کے ، اکیلے دنیا میں آزادی نہیں پھیلا سکتا۔

ادھر امریکہ کی وزیر خارجہ کونڈیلا رائس نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام کو تنہا کرنے کی کوشش نہیں کر رہا ہے اور اس کی صرف کوشش یہ ہے کہ شام ذمہ داری کا ثبوت دے۔

انہوں نے کہا شام کو لبنانی صدر رفیق الحریری کے قتل کی تحقیات میں شریک ہونا چاہیے۔

امریکہ نے شامی فوج کی لبنان میں موجودگی پر تنقید کی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ شامی فوج کو لبنان سے نکل جانا چاہیے۔

لبنان میں اپوزیشن جماعتوں نے شام نواز حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا لبنان کی موجودہ حکومت غیر قانونی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد