اسرائیل کی مددکو آئیں گے: بش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکہ کے موجودہ سفیر جان نیگرے پونتے کو قومی انٹیلی جینس ایجینسی کا سربراہ مقرر کرنے کے بعد امریکی صدر جارج بش نے شام سے کہا ہے کہ وہ لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلا لےاور صدام حسین کے حامیوں کو امریکہ کے حوالے کر دے۔ امریکی صدر نے شام اور ایران کے درمیان ایک دوسرے کی مدد کرنے کے اعلان پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اسرائیل کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو امریکہ اس کی مدد کو آئے گا۔ صدر بش نے کہا اگر وہ اسرائیلی ہوتے اور ایرانی حکمرانوں کے اسرائیل کے بارے میں جذبات سننے کے بعد ان کو ایرانی کے جوہری عزائم سے پریشانی لاحق ہوتی۔ امریکی صدر نے کہا کہ شام مشرق وسطی میں جمہوریت کے راستے پر نہیں چل رہا۔ امریکی صدر نے لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کی بین الاقوامی سطح پر تحقیق کی حمایت کی ہے۔ رفیق حریری کے خاندان نے موت کی بین الاقوامی سطح پر تحقیق کا مطالبہ کیا ہے جبکہ لبنان کی حکومت نے قتل کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کرانے کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔ لبنان کے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ بین الاقوامی سطح کی تحقیقیات کا مطالبہ بالکل نا قابل قبول ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس قتل کی تحقیقات کرانے کے لیے بین الاقوامی ماہرین کی مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔ امریکہ نے شام کے ساتھ ناراضگی کا اظہار کے طور پر اپنے سفارت کار مارگریٹ سکوبی کو دمشق سے واپس بلا لیا ہے اور ان کی واپسی کی کوئی تاریخ نہیں بتائی گئی ہے۔ واشنگٹن کی فہرست میں شام دہشت گردی کی حمایت کرنے والے ملکوں میں شامل ہےاس کے علاوہ دمشق پر لبنان میں عدم استحکام پیدا کرنے کا بھی الزام ہے۔ لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری کی پیر کے دن بیروت میں ایک بم دھماکہ میں ہلاکت کے بعد سے حالات کشیدہ ہیں۔ رفیق حریری نے شام سے کہا تھا کہ وہ لبنان سے اپنی افواج واپس بلائے۔ امریکہ شام کے خلاف نئی پابندیوں پر غور کر رہا ہے کیونکہ شام نے اقوام متحدہ کی اس قرارداد پر عمل کرنے سے انکار کر دیا تھا جس میں شام سے کہا گیا ہے کہ وہ لبنان سے اپنے 14000 فوجی واپس بلائے۔ ایران کے نائب صدر محمد رضاعارف نے کہا کہ ’ہمارے شامی بھائیوں کو مخصوص خطرات کا سامنا ہے اور ہمیں امید ہے کہ وہ ہمارے تجربات سے فائدہ اٹھا سکیں گے‘۔ شام نے اس بم دھماکے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے جس میں رفیق حریری ہلاک ہوئے ہیں۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ اس کا محاذ امریکہ کے خلاف نہیں ہے۔ امریکہ میں شام کے سفارت کار عماد مصطفٰی نےکہا ’ہم امریکہ کے دشمن نہیں ہیں اور اور نہ ہی اس طرح کی دشمنی میں پھنسنا چاہتے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||