ایران اور شام کو بش کی دھمکی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جارج بش نے ایران اور شام کو ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ وہ عراق کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔ صدر بش نے کہا کہ وہ عراق کے ہمسایہ ملکوں ایران اور شام سے توقع کرتے ہیں کہ وہ عراق میں ’دہشت گردوں‘ کی حوصلہ افزائی اور مدد کرنے کے لیے پیسے اور لوگ بھیجنا بند کر دیں گے۔ صدر بش نے یہ بیان بدھ کے روز دیا جس دن عراق کے جنوبی شہر کربلا میں ایک بم دھماکے میں سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ عراق میں حکام کا کہنا ہے کہ تیرہ فروری کو ہونے والے انتخابات کی مہم کے پہلے دن ہونے والے اس دھماکے کا مقصد عراق میں فرقہ وارانہ تشدد کی آگ لگانا ہے تاکہ آئندہ ماہ ہونے والے انتخابات کو درہم برہم کیا جاسکے۔ دریں اثناء عراق میں ایک امریکی کمانڈر نے اعتراف کیا ہے کہ عراق میں سڑکوں کے کنارے بم نصب کرنے کی کارروائیاں بڑھتی جارہی ہیں جس نے امریکی فوجی کارروائیوں کو سست کر دیا ہے اور نقل و حمل کے لیے فضائی سفر پر انحصار کو بڑھا دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||