امریکہ نے شام پر پابندیاں لگا دیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے، جو ایک عرصے سے شام پر الزام لگا رہا تھا کہ وہ دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے اور عراق میں مسلح افراد کو داخل ہونے سے نہیں روک رہا، اس کے خلاف اقتصادی پابدیاں عائد کردی ہیں۔ صدر بش نے اس سلسلے میں امریکہ میں شام کے کچھ اثاثوں کو منجمد کرنے اور شام میں تمام امریکی برآمدات کو روکنے کے احکامات جاری کردئے ہیں۔ تاہم یہ پابندی انسانی فلاح و بہبود سے متعلق اشیا پر عائد نہیں ہوگی۔ صدر بش نے شام پر لبنان کے ایک حصے پر قبضہ کرنے اور بڑے پیمانے پر تباہی کے ہتھیار اور میزائیل حاصل کرنے کی کوششوں کا الزام بھی لگایا۔ شام ان الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں سے صرف امریکی مفادات کو نقصان پہنچے گا۔ یہ پابندیاں شام کے خلاف احتساب ایکٹ کے تحت لگائی گئی ہیں جسے صدر بش نے پچھلے سال دسمبر میں قانون بنایا تھا۔ ان پابندیوں سے شام اور امریکہ کے درمیان جہازوں کی آمدورفت بند ہوجائے گی لیکن خوراک، ادویات اور جہازوں کے پرزوں کی برآمد مستثنٰی ہوگی۔ اپنے بیان میں صدر بش نے کہا کہ شام کا رویہ ’امریکہ کی سلامتی، معیشت اور خارجہ پالیسی کے لئے غیر معمولی اور بہت بڑا خطرہ ہے۔‘ انہوں نے شام پر فلسطینی مسلح گروپ حزب اللہ کی حمایت جاری رکھنے اور لبنان میں فوجی موجودگی کا الزام بھی عائد کیا۔ صدر بش کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شام کے پاس عرب ممالک میں کیمیاوی ہتھیاروں کی سب سے زیادہ جدید صلاحیت موجود ہے۔ شام کے وزیر اعظم محمد نجی الاوتاری کا کہنا ہے کہ پابندیاں غیر ضروری اور غیر منصفانہ ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||