| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
شام پر پابندیوں کی منظوری
امریکی کانگریس کے ایوانِ اعلیٰ نے بھاری اکثریت سے شام کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے بل کو منظور کیا ہے۔ اکتوبر میں امریکی ایوانِ نمائندگان میں بھی اس بل کو حمایت حاصل ہوئی تھی۔ اس بل کے ذریعے صدر بش کو اختیار حاصل ہوگا کہ شام پر اس صورت میں پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں، اگر یہ ثابت ہوجائے کہ وہ دہشت گردوں کی حمایت کررہا ہے یا وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار بنانے کی کوشش میں ہے۔ سینیٹ نے بل میں ترمیم کرکے اسے واپس ایوانِ نمائندگان بھیج دیا۔ ترمیم شدہ بل کے تحت صدر بش کو اقتصادی اور سفارتی پابندیاں ہٹانے کا اختیار بھی حاصل ہوگا، اگر انہیں لگے کہ ایسا کرنا قومی مفاد میں ہے۔ سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے چیرمیئن رچرڈ لوگر نے کہا کہ اس بل کی بدولت ’صدر بش کو شام کے خلاف پابندیوں کو شام کے مثبت رویئے کے تابع کرنے‘ کا اختیار حاصل ہوگا۔ بل کی مخالفت کسی بھی سینیٹر نے نہیں کی۔ بل میں امریکہ اور شام کے درمیان ان تمام اشیاء کی تجارت کی ممانعت کی گئی ہے جو وسیع تباہی کے ہتھیار بنانے میں استعمال کی جا سکتی ہیں۔ تاہم واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار مائکل بیوکانن کا کہنا ہے کہ شام اور امریکہ کے درمیان سالانہ تجارت صرف ایک سو پچاس ملین ڈالر مالیت کی ہے اور شام کو امریکہ کی طرف سے کوئی امداد بھی نہیں ملتی۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں سے سب سے زیادہ نقصان ان امریکی کمپنیوں کو ہوگا جنہیں حال ہی میں شام میں تیل تلاش کرنے کے ٹھیکے ملے ہیں۔ امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ عراق میں امریکہ کے خلاف بر سر پیکار غیر ملکی جنگجو شام کے راستے عراق میں داخل ہوتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||