BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 February, 2005, 10:11 GMT 15:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دمشق پر امریکی دباؤ میں اضافہ
News image
شام پر امریکی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہوا ہے
امریکہ کا کہنا ہے کہ شام اور امریکہ کے درمیان موجود مسائل کی فہرست طویل ہوتی جا رہی ہے۔ یہ بیان دمشق کی طرف سے ایران کے ساتھ ایک ’محاذ‘ تشکیل دیئے جانے کے چند گھنٹے بعد جاری کیا گیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کونڈالیزا رائس نے سینیٹ کی کمیٹی کو بتایا کہ انہوں نے شام کے ساتھ ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے وہاں سے امریکی سفارت کار کو واپس بلا لیا ہے۔

سفارت کار مارگریٹ سکوبی کو دمشق سے واپس بلا لیا گیا ہے اور ان کی واپسی کی کوئی تاریخ نہیں بتائی گئی ہے۔

واشنگٹن کی فہرست میں شام دہشت گردی کی حمایت کرنے والے ملکوں میں شامل ہےاس کے علاوہ دمشق پر لبنان میں عدم استحکام پیدا کرنے کا بھی الزام ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ شام سے پر واضح کرے گا کہ اس کو کچھ اقدامات کرنے ہوں گے۔

لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری کی پیر کے دن بیروت میں ایک بم دھماکہ میں ہلاکت کے بعد سے حالات کشیدہ ہیں۔ رفیق حریری نے شام سے کہا تھا کہ وہ لبنان سے اپنی افواج واپس بلائے۔

شام اور ایران نے منگل کے روز عہد کیا ہے کہ وہ دھمکیوں اور خطرات کا مل کر مقابلہ کریں گے۔ دونوں ہی ملکوں پر امریکہ کا دباؤ ہے۔

واشنگٹن نے کہا کہ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف امریکہ ہی ان کی کارروائیوں سے ناخوش ہے تو وہ بین الاقوامی برادری کو سمجھنے میں بھول کر رہے ہیں۔

دھماکے سے کچھ دیر قبل رفیق حریری
شام سے اپنی افواج واپس بلانے کی اپیل کی تھی

کونڈولیزا رائس نے کہا کہ سفارت کار سکوبی کو رفیق حریری کے قتل کے بعد شام سے امریکہ کی ناراضگی کے اظہار کے طور پر واپس بلایا گیا ہے۔

کونڈالیزا رائس نے کہا کہ ابھی یہ تو معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ پیر کے حملے میں کس کا ہاتھ تھا لیکن لبنان میں جس طرح شام کا اثر و رسوخ ہے وہاں عدم استحکام پیدا کرنے کی ذمہ داری شام پر ہی عائد ہوتی ہے۔

امریکہ شام کے خلاف نئی پابندیوں پر غور کر رہا ہے کیونکہ شام نے اقوام متحدہ کی اس قرارداد پر عمل کرنے سے انکار کر دیا تھا جس میں شام سے کہا گیا ہے کہ وہ لبنان سے اپنے 14000 فوجی واپس بلائے۔

ایران نے کہا ہے کہ وہ ہر طرح کے خطرے میں شام کی مدد کرے گا۔

ایران کے نائب صدر محمد رضاعارف نے کہا کہ ’ہمارے شامی بھائیوں کو مخصوص خطرات کا سامنا ہے اور ہمیں امید ہے کہ وہ ہمارے تجربات سے فائدہ اٹھا سکیں گے‘۔

شام نے اس بم دھماکے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے جس میں رفیق حریری ہلاک ہوئے ہیں۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ اس کا محاذ امریکہ کے خلاف نہیں ہے۔

امریکہ میں شام کے سفارت کار عماد مصطفٰی نےکہا ’ہم امریکہ کے دشمن نہیں ہیں اور اور نہ ہی اس طرح کی دشمنی میں پھنسنا چاہتے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد