عراق: ہمسائے تعاون نہیں کر رہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق نے ہمسایہ ملکوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ غیر ملکی جنگجوؤں کے عراق میں گھسنے پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیں۔ عراق کے عبوری وزیر خارجہ ہشیار زباری نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عراق نے اپنے ہمسایہ ملکوں سے سرحدوں پر کنٹرول مزید سخت کرنے کی بارہا درخواستیں کی ہیں لیکن اس ضمن میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں کی گئی ہے۔ ہشیار زباری نے کہا کہ عراق کو تمام ہمسایہ ممالک سعودی عرب، اردن، کویت، ایران، شام اور ترکی کی جانب سے مسائل کا سامنا رہا ہے البتہ عراقی وزیر خارجہ نے ایران اور شام کے نام مقابلتاً زیادہ اجاگر کیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عراق کسی حکومت پر یہ الزام عائد نہیں کر رہا کہ وہ عملی طور پر شدت پسندوں کی مدد کر رہی ہیں۔ تاہم انہوں نے اس امکان کی طرف اشارہ کیا کہ غیر ملکی خفیہ ایجنسیاں انتہائی محدود سطح پر شدت پسندوں کی مدد میں ملوث ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ مسئلہ عراق اور اس کے ہمسایہ ممالک کو امریکی مداخلت کے بغیر حل کرنا ہو گا۔ امریکہ نے الزام لگایا کہ شام شدت پسندوں کو عراق میں داخل ہونے کی اجازت دے رہا ہے۔ امریکہ نے کہا کہ وہ شام کے لیے بیشتر برآمدات بند کر رہا ہے کیونکہ شام دہشت گردی میں معاونت کر رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||