امریکی فوجی: سر قلمی کی تردید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنانی نژاد امریکی فوجی واصف علی حسون کی سر قلمی کی بارے میں متضاد اطلاعات ہیں۔ عراق میں سرگرم شدت پسند گروپ انصار السنہ نے اتوار کو اس دعوے کی تردید کی ہے کہ لبنانی نژاد یرغمال امریکی فوجی واصف علی حسون کا سر قلم کر دیا ہے۔ امریکی حکام نے سنیچر کو کہا تھا کہ وہ عراق میں اغواء ہونے والے فوجی کو انصار السنہ آرمی کے ہاتھوں سر قلم کیے جانے کے دعوے کی چھان بین کر رہے ہیں۔ عراق کے ایک شدت پسند گروہ نے انٹرنیٹ پر لبنانی نژاد امریکی فوجی کا سر قلم کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اسی انٹرنیٹ کے مطابق انصار السنہ آرمی نے اتوار کو کہا کہ اس سے منصوب امریکی فوجی کے قتل کی خبر بلکل غلط ہے۔ شدت پسند گروپ نے متنبہ کیا آئندہ اس کسی کاروائی سے مطلق تمام خبریں اس آفیشل ویب سائٹ سے حاصل کی جائیں۔ پہلے والی خبر میں دعوی کیا تھا کہ انصار السنہ آرمی نے لبنانی نژاد امریکی فوجی واصف علی حسون کا سرقلم کردیا ہے اور جلد ہی اس کی ویڈیو فلم جاری کردی جائے گی۔
واصف علی حسون کو دو ہفتے قبل اغواء کیا گیا تھا جس کے بعد عرب ٹیلی ویژن چینلوں پر اس کی فلم دکھائی گئی تھی جس میں اس کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ ان کو اغواء کرنے والوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر’مقبوضہ عراق‘ میں قیدیوں کو رہا نہ کیا گیا تو وہ واصف علی حسون کو ہلاک کردیں گے۔ اردن میں مقیم واصف علی حسون کے رشتہ داروں نے سنیچر کے روز اپنے گھروں میں پردے گرائے رکھے۔
واصف علی حسون کے والد نے اغوا کنندگان سے اپیل کی تھی کہ ان کے بیٹے کو مسمان اور عرب ہونے کے نام پر رہا کر دیا جائے۔ دوسری جانب بغداد کی بدنام زمانہ ابو غریب جیل کی سابق انچارج امریکی خاتون جنرل یانس کارپنسکی نےگزشتہ روز دعوٰی کیا تھا کہ ان کے پاس اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ عراق میں قیدیوں سے تفتیش میں اسرائیلی ایجنٹ بھی شریک رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||