عراق میں ’بم فیکٹری‘ پر چھاپہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں موجود امریکی فوج نے کہا ہے کہ انہوں نے ایک ایسی جگہ کا پتہ چلایا ہے جسے باغی امریکی فوج پر حملوں میں استعمال کیے جانے والے کار بم اور دیگر دھماکہ خیز مواد کی تیاری کے لیے استعمال کرتے تھے۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے چھاپے کے دوران اس فیکٹری کا سراغ لگایا جو دارالحکومت بغداد کے جنوب میں واقع ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک نامعلوم جگہ سے بھاری تعداد میں اسلحہ اور پیسہ بھی برآمد کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ مختلف مقامات پر چھاپوں کے دوران بم تیار کرنے والا ساز و سامان، اسلحہ اور گولہ بارود بھی ملا ہے اور اس ضمن میں پوچھ گچھ کے لیے اکاون افراد کو بھی حراست میں لیاگیا ہے۔ لیفٹننٹ کرنل جیمز ہٹن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بڑی تعداد میں اسلحہ کا سراغ ملنا عراقی فورسز کے خلاف سرگرم عناصر کے لیے ایک دھچکے کے مترادف ہے۔ عراق میں امریکی فوجیوں پر کیے گئے کار بم اور سڑک کے کنارے پر نصب حملوں کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہو سکے ہیں۔ ہفتے کو بھی ایک امریکی فوجی جو حملے میں زخمی ہو گیا تھا، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا ہے۔ پولینڈ کی وزارت دفاع نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ پولینڈ کی فوج نے شدت پسندوں کی جانب سے وار ہیڈ خریدنے کی کوششوں کو ناکام بنا دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||