بغداد بم دھماکہ میں 35 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی دارالحکومت بغداد کے ایک فوجی بھرتی کے مرکز پر کار بم حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب پینتیس سے زائد بتائی جارہی ہے جبکہ ایک سو چالیس کے قریب افراد زخمی ہوئے ہیں۔ بڑی تعداد میں زخمیوں کو ایمبولینسوں کے ذریعے بغداد کے دو ہسپتالوں میں لایا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ بلاد کے قصبے میں بھی چھ عراقیوں کی ہلاکت کی خبر ہے۔ امریکی فوجی حکام کے مطابق یہ خودکش حملہ تھا۔ دھماکہ اس وقت ہوا جب آتشگیر مواد سے بھری گاڑی سو افراد کے مجمع میں گھس گئی جو رضاکارانہ طور پر فوج میں تعیناتی کے لیے مرکز کے باہر قطاروں میں جمع تھے۔ دھماکے سے ملبہ چار سڑک والی ہائی وے پر دور دور تک بکھر گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق خون سے سرخ ہونے والی سڑک پر ایک توپ کے گولے کا خول بھی دیکھا گیا ہے۔ عراقی وزیر صحت نے کہا ہے کہ متاثرین کی تعداد بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ فوجی بھرتی کا یہ مرکز بغداد کے مغرب میں ایک پرانے ایئر پورٹ کی عمارت میں قائم کیا گیا تھا۔ پہلے اسے بطور فوجی اڈہ استعمال کیا جاتا تھا تاہم فروری میں ایک کار بم حملے کے بعد اسے فوجی بھرتی کا مرکز بنادیا گیا۔ اس حملے میں سینتالیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||