بغداد دھماکے میں گیارہ ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی دارالحکومت بغداد کے وسط میں ہونے والے ایک شدید کار بم دھماکے کے باعث دو برطانوی باشندوں سمیت کم از کم گیارہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ دھماکے کے باعث ایک قریبی گھر تباہ ہو گیا۔ عراقی وزیراعظم ایاد علاوی نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں پانچ غیر ملکی ٹھیکے دار بھی شامل ہیں۔ عینی شاہدین اور پولیس کے مطابق یہ واقعہ صبح سویرے تحریر سکوائر کے کاروباری علاقے میں ہوا جب وہاں لوگوں کا خاصا ہجوم تھا۔ عراقی پولیس اہلکار کے مطابق ایک گاڑی دھماکے سے اس وقت پھٹی جب دو بڑی گاڑیاں اس کے قریب سے گزریں۔ یہ بڑی گاڑیاں عموماً امریکی فوجی حکام کے زیر استعمال رہتی ہیں۔ بغداد میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار ڈومیتھا لوتھرا کا کہنا ہے کہ سڑک پر تباہ شدہ گاڑی کے ٹکڑے بکھرے دکھائی دے رہے تھے اور قریب سے گزرنے والے ’خدا سب سے بڑا ہے‘ اور ’امریکہ مردہ باد‘ کے نعرے بلند کر رہے تھے۔ اس واقعہ سے ایک روز پہلے بغداد میں امریکی فوج کے صدر دفتر کے باہر ہونے والے خودکش کار بم دھماکے کے باعث کم از کم سات عراقی ہلاک ہو گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||