امریکی ناکامی پر شام کا اطمینان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوعراق میں پھیلی بے چینی تمام عرب ممالک کے لئے پریشانی کا باعث ہے تاہم یہاں جمہوریت لانے کے امریکی منصوبہ کی ناکامی دمشق کے لئے کچھ طمانیت کا باعث ہے۔ عراق میں صدام حسین کا گرتا ہوا مجسمہ دیکھ کر بہت سے شامیوں نے سوچا کہ کیا کسی دن حافظ الاسد کا مجسمہ بھی گرے گا؟۔ شامی حکام بھی عراق میں بدلتے ہوئے مناظر کو دیکھ کر سوچ رہے تھے کہ کیا انھیں بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا ہو گا۔لیکن ایک سال کے بعد وہ اس بات پر متفق ہیں کہ امریکی طریقۂ کار سے تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔ ابھی جب کہ امریکی ٹینک سرحد سے دو سو پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر ہیں شامی حکام سکون کی نیند نہیں سو رہے۔شام کے صدر بشر الاسد کا خیال ہے کہ امریکی عراق میں اتنا مصروف رہیں گے کہ ان کے پاس اگلے دروازے کی طرف دیکھنا مشکل ہو گا۔ مشرقِ وسطیٰ میں وقوع پذیر دیگر واقعات پر بھی شام سکون کا سانس لے رہا ہے۔ امریکی صدر جارج بش حماس کے رہنما شیخ احمد یاسین کے قتل سے قبل شام پر پابندیاں عائد کرنے والے تھے لیکن فیصلہ اس وجہ سے ملتوی کر دیا گیا کہ خطہ میں تلخی مزید نہ بڑھے۔ گزشتہ سال عراق پر حملہ کے فوری بعد امریکی نظریں شام پر تھیں۔ امریکہ نے دمشق پر الزام لگایا تھا کہ اس نے عراق کونہ صرف فوجی آلات بھیجے بلکہ عرب رضا کاروں کو امریکیوں کے خلاف لڑنے کے لئے اپنی سرحد بھی پار کرنے کی اجازت دی۔امریکہ نے شام کو حماس جیسےانتہا پسند گروپوں کی حمایت کرنے کا بھی ذمہ دار ٹھرایا ہے۔ عراق اور شام کے درمیان سرحد بھی وجہ نزع ہے۔ امریکہ مسلسل کہہ رہا ہے کہ شام جنگجوؤں کو روکنے میں ناکام رہا ہے ۔ جنگ کے ابتدائی چند ہفتوں میں تو عربوں کی کئی بسیں عراق آئیں۔
جب کہ شام کا کہنا ہے کہ سرحد اس قدر طویل ہے کہ اس کی مکمل نگرانی ممکن نہیں اور اس ضمن میں وہ امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سرحد کی مثال دیتا ہے۔ ایک لبنانی اخبار کے مطابق اب امریکہ نے شام اور لبنان کے معاملات کی نگرانی یورپ میں امریکی کمانڈ سے واپس لے کر مرکزی کمانڈ قطر کے حوالے کر دی ہے۔ ایک حکومت مخالف شخص کا کہنا ہے کہ امریکہ شام کے بارے میں سنجیدہ ہے اور اس کے خلاف کارروائی ضرور کرے گا۔ اس کا کہنا ہے کہ ’امریکہ نے عراق کے خلاف تیاریوں میں کئی سال لئے۔ اس کے خلاف بیرون ملک اپوزیشن تیار کی، پابندیاں عائد کیں لیکن شام کے خلاف اس نے یہ سب کچھ سات ماہ میں کر لیا ہے۔‘ دوسرے مبصرین کا خیال ہے کہ امریکہ شام پر علامتی پابندیاں لگانے کے علاوہ کچھ نہیں کرے گا۔ ان تمام باتوں کے باوجود دمشق میں یہ تاثر تیزی سے پھیل رہی ہے کہ شام میں بعث پارٹی زوال پذیر ہے۔ گزشتہ ماہ ایک فٹ بال میچ میں پولیس فائرنگ سے ہلاکتوں کے بعد شامی کردوں نے فساد برپا کیا۔اور حالیہ دنوں میں ایسے اور بھی فسادات ہوئے ہیں اور کرد اکثریتی علاقوں میں صدر بشر الاسد کی حثیت کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔ شام کے عوام ہمسایہ ملک میں صدام حکومت ختم ہونے کے واقعات سے خوفزدہ ہیں اور دانشور اور حقوقِ انسانی کے علمبردار حکومت سے تبدیلیاں لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||