ایران اور شام پر امریکی الزامات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر ِدفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے شام اور ایران پر الزام لگایا کہ وہ شدت پسندوں کو عراق میں داخل ہونے کے لئے اپنی سرحدیں پار کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ رمز فیلڈ نے بغداد پہنچنے پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شام اور ایران عراقی عوام کی مدد نہیں کر رہے ۔ انہوں نے مزید کہا ہمیں علم ہے کہ ایران نے القاعدہ کے اراکین کو پناہ دے رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ القاعدہ سرحد پار سے لوگ بھیج رہی ہے اور بلاشبہ ایران کو اسکا علم ہے۔ شام نے اس بات کی تردید کی ہے کہ عراق میں سلامتی کی صورتِ حال کے بارے میں اس پر واشنگٹن کا دباؤ ہے۔ امریکی وزیرِدفاع کاعراق کا دورہ پہلے سے طے تھا۔صدام حکومت کے خاتمے کے بعد رمزفلیڈ کا عراق کا یہ چوتھا دورہ ہے۔ خیال ہے کہ وہ بغداد اور مجموعی طور پر پورے عراق میں امریکی افواج کم کرنے کے منصوبوں کا جائزہ لیں گے ۔ انکے اس دورے سے قبل اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے سلامتی کونسل کو اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سن دو ہزار چار کے آخر تک عراق میں انتخابات کرائے جا سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ عراق میں سیکیورٹی کی صورت حال ابھی بھی تشویش ناک ہے اور انتخابات کے لئے دائرہِ کار پر اتفاقِ رائے ہونا ضروری ہے۔ پیر کو کر کک میں ہونے والے تازہ دھماکے سے عراقیوں کے ہاتھ میں سیکیورٹی کےمعاملات سونپنے کی کوششوں کو دھجکا لگا ہے۔ دریں اثنا کرکک میں ایک پولیس اسٹیشن پر کار بم دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد تیرہ ہوگئی ہے ۔ موقع پر موجود بی بی سی کے نامہ نگار سٹیون سیکر نے بتایا کہ یہ بم کردوں کی آبادی میں پھٹا ہے ۔ اس سال یہ کم از کم چوتھا دھماکہ ہے جس میں عراقی سیکیورٹی سروسز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جس وقت یہ دھماکہ ہوا اس وقت شفٹ تبدیل ہو رہی تھی اور پولیس اسٹیشن عملے سے بھرا ہو تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی طاقت ور بم تھا جس سے لوگوں کے جسم کے پرخچے اڑ گئے ۔ اسٹیون سیکر کا کہنا ہے کہ اس حملے کا نشانہ عراقی پولیس تھی اور وہاں کوئی امریکی موجود نہیں تھا ۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ عراقی باغی سمجھتے ہیں کہ عراقی پولیس افسران امریکیوں کے ساتھ ساز باز کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||