رفيق الحريري قتل، کوفی رپورٹ کریں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے سیکریٹری جنرل کوفی عنان سے لبنان کے سابق وزیر اعظم رفيق الحريري کے قتل کے بارے میں فوری طور پر رپورٹ پیش کرنے کے لیے کہا ہے۔ سکیورٹی کونسل نے کوفی عنان سے کہا ہے کہ جن حالات میں رفيق الحريري کا قتل ہوا ہے اس قتل کے اسباب اور اس کے اثرات کا جائزہ لے کر رپورٹ مرتب کریں۔ سکیورٹی کونسل نے رفيق الحريري کے قتل کی مذمت کرتے ہوئےاسے دہشت گردی قرار دیا۔ سکیورٹی کونسل نے کہا کہ رفيق الحريري کے قتل سے لبنان میں ہونےوالے پارلیمانی انتخبات پر کوئی اثر نہیں پڑنا چاہیے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق رفيق الحريري پر ہونے والے حملہ ایک خود کش حملہ تھا۔ امریکی وزیرخارجہ کونڈولیزا رائس نے شام کو خبردار کیا ہے کہ وہ بقول ان کے لبنان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔ ان کا یہ انتباہ دمشق سے امریکی سفیر کو واشنگٹن بلائے جانے کے فوری بعد سامنے آیا ہے جن کوبیروت میں سابق لبنانی وزیر اعظم رفيق الحريري کے قتل کے نتیجے میں واپس بلایا گیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے مطابق شام میں امریکی سفیر مارگریٹ سکوبی کو صلاح و مشورے کے لیے واشگٹن طلب کیا جا رہا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق امریکی سفیر نے شام کی حکومت کو رفيق الحريري کے قتل پر امریکہ کے رد عمل سے تحریری طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ امریکہ نے شام کی حکومت کو رفيق الحريري کے قتل کا براہراست ذمہ دار نہیں ٹھہرایا ہے تاہم امریکی حکومت نے کہا کہ اس قتل نے لبنان میں شامی فوج کی موجودگی سے پیدا ہونے والے تضادات کو اجاگر کر دیا ہے۔ امریکہ نے اس قتل کے بعد لبنان سے شام فوج کی واپسی کا مطالبہ دہرایا ہے۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار نے کہا ہے کہ امریکہ کا کہنا ہے کہ مسلمان انتہا پسند شام کے ذریعے عراق میں موجود امریکی فوج پر حملے کر رہے ہیں۔ اسی دوران لبنان کی حکومت نے فرانس کی طرف سے رفيق الحريري کے قتل کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کرانے کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔ لبنان کے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ بین الاقوامی سطح کی تحقیقیات کا مطالبہ بالکل نا قابل قبول ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس قتل کی تحقیقات کرانے کے لیے بین الاقوامی ماہرین کی مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||