بیروت: فوج چوکنا ہو گئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیر کو لبنان کے سابق وزیراعظم کے بیروت میں ایک کار بم حملے میں بظاہر قتل کے بعد لبنانی فوج کو انتہائی چوکس رہنے کا حکام جاری کر دیا گیا ہے۔ سابق وزیراعظم رفیق حریری کی ہلاکت پر لبنان میں تین دن کے سرکاری سوگ کا اعلان کر دیا گیا ہے جس دوران دکانیں، سکول اور عوامی ادارے بھی بند رہیں گے۔ سابق بیروتی وزیراعظم کی ہلاکت پر غور و خوض کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلایا جائے گا کیونکہ اس واقعہ کے سبب ملک نئے بحران کا شکار ہو گیا ہے۔ بیروت میں حزب اختلاف نے حکومت اور شام کو حریری کی بم دھماکے میں ہلاکت کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ حزب اختلاف نے بیروت سے شامی فوجوں کی واپسی کے اُس مطالبے کو دہرایا ہے جسے بش انتظامیہ کی حمایت بھی حاصل ہے۔ تاہم شام نے اس واقعہ میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے اور اسے ایک ’خوفناک مجرمانہ اقدام‘ قرار دیا ہے۔ بیروت کے وسط میں ہونے والے اس بم حملے میں کم سے کم نو مزید افراد بھی ہلاک ہوئے گئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں حریری کے محافظ بھی شامل تھے۔ دھماکے سے بیس کے قریب گاڑیوں کو اور قریبی عمارتوں کو آگ لگ گئی۔ رفیق حریری کی ہلاکت کے بعد فوج کی طرف سے جاری ہونے والے ایک اعلان میں کہا کہ تمام فوجی یونٹوں کو انتہائی چوکس رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حملے کے وقت حریری پارلیمان سے گھر جا رہے تھے۔ اس حملے میں بہت سے لوگ زخمی بھی ہوئے۔
حریری نے لبنان میں انیس سو نوّے میں خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد سے کافی عرصہ ملک کی قیادت کی ہے۔ انہوں نے گزشتہ سال اکتوبر میں شام نواز صدر کے ساتھ بڑھتے ہوئے اختلافات کے بعد وزیر اعظم کی حیثیت سے استعفیٰٰ دے دیا تھا۔ حریری نے حال میں حزب اختلاف کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ مل کر ملک سے شام کی فوجوں کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا۔ حزب اختلاف نے حریری کے قتل کا ذمہ دار لبنان اور شام کی حکومتوں کو ٹھرایا ہے۔ حزب اختلاف نے لبنان کی حکومت کے استعفیٰ اور لبنان سے شامی فوج کے انخلاء کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مئی کے عام انتخابات سے پہلے شامی فوج کو ملک سے نکل جانا چاہیے۔ شام کے صدر بشرالاسد نے رفیق حریری کے قتل کی مذمت کی ہے اور اسے بہیمانہ مجرمانہ کارروائی قرار دیا ہے۔ واشنگٹن میں وائٹ ہاوس نے بھی اس قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ تشدد سے پاک ماحول اور شام کے تسلط سے آزاد ہو کر کرنے کا موقع ملانا چاہیے۔ واشنگٹن میں شام کے سفیر امد مصطفیٰ نے امریکی حکومت کے رد عمل کو مایوس کن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سانحے سے سیاسی نمبر حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو کہ افسوس ناک امر ہے۔ فرانس کے صدر ژاک شیراک نے اس حملے کی بین الاقوامی سطح پر تحقیق کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ژاک شیراک کے حریری کے ساتھ ذاتی تعلقات تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||